PDA

View Full Version : Pakistan Aaik rah Dari Hum Sab Amrici Chokidar - Dr Muhammad Ajmal Niyazi - 18th May 2012



Realpaki
18th May 2012, 10:45 AM
نیٹو سپلائی کی بحالی کے لئے ایک ڈیل ہوئی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور نیٹو ممالک ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی حکومت سیاسی جماعتیں یعنی پوری سیاسی قیادت ہے اور عسکری قیادت بھی ہے۔ تو پھر یہ ڈیل نہیں ہے گرانڈیل ہے۔ اس میں ہر ایک کا حصہ ہے۔ حصہ بڑا ذومعنی لفظ ہے مگر بامعنی نہیں ہے اور بے معنی بھی نہیں ہے۔ اب تک بحالی کا معاملہ بظاہر نہیں ہو رہا تھا تو یہ بھی ڈیل ہی کا حصہ تھا۔ یہاں تک بھی باتیں ہوئیں کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ بھی کسی انڈر سٹینڈنگ کا نتیجہ تھا۔ ورنہ نیٹو فورسز کوئی بے وقوف نہیں۔ یہ حملہ سوچ سمجھ کر جان بوجھ کر کیا گیا۔ نیٹو فورسز کا سرحدی خلاف ورزی اور پھر خاص طور پر پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ۔ حملہ بھی ایسا کہ 24 فوجی شہید کر دئیے گئے اور وہ چپ چاپ مر گئے کوئی حرکت بھی نہ کی۔ حملہ آوروں کو بار بار پیغام دیا گیا۔ مگر انہوں نے پرواہ نہ کی۔ دو اڑھائی گھنٹے کی کارروائی میں ہماری طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی۔ کیا جنرل کیانی بتائیں گے کہ فورسز پر دو اڑھائی گھنٹے کے حملے میں بھی کارروائی نہیں ہوئی تو اس کا کیا مطلب ہے؟ ایبٹ آباد میں بھی دو اڑھائی گھنٹے کی امریکی کارروائی ہوئی تھی۔ آئی ایس آئی کے چیف جنرل پاشا کا اس حوالے سے رویہ قوم کے لئے عجیب تھا۔ سیاسی اور عسکری قیادت دونوں نے قوم کو پریشان کر دیا۔
نیٹو سپلائی پر پابندی لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ بدقسمت قوم اس سے بڑی بڑی بدنامیاں اور ناکامیاں پھر سے برداشت کر چکی ہے۔ اب صبر کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں رہا۔ میرے خیال میں اس ضرب المثل کے لئے برمحل صورتحال اس سے بڑھ کر کیا ہو گی۔ کہ ہم نے سو گنڈھے (پیاز) بھی کھائے اور........۔ قوم سے یہی کہا گیا کہ ہم قومی مفاد اور قومی غیرت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ مجھے بتایا جائے کہ اب تک حکومتی سیاسی قیادت نے کوئی ایسا سمجھوتہ کیا ہے۔ ہم نے سقوط مشرقی پاکستان کی ذلت بھی قبول کر لی۔ اس میں سیاسی اور قومی قیادت برابر کی شریک تھی۔
معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ قوم صدر زرداری، وزیراعظم گیلانی، نوازشریف، عمران خان، اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمن، الطاف حسین اور سب چھوٹے بڑے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے تو مایوس ہے۔ اب جنرل کیانی سے بھی مایوس ہے۔ جنرل اسلم بیگ جس انداز میں جنرل درانی پر الزام لگا رہے ہیں اور وہ جنرل اسلم بیگ پر۔ اب جرنیلوں کی الزام بازی سیاستدانوں کی الزام بازی کی طرح بن گئی ہے۔
کتنے شرم کا مقام ہے کہ ابھی کچھ دیر پہلے شکاگو کانفرنس میں نہ بلانے کی امریکی دھمکیاں آ رہی تھیں۔ اب یہ دعوت مل گئی ہے اور صدر زرداری نے بھی قبول کر لی ہے۔ اس دعوت میں ایک عداوت بھی ہے۔ اس پر غور کرنے کا موقع صدر زرداری کے پاس کہاں ہے۔ ہمارے کسی صدر وزیراعظم کسی حکمران جرنیل اور سیاستدان کی طرف سے کبھی اس جرات کا اظہار نہیں ہوا جس سے قوم کو عزت مندی ملتی اور تاریخ بھی سرخرو ہوتی۔ صدر زرداری کیوں شکاگو کانفرنس میں جانے سے انکار کریں۔ دعوت ملنے کے باوجود انکار ان کو زندہ کر دیتا پھر سارے اقرار ان کے قدموں میں ڈھیر ہو جاتے۔ مگر ہمارے حکمران خود ڈھیر ہونے کے لئے ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ شکاگو کانفرنس کا دعوت نامہ بھی ڈیل کا حصہ ہے شاید؟
