PDA

View Full Version : America Ki University Main Pakistani Flag - Tiyaba Zia- 23rd May 2012



mubasshar
23rd May 2012, 06:35 AM
نیویارک کی معروف درسگاہ ہافسٹرا یونیورسٹی میں تقسیم اسناد کے موقع پر سٹیج میں جہاں امریکہ اور دیگر چند ممالک کے جھنڈے لہرا رہے تھے وہاں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بھی لہرا رہاتھا۔امریکہ کی یونیورسٹیوں میں اکثریت غیر ملکی سٹوڈنٹس کی ہے جو کہ یہاں کی درسگاہوں کے بزنس کا اہم ذریعہ ہیں مگر نائن الیون کے واقعہ کے بعد غیر ملکی سٹوڈنٹس کے لئے امریکہ کے ویزے جاری نہیں کئے جا رہے جس کی وجہ امریکی تعصب ہے۔اس ملک میں بڑھتے ہوئے تعصبانہ واقعات کی وجہ سے غیر ملکی سٹوڈنٹس بھی امریکہ آتے ہوئے گھبرانے لگے ہیں جبکہ یہاں کی یوینورسٹیاں غیر ملکی سٹوڈنٹس کو ویلکم کرتی ہیں۔حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یونیورسٹیوں کا بزنس خراب ہو رہاہے۔اعلیٰ تعلیم میںدوسری رکاوٹ جاب پرابلم بن رہی ہے ۔ نوجوان طبقہ اعلیٰ تعلیم سے مایوس ہوتا جا رہا ہے۔ ہافسٹرا یونیورسٹی میں پاکستان کا پرچم لہرانا اس بات کی علامت ہے کہ ہماری یونیورسٹی تعصب سے پاک ہے ۔ یونیورسٹی میں چند پاکستانی سٹوڈٹنس زیر تعلیم ہیں،جب ان کے نام پکارے گئے تو پاکستانی پرچم لہرانے کا عقدہ کھلا۔ہافسٹرا یونیورسٹی نے اس سال بھی اپنی روایت کو قائم رکھا اور امریکی و غیر امریکی میں تعصب کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ان کے اس مثبت اقدام کو دیکھ کر امریکنوں کا اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے اور غیر ملکی سٹوڈنٹس کی حوصلہ افزائی کے جذبے کو سراہا گیا۔گریجویشن کی تقریب میں جان اور اس کی فیملی کو دیکھ مسرت ہوئی ۔یہ قوم زندگی کی کامیابیوںکو منانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتی خاص طور پر اپنی اولاد کی تعلیمی اور دیگرسرگرمیوں کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ گریجویشن تقریب سے ایک روز پہلے جان اور اس کے دوستوں نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ ایک ڈنر کا اہتمام کیا۔اس پر مسرت موقع پر جان کی نانی بھی موجود تھیں۔ خوش مزاج نانی میرے ساتھ بھی بڑی گرمجوشی کے ساتھ ملیں اور اپنا تعارف کراتے ہوئی بولیں کہ میں اپنے لاڈلے جان کی پیاری نانی ہوں۔
بہّتر سالہ نانی امریکی خواتین کی طرح ہشاش بشاش،صحت مند اور خوش لباس تھیں۔تمام مہمان گپ شپ اور کھانے پینے میں خوب مشغول تھے۔جان کی خوش اخلاق ماں کے قہقہوں نے تقریب کو مزید پر رونق بنا رکھا تھاکہ جان کی نانی کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی اور وہ کرسی سے نیچے گھاس پر ڈھیر ہو گئیں۔تمام مہمان خوفزدہ ہو گئے اور ۔انہیں بچانے کی سر توڑ کوشش کی گئی۔جان کی ماں کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی ماں کی اس سے پہلے ایسی حالت نہیں دیکھی۔پولیس کو کال کر دی گئی مگر جان کی نانی کا سانس اٹک رہا تھا ،پولیس پہنچ گئی مگر جان کی نانی دم توڑ گئیں۔پولیس انہیں ایمبولنس میں ڈال کر لے گئی،جان کا خاندان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ یہ سب اتنا اچانک اور خوفناک طریقے سے ہوا کہ وہاں موجود بچے سہم گئے تھے۔اگلے لمحے کی کسی کو خبر نہیں۔ خوشی کی ایک تقریب دیکھتے ہی دیکھتے آہوں اور سسکیوں میں بدل گئی۔ زندگی اور موت کا منظر ایک کھلی کتاب کی طرح سامنے تھا۔وہاں موجود تمام سٹوڈنٹس رو رہے تھے جبکہ میرا بیٹا بُت بنا کھڑاتھا۔ایک صحت مند خاتون کوچند منٹ پہلے ہنستے اور گپ شپ لگاتے دیکھاہو اور چند منٹ بعد اس کا سانس بند ہوجائے تو زندگی پر کس احمق کو اعتبار رہتا ہے۔ہم زندگی کی اس تلخ حقیقت کو جان چکے ہیں شاید اسی لئے جان کی فیملی ہمارے گلے لگ کر روتی رہی۔ موت انسان کو اللہ کی موجودگی کا یقین دلا دیتی ہے۔جان کے خاندان کے ساتھ رات کو یہ افسوسناک واقعہ پیش آےا جبکہ دوسرے دن جان اپنے خاندان کے ساتھ گریجویشن کی تقریب میں شامل تھا ۔اس کی ماں اور بہنیں بھیگی پلکوں کے ساتھ سب کے ساتھ ہنس ہنس کر مل رہی تھیں اور میں سوچ رہی تھی کہ یہ قوم زندگی کے سفر کے ساتھ رواں دواں رہتی ہے۔اگر یہ واقعہ کسی پاکستانی کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو وہ دوسرے روز بچے کی ڈگری کی پر وقار تقریب میں شرکت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے،کچھ تو ان پرغم کا غلبہ ہوتا اور کچھ یہ جملہ ان کے آڑے آجاتاکہ لوگ کیا کہیں گے کہ رات اس کی ماں مری ہے اور آج سجی سنوری بچے کی خوشی منا رہی ہے مگر جان کی ماں نے حسب عادت اپنے بچے کی اس اہم خوشی کو بھر پور طریقے سے منایا البتہ میرے گلے لگ کر سر گوشی میں اتنا ضرور کہا کہ ہم مائیں بڑی سخت جان ہوتی ہیں، اپنی اولاد کی خاطر اپنے دکھ میٹھے زہر کی طرح پینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ جان کو بھی پاکستانی نواسوں کی طرح اپنی نانی سے بے پناہ محبت ہے ۔رشتوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ممتا کا صرف ایک مذہب ہے اور وہ ہے ایثار اور قربانی۔جان کی ماں کو اپنی ماں کی جدائی کا بے حد قلق ہے مگر وہ ماں کی موت کا تذکرہ کرنے کی بجائے اپنے بیٹے کو ڈگری ملنے پر مبارک دے رہی تھی۔ وہاں موجود تمام دوست چار سال کی محنت کے بعد اس مہنگی ڈگری کے ملنے پر بے حدخوش تھے البتہ مستقبل کے بارے میں فکر مند بھی تھے۔بیروزگاری کی تشویشناک صورتحال پر بھی بات ہوئی۔ نوجوان مایوس دکھائی دے رہے تھے۔اکثر کا کہنا تھا کہ ڈگری تو لے لی ، آگے بے یقینی منتظر ہے۔امریکہ کا مستقبل جب مایوسی کا اظہار کرے تو دنیا کے حالات کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔امریکہ کے عوام بالخصوص نوجوان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بیہودہ پالیسی سے عاجز آ چکے ہیں۔نوجوانوں کوروزگار کی فکر ہے لیکن امریکہ کی سیاست افغانستان اور نیٹو کے اطراف گھوم رہی ہے۔امریکہ کا ایک پڑھا لکھا شہری حکومت کی بین الاقوامی پالیسی کو نا پسند کرتا ہے۔امریکنوں کاپاکستان کے خلاف غم وغصہ ان کی حکومتوں کا پیدا کردہ ہے ۔ان نفرتوں کو انتخابات میں استعمال کیا جا ئے گا۔جان کی نانی کا حادثہ افسوس ناک تھا مگر ہافسٹرایونیورسٹی کی گراﺅنڈ میں پاکستانی پرچم لہراتا دیکھ کر دل کو قرار آگیا۔ تعصب کی فضا کو زائل کرنے کی ایک اچھی کوشش ہے ۔جان کو نانی کی اچانک جدائی کا صدمہ ہے مگر اس کے ہاتھ میں ڈگری نے اس میں ایک نیا ولولہ پیدا کر دیا اور اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ وہ خدا کا شکر گزار ہے کہ اس کی نانی کو اتنی مہلت مل گئی کہ وہ میری زندگی کی ایک عظیم خوشی میں شامل ہو سکیں۔