PDA

View Full Version : Turkey Ba Tukey - Dr Muhammad Ajmal Niyazi - 23rd May 2012



mubasshar
23rd May 2012, 06:32 AM
ترک وزیراعظم طیب اردگان نے خطے میں پاکستان کو ایک طاقتور ملک بنانے کے لئے ترکی اور پاکستان کے درمیان تجارتی معاملات کو بڑھانے پر زوردیا۔ تو اب نوازشریف اور وزیراعظم گیلانی کو بھارت کے ساتھ تجارت کو بھول جانا چاہئے اور ترکی کے ساتھ اقتصادی روابط کی بات کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے انڈیا زندہ باد نہیں ترکی زندہ باد۔ تجارت کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ یہ تجارت سراسر خسارے کا سودا ہے۔ طیب اردگان کا یہ دورہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ ترکی میں جمہوریت بھی ہے اور اسلام بھی ہے۔ ہمارے حکمران سیاستدان کچھ دانشور اور صحافی سمجھتے ہیں کہ جمہوریت صرف سیکولر ملکوں میں آ سکتی ہے۔ ترکی، عالم اسلام کے لئے رول ماڈل بنتا جا رہا ہے۔
ترک وزیراعظم طیب اردگان نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو رگڑا لگایا۔ اپوزیشن کا کام حکومت کو ہٹانا نہیں۔ درست راستہ دکھانا ہے۔ طیب صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری اپوزیشن کے نزدیک حکومت کے لئے درست راستہ یہی ہے کہ وہ سیدھی گھر چلی جائے۔ نوازشریف بار بار کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم گیلانی کو گھر بھیج کر دم لیں گے۔ وہ پارلیمنٹ میں آئے ہی نہیں کہ کہیں ترک وزیراعظم کی بات ماننا نہ پڑ جائے۔ وہ پارلیمنٹ کے رکن ہوتے تو شائد اپنے برادر خورد اور اپوزیشن لیڈر کے جلو میں پارلیمنٹ میں آ ہی جاتے۔ حکومت کو گھر کا راستہ دکھانے میں کبھی چار پانچ سال لگ جاتے ہیں، ورنہ دو تین سال میں یہ کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔ اپوزیشن خواہ نوازشریف کی ہو یا بے نظیر بھٹو کی۔ یہ صرف خواہ مخواہ ہوتی ہے۔ دونوں پارٹیوں پی پی پی اور مسلم لیگ ن یعنی بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کی حکومتیں دو دفعہ گئیں دو دفعہ آئیں۔ انہیں یہ پتہ نہیں چلا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ان کے ساتھ مذاق ہوا یعنی توہین ہوئی۔ مذاق مذاق میں حکومت گئی مذاق مذاق میں حکومت ملی۔ دونوں نے بڑی دیر کے بعد سانجھی جلاوطنی کے بعد یہ راز پا لیا۔ اور میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔ جب دونوں کو ہم وطنی ملی تو پھر میثاق جمہوریت مذاق جمہوریت بن گیا۔ اور وہی مذاق شروع ہو گیا جو ختم ہو گیا تھا۔ تیسری بار بے نظیر بھٹو کی شہادت کے صلے میں زرداری صاحب کو اقتدار ملا جس میں وزیراعظم گیلانی نے اپنا حصہ لے لیا۔ پاکستان میں اقتدار بھی بھیک میں مل جاتا ہے۔ پہلے یہ خیال تھا کہ اقتدار میں اوروں کا بھی حصہ ہو گا۔ حکومت میں بھی اپوزیشن شامل ہوئی اپنے پرانے دشمن جنرل مشرف سے مسلم لیگ ن کے کچھ شیر جوانوں نے حلف بھی اٹھایا۔ شیر اُن کا انتخابی نشان ہے۔ مگر اقتدار میں شریک ہونے کا مزا نہ آیا تو فرینڈلی اپوزیشن بن گئی یا بحال ہو گئی۔ اپوزیشن میں جس طرح کی پوزیشن کی امید تھی۔ وہ نہ ملی۔ سیاسی لوگ صوفی نہیں ہوتے۔ اس لئے بلھے شاہ کا یہ مصرعہ ان کی سمجھ میں کیسے آ سکتا تھا۔ تینوں اکو الف درکار۔ فرینڈلی اپوزیشن جب بپھرتی ہے تو اس کا مظاہرہ عابد شیر علی قومی اسمبلی میں ایک معزز خاتون سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے ساتھ بدتمیزی کر کے کرتے ہیں۔