خدا کی قسم کوئی بھی وزیراعظم اور صدر ہوتا وہ یہی کرتا جو کیا جا رہا ہے۔ وزارت عظمٰی کے لئے بالکل تیار لوگ بھی اب جو کچھ کہہ رہے ہیں۔ وہ بھی فرینڈلی اپوزیشن اور امریکی غلامی کے سوا کچھ نہیں۔ عمران خاں نوازشریف بھارت سے تجارت کے لئے بھی امریکی اشارے پر نثار ہو رہے ہیں۔ نیٹو سپلائی کی بحالی تو معاملہ ہی امریکہ کا ہے۔ کوئی سیاستدان حکمران اور جرنیل ایسا نہیں ہے جو امریکہ کی ذرا سی مخالفت برداشت کر سکے۔ کوئی بیان ہی دے سکے جو امریکی پالیسی کے خلاف ہو۔ قائد حزب اختلاف چودھری نثار کہتا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بحالی شرمناک ہے۔ کسی صورت بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ حالانکہ پارلیمنٹ نے مشروط بحالی کے لئے جو قرارداد منظور کی ہے۔ اس پر چودھری نثار کے دستخط موجود ہیں۔ غیر مشروط بحالی کے لئے بھی سب متفق ہیں۔ یہ سب نورا کشتی ہے اور فرینڈلی اپوزیشن کی ادائیں ہیں۔ کچھ کج ادائی بھی ہے۔ ظفر اقبال جھگڑا کو ڈھنگ سے جھگڑا کرنا بھی نہیں آتا وہ نیٹو سپلائی کے لئے پاکستانی حکومت پر اعتراض کر رہا ہے۔ وہ اپنے لیڈر سے پوچھ کر بتائے کہ کیا وہ امریکہ کے لئے کوئی ایسی بات بھی کر سکتے ہیں جس میں اعتراض کا شائبہ بھی ہو۔ امریکہ عراق جنگ کے لئے نوازشریف نے امریکہ کا ساتھ دیا تھا جبکہ ساری قوم امریکہ کے خلاف تھی۔ ایٹمی دھماکوں کی بات بار بار کی جاتی ہے۔ دھماکے تو مجید نظامی کی دھمکی کے نتیجے میں ہوئے۔ ورنہ ہر کوئی کہتا ہے کہ نوازشریف ایٹمی دھماکوں کے خلاف تھے۔ جس ملک بھارت کے خلاف یہ ایٹمی دھماکے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ امریکی اشارے پر دوستی کے لئے نوازشریف اپنی حد سے بھی باہر نکلے جا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ ایٹمی دھماکے انہوں نے بھارت کے خلاف نہیں کئے تھے؟
نیٹو سپلائی کی بندش صرف فائدے کے لئے تھی۔ اب کنٹینر کے حساب سے کرایہ مقرر ہو گا۔ اس کے ساتھ امریکہ نے سکیورٹی کی ذمہ داری بھی ہم پر تھوپ دی ہے۔ میرا خیال ہے کہ سکیورٹی کے اخراجات کرائے سے زیادہ ہونگے۔ امریکہ کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اور ہم پھر نقصان میں ہونگے۔ امریکیوں کی خدمت میں اب یہ بھی اضافہ ہو جائے گا ہماری حیثیت صرف راہداری کی ہو گی۔ امریکہ نیٹو فورسز اور بھارت کی راہداری۔ اس ”تجارت“ میں ہمارا صرف خسارہ ہو گا۔ دفاع پاکستان کونسل والے اور طالبان اعلانیہ دھمکی دے رہے ہیں۔ کنٹینرز پر حملے طالبان کریں گے اور دفاع پاکستان کونسل والے کنٹینر کے آگے لیٹ جائیں گے۔ جنرل حمید گل اور منور حسن سڑک پر لیٹے ہوئے ہوں تو کسی کی جرات ہے کہ کنٹینر ان پر چڑھا دے۔ لوگوں کی سکیورٹی اس کے بعد تو بالکل معدوم ہو جائے گی۔ دہشت گردوں کے لئے کھلی چھٹی ہو گی۔ وہ جہاں چاہیں گے جب چاہیں گے دھماکے کریں گے۔ حملے کریں گے۔
نوازشریف سے ملنے بھارتی وزیراعظم واجپائی واہگہ کے راستے آیا تھا۔ تب سے یہ طے ہو گیا تھا کہ پاکستان ایک راہداری ہے اور واہگہ اس کا ایک دروازہ ہو گا۔ یہ خبر نہ تھی کہ کئی دروازے ہونگے۔ ہم نے یہ دروازے بھارت اور امریکہ کے لئے کھلے چھوڑے ہوئے ہیں۔