PDA

View Full Version : Sanbhly Hove Giran Khawab Chini Aur Hum Bhatky Loog - Saeed Asi - 29th April 2015



Realpaki
29th April 2015, 12:01 PM
آج دو خبریں پڑھ کر دل بہت مغموم تھا۔ طلال اکبر بگتی کے اچانک سانحۂ ارتحال کی خبر پڑھ کر 2006ء میں ڈیرہ بگتی میں جاری مشرف کے فوجی اپریشن والے بلوچستان کے حالات نگاہوں میں گھومنے لگے۔ پاکستان بھر کے صحافی پی ایف یو جے کے پلیٹ فارم پر کوئٹہ کے دورے پر تھے۔ اس وقت کے بلوچ قوم پرست ہی نہیں، جماعت اسلامی کے لوگوں کی زبانیں بھی فوجی اپریشن کے حوالے سے وفاق کی سلامتی کے معاملہ میں زہر اگلتی نظر آ رہی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے نواب لشکری رئیسانی بھی ایسا ہی ماحول اوڑھے نظر آئے اور اس وقت کی حکمران پارٹیوں مسلم لیگ (ق) اور جے یو آئی (ف) کی مقامی قیادتیں بھی کیل کانٹوں سے لیس نظر آئیں۔ طلال بگتی نے بگتی ہائوس میں ہمارے لئے ظہرانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ نواب اکبر بگتی کے داماد سنیٹر شاہد بگتی کا خون بھی جوش مارتا نظر آیا مگر طلال بگتی قومی تفکر کا اظہار کر کے دانشمندی کی تصویر بن گئے۔ ہم نے ڈیرہ بگتی جانے کی خواہش کا اظہار کیا جہاں نواب اکبر بگتی کسی غار میں چھپے فوجی اپریشن کی مزاحمت کر رہے تھے۔ طلال بگتی ہمیں وہاں لیجانے کا رسک لینے پر آمادہ نہ ہوئے تاہم اپنے والد نواب اکبر بگتی سے اپنے خفیہ رابطوں کا ضرور انکشاف کیا۔ بلوچ قوم پرست لیڈروں کے مقابلے میں ان کی سوچ بہت تعمیری تھی حالانکہ آپریشن براہ راست ان کے گھر کے خلاف ہو رہا تھا۔ پھر بھی وہ سلجھائو کی تدبیریں پیش کرتے رہے۔ ہمارے اس دورے کے ڈیڑھ دو ماہ بعد ہی فوجی اپریشن کے دوران نواب اکبر بگتی کے جاں بحق ہونے کا سانحہ رونما ہو گیا جس سے صرف ایک ہفتہ قبل جنرل مشرف کا رعونت بھرا یہ دعویٰ میڈیا پر آ چکا تھا کہ انہیں (نواب اکبر بگتی کو) پتہ ہی نہیں چلے گا کہ انہیں کس چیز نے ہٹ کیا اور وہ وہیں ڈھیر ہو جائیں گے۔ نواب اکبر بگتی کی ہلاکت نے بھی بلوچستان کی زہرناک فضائوں پر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا اور ناراض بلوچ قوم پرستوں کی شکل میں موجود علیحدگی پسند عناصر کو بھارت نے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ وہ دن اور آج کا دن، یہ عناصر ملک کی سالمیت کو ہٹ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے مگر طلال بگتی نے اپنے والد مرحوم کی جمہوری وطن پارٹی کی کمان سنبھالتے ہی بلوچ قوم پرستی کو وطن پرستی میں تبدیل کر لیا اور وفاق اور اس کی اکائیوں کے مابین تعلقات کی مضبوطی کیلئے فکرمند رہنے لگے جس کے لئے انہوں نے تواتر کے ساتھ اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں کے دورے شروع کر دیئے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری سانس تک اپنے اس مشن کے ساتھ جڑے رہے جبکہ ان کے صاحبزادے شاہ زین بگتی ناراض بلوچ قوم پرستوں ہی کی طرح بدگمان نظر آئے۔ آج طلال بگتی کے ناگہانی انتقال کی خبر نے مجھے اس لئے افسردہ کر دیا ہے کہ مجھے وفاق اور اس کی اکائیوں کے مابین طلال بگتی کی شکل میں قائم ہونے والا رابطے کا پل ٹوٹتا نظر آیا ہے۔ بدگمانیاں تو پہلے ہی بہت بڑھ چکی ہیں، اگر رابطے کی نازک ڈور بھی معدوم ہو گئی تو خدا خیر کرے ؎
قافلہ ہٹنے لگا ہے اپنی منزل سے پرے
بے خبر ہے قافلہ سالار، الٰہی خیر ہو
بیچ ہے منجدھار آسی اور ساحل دور ہے
کیسے ہو گا اپنا بیڑہ پار، الٰہی خیر ہو
دوسری خبر مایوسی ہی نہیں میرے لئے ذہنی اذیت کا بھی باعث بنی جو امتدادِ زمانہ کی ستائی ماضی کی معروف اور یکتائے روزگار ٹی وی آرٹسٹ روحی بانو کے کسی متشدد جنونی کے ہاتھوں زخمی ہونے کی تھی۔ 80ء کی دہائی کا وہ زمانہ جب جنرل ضیاء کے مارشل لاء کی سختیاں عروج پر تھیں، پی ٹی وی ڈراموں کے عروج کا بھی زمانہ بن گیا کہ ان ڈراموں کے ذریعہ ہی کتھارسس کی راہ نکالی گئی تھی۔ وارث اور سونا چاندی سیریل کے علاوہ لانگ پلے کی روحی بانو ہی روح رواں ہوا کرتی تھیں۔ مسحورکن شخصیت کی مالک روحی بانو کا کوئی ٹی وی پلے چلتا تو سڑکیں سنسان ہو جاتیں اور ہر عمر کے لوگ ان کا ڈرامہ دیکھنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ (ایم نے نفسیات) یہ ٹی وی آرٹسٹ عملاً لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنی رہی۔ مجھے آج بھی یاد ہے، پنجاب یونیورسٹی کی ایک تقریب میں جنرل ضیاء الحق بطور مہمان خصوصی مدعو تھے۔ اس وقت کے وزیر دفاع علی احمد تالپور بھی ان کے ہمراہ آئے تھے۔ اس تقریب میں روحی بانو کو بطور خاص معزز مہمانوں سے متعارف کرایا گیا۔ علی احمد تالپور نے بے ساختہ روحی بانو سے مصافحہ کے لئے ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تو وہ بے رخی کے ساتھ پیچھے ہٹ گئیں۔ روحی بانو ہی اس تقریب کی مرکز نگاہ بنی رہیں اور پھر حالات کے تھپیڑوں نے انہیں اتنا چکرایا کہ وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو گئیں۔ ان کے فائونٹین ہائوس چکر لگنا شروع ہوئے اور اس دوران بعض جنونیوں نے ان کی زندگی کے واحد سہارے ان کے نو عمر بیٹے کو ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا۔ اس کے بعد تو روحی بانو سنبھل ہی نہیں سکیں۔ ان کا جھریوں بھرا چہرہ ان کی ماضی کی عظمتوں پر غالب آ گیا۔ اپنے گھر میں تنہا پڑی روز جینے، روز مرنے کے مراحل نہ جانے وہ کس بے بسی کے ساتھ طے کر رہی تھیں کہ ان کے مکان پر للچائی نظریں گاڑے ان کے مقتول بیٹے کے دوست سے مزید صبر نہ ہو سکا اور گزشتہ روز اس نے روحی بانو کے گھر میں گھس کر ان سے مکان کی سیل ڈیڈ پر زبردستی دستخط کرانے کی کوشش کی۔ روحی بانو نے اپنی ذہنی کیفیت کے باوجود مزاحمت کی تو جنونی نے مایوس ہو کر ان کے سر پر لوہے کی کوئی چیز دے ماری۔ یا خدا ایسے سفاک لوگ بھی اس روئے زمین پر موجود ہیں جنہیں ذہنی معذوروں پر بھی ترس نہیں آتا اور وہ اپنے سفلی جذبات کی تسکین ہی اپنا مقصد حیات بنا لیتے ہیں۔ ارے یہی تو قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ اس سفاک مردود کو گرفتار تو کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لینے کا فرض ادا کر دیا ہے ؎ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
ایسی افسردہ خبروں کے ساتھ ایک مخولیہ خبر عمران خاں کے بیان کی شکل میں نظر آئی تو ماحول پر طاری ہونے والی افسردگی کے باوجود ہنسی روکنا مشکل ہو گیا۔ کوئی چالیس سال قبل آداب عرض میں اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا لطیفہ عمران خاں کی ذاتِ شریف پر بھی دہرانے کو بے ساختہ دل کر رہا ہے۔ کسی مشاعرے میں کوئی حیات صاحب ظریفانہ شاعری فرما رہے تھے کہ ایک شاعر نواز نے انہیں داد دیتے ہوئے حد ہی کر دی ارے واہ حیات۔ واہ حیات، واہیات، واہیات تو آج عمران خاں کی ظریفانہ کٹ حجتی بھی ان کے بارے میں میرے حسنِ ظن کو واہ حیات سے واہیات تک لے جا رہی ہے۔
جوڈیشل کمشن نے گزشتہ روز انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے حوالے سے تمام متعلقہ سیاسی جماعتوں کے لئے سوالنامہ جاری کیا جس میں یہ پوچھا گیا ہے کہ اگر انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی ہے تو کس نے کس کے ذریعے کرائی ہے۔ اگر اس ٹھوس سوال کا ثبوتوں کے ساتھ ٹھوس جواب دیا جائے گا تو ہی منظم دھاندلی کا کیس ثابت ہو پائے گا مگر صدقے جائیں عمران خاں کے ذہن رسا کے کہ انہوں نے جھٹ پٹ یہ جواب دے ڈالا کہ جوڈیشل کمشن کے اس سوالنامہ کے سارے جواب انتخابی تھیلوں میں موجود ہیں۔ جوڈیشل کمشن کی تشکیل تک تو عمران خاں ہر روز یہ دعویٰ کرتے نظر آتے تھے کہ انتخابی دھاندلیوں کے ثبوتوں کے ساتھ میرا کمرہ بھرا پڑا ہے تو حضور والا! ثبوتوں سے لدا پھندا یہ کمرہ بھی کسی انتخابی دھاندلی کی نذر ہو گیا ہے؟ اب تھیلوں سے برآمد ہونے والا ہر بیلٹ پیپر گواہی دے گا کہ اسے کس ہاتھ نے کیسے استعمال کیا اور کیسے بیلٹ بکس میں ڈالا ؟
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرہ تو ایک قطرہ خوں نہ نکلا
بھائی صاحب! کراچی ضمنی انتخاب اور پھر کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابی نتائج نے بھی تو منظم دھاندلی کے بارے میں آپ کے الزامات کے کافی ثبوت مہیا کر دئیے ہیں۔ حکمران تو آپ کے جارحانہ پراپیگنڈے سے جھینپ کر ایسے ہی سکڑے بیٹھے رہے ہیں ورنہ آپ کی اس عوامی مقبولیت کو تو وہ فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرا کے بھی کیش کرا سکتے ہیں۔ اب آپ خود کو واہیات والا لطیفہ ہی بنانے پر بضد ہیں تو افسردہ ماحول میں ذہنی طراوت کا اہتمام کرنے کو ہمارا بھی دل کرتا ہے۔