PDA

View Full Version : Sabit HO Gaya , Juwa Mafia Ka Champion Bharat He Hai - Hafiz Muhammad Imran - 18th May 2012



Realpaki
18th May 2012, 10:47 AM
حافظ محمد عمران
بی سی سی آئی نے انڈین پریمیئر لیگ میں میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث پانچ بھارتی کھلاڑیوں کو معطل کرکے کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث کھلاڑیوں پر کرکٹ کے دروازے بند کر دیئے ہیں اور اس واقعے کی تحقیقات کے لئے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ بھارتی ٹی وی چینل کے سٹنگ آپریشن میں آئی پی ایل کا وہ مکروہ چہرہ دکھایا ہے جسے ایک عرصے تک چھیایا جاتا رہا ہے۔ کرکٹ جسے شرفا کا کھیل کہا جاتا ہے اور اس کھیل میں تیزی سے پھیلتی ہوئی کرپشن اور کھلاڑیوں کی طرف سے پیسوں کے عوض غیر معیاری کارکردگی کا مظاہرہ کرنا سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونا اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ پیسے کے لئے میچ کے نتیجے تک کو بدلنے کے لئے ڈیل کر لینے کے واقعات نے ”گیم آف جینٹلمین“ کی سپرٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ حالیہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی بھی ہے اگر ہم ماضی میں جھانکیں تو کرکٹ میں میچ فکسنگ کے واقعات جب جب رونما ہوئے سب کے تانے بانے بھارت سے جا ملتے ہیں۔ بات ہنسی کرونیئے، اظہرالدین، ہرشل گبز، مارون سیموئلز کی ہو یا پھر دیگر نامور کھلاڑیوں کی مشکوک سرگرمیوں کی تمام واقعات میں بھارت کے جوا مافیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا ذکر ملتا ہے۔ حتی کہ ہمارے تین پاکستانی کھلاڑی سلمان بٹ، آصف اور عامر بھی بھارتی جوا مافیا کی سازش کا شکار ہوا ہے۔ حالیہ تنازع سے یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ بھارت میں جوئے کی لعنت صرف آئی پی ایل تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ وبا ڈومیسٹک کرکٹ تک پھیلی ہوئی ہے اور تیزی سے کھیل کے حسن کو گہنا رہی ہے۔ آئی پی ایل اور اس جیسی دیگر ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے حوالے سے پی سی بی کے سابق چیئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فکسنگ اس طرز کے مقابلوں میں ہوتی ہے جب کہ کرکٹ بورڈ کے ایک اور سابق چیئرمین شہریار خان بھارت کو جوئے کا گڑھ قرار دے چکے ہیں۔ سابق کپتان راشد لطیف نے تو کہا ہے کہ ہر جگہ فکسنگ ہو رہی ہے۔ اس ساری صورتحال میں آئی سی سی کا کردار خاصا مشکوک ہوتا جا رہا ہے اور تسلسل سے میچ فکسنگ کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن یونٹ کے کردار پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ سرفراز نواز کے مطابق آئی سی سی کا اینٹی کرکٹ یونٹ پیسے کا ضیاع ہے۔ حالیہ تنازع میں ایک مرتبہ پھر آئی سی سی خاموش تماشائی بنا نظر آتا ہے باوجود اس کے کہ انڈین پریمیئر لیگ آئی سی سی کا منظور شدہ ٹورنامنٹ ہے اس میں وسیع پیمانے پر مالی عبن اور میچ فکسنگ کے واقعات کی وجہ سے پوری دنیا میں کرکٹ کے معاملات اور نظم ونسق چلانے والے ادارے پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں ایک مرتبہ پھر یہ بحث جاری ہے کہ بھارت کے معاملے میں آئی سی سی اتنی کمزور کیوں نظر آتی ہے۔ بھارت کو جوئے میچ فکسنگ، سپاٹ فکسنگ اور جوا مافیا کا چیمپئن کہا جاتا ہے۔ کرکٹ کی اصل روح کو خراب کرنے، شائقین کے جذبات کو مجروح کرنے اور کھلاڑیوں کو بے ایمان بنانے میں بھارت کے لوگوں کا ایک بڑا حصہ ہے۔ آئی پی ایل کے سابق کمشنر للٹ مودی کے دور میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے باوجود آج بھی ”جوا لیگ“ جاری و ساری ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سارے معاملے میں بڑی احتیاط سے کام لینا ہو گا۔کیونکہ سیالکوٹ سٹالینز کی ٹیم نے چیمپئنز لیگ میں شرکت کے لئے بھارت جانا ہے۔ وہاں پاکستانی کھلاڑیوں کو بھانسنے کے لئے ”جرائم پیشہ“ بھارتیوں نے جال بچھا رکھے ہوں گے۔ کھلاڑیوں کو بھی باخبر، محتاط اور ہوشیار رہنا ہو گا اس کے ساتھ ساتھ ٹیم انتظامیہ کو بھی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔ ہماری رائے میں تو کرکٹ بورڈ کو سیالکوٹ سٹالینز کی ٹیم کو بھارت بھیجنے سے ہی انکار کر دینا چاہئے۔