اتنے میں نیٹو سپلائی کی بحالی کا چکر چل پڑا۔ حکومت اور اپوزیشن کو لوگوں کی بدحالی کا احساس نہیں۔ بے حالی کا بھی نہیں۔ وہ صرف اپنے اپنے اقتدار کی بحالی کے لئے لڑتے ہیں۔ کوئی بھی امریکہ کی مخالفت مول نہیں لے سکتا۔ اب تو کوئی بھارت کی دشمنی بھی مول نہیں لے سکتا۔ ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان کو وزیراعظم گیلانی نے اس موقعے پر بلایا ہے کہ اپوزیشن کو درست راستے پر لانا ہے۔ ترکی نیٹو کا ممبر بھی ہے۔ کسی نے ترک وزیراعظم سے اس ضمن میں بات نہیں کی۔ اس نے یقیناً بات کی ہو گی۔ یہ بات لوگوں کو کبھی پتہ نہیں چلے گی۔
پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے چودھری نثار کی قیادت میں کوئی چوں چرا نہیں کی۔ مولانا فضل الرحمن چودھری نثار کو اپوزیشن لیڈر ہی نہیں مانتے۔ یکلخت یہ فیصلہ حضرت مولانا نے کیا ہے۔ جب سے شریف برادران اور چودھری نثار نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ ہم گیلانی کو وزیراعظم نہیں مانتے۔ وہ صدر زرداری کو بھی نہ ماننے کا اعلان کرتے رہتے ہیں مگر وہ ایوان صدر میں ہیں۔ گیلانی وزیراعظم ہاﺅس میں ہیں۔ نوازشریف رائے ونڈ میں ہیں۔ عمران بھی اپنے 300 کنال کے بنگلے میں ہے۔ کون کسی کو اپنے گھر سے نکال سکا ہے۔ ہمارے سیاستدان اور حکمران جہاں ہوتے ہیں اُسے اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔
نوازشریف اور شہباز شریف بھی ترکی کے بہت دورے کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں میئر استنبول کا بھی لاہور میں جو استقبال ہوا۔ وہ وزیراعظم ترکی سے کم نہ تھا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی ترک وزیراعظم کو بلایا ہے تو پارلیمنٹ میں مسلم لیگ ن والے بھی آرام سے بیٹھے ہیں۔ حتٰی کہ عابد شیر علی نے بھی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو معاف رکھا ہے۔ شہباز شریف وزیراعظم سے بچتے بچاتے ایوان میں پہنچے۔ چودھری نثار نے ترک وزیراعظم طیب سے ہاتھ ملایا مگر پاکستانی وزیراعظم گیلانی سے ہاتھ نہیں ملایا۔ شہباز شریف نے قائم علی شاہ کو جپھی ڈالی اور لطیف کھوسہ سے ہاتھ بھی نہیں ملایا۔ آج نوازشریف سے طیب اردگان کی ملاقات ہوئی ہے۔ وہ ذاتی طور پر بھی مشورہ دے سکتے تھے مگر انہوں نے سیاستدانوں اور صحافیوں کے سامنے یہ اعلان کیا کہ اپوزیشن کو تنقید برائے تنقید نہیں کرنا چاہئے۔ تعمیری تنقید ملک و قوم کے لئے بھی بہتر ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں تو مخالفوں کے اچھے کام بھی بُرے ہوتے ہیں اور اپنے بُرے کام بھی اچھے ہوتے ہیں۔
حکومت والوں کو بھی ڈانٹ ڈپٹ کی کہ جمہوریت آسان نہیں۔ اپوزیشن اصلاحات کی تجاویز لائے اور حکومت اصلاحات کرے دونوں کاموں پر کوئی بھی عمل نہیں کرے گا۔ ترکی نے یہی کام کر کے اپنے ملک کو وقار دیا ہے اعتبار دیا ہے۔ جو باتیں ترک وزیراعظم نے پاکستان کے لئے پاکستانی قوم کے لئے کہیں وہ بہت شاندار ہیں۔ اقتصادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے۔
ترک وزیراعظم نے ترکی زبان میں بات کی۔ وزیراعظم گیلانی اور اپوزیشن لیڈر چودھری نثار نے انگریزی زبان میں تقریر کی۔ ترک وزیراعظم کی تقریر کا ترجمہ بھی انگریزی میں کیا گیا۔ کہتے ہیں زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم۔ اس کے باوجود ہم محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس کے لئے بھی ترکی بہ ترکی جواب دینا چاہئے۔ ہمارے حکمرانوں کو اردو زبان میں تقریر کرنا چاہئے تھی۔ ترک وزیراعظم کے لئے محبت کی زبان اردو ہے ہماری طرف سے۔