PDA

View Full Version : جہالت ، حماقت یا سادگی ۔۔۔؟ - Tiyaba Zia- 25th May 2012



mubasshar
25th May 2012, 10:26 AM
اس کو خواہ میری تنگ نظری سمجھا جائے یا تعصب، میں دو جملے ابھی تک ہضم نہیں کر سکی اور نہ ہی شاید کبھی ہضم کر سکوں گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا بھارتی وفد کے سامنے بھارت زندہ باد کہنا اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا ملکی حالات سے دل برداشتہ پاکستانیوں کو یہ کہنا کہ وہ ملک چھوڑ کیوں نہیں جاتے، انہیں کس نے روکا ہے۔ تردید کا اب زمانہ گزر چکا، اب ہر جملہ کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیا جاتا ہے اور انٹرنیٹ یو ٹیوب میں نشر ہو جاتا ہے۔ میاں شہباز شریف نے بھارتی تجارتی وفد سے انگریزی میں ایک پڑھی لکھی تقریر کی اور تقریر کے اختتام پر پڑھے لکھے انداز اور دھیمی آواز میںپاکستان زندہ باد اور انڈیا زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پاکستانی قوم کا ایک نمائندہ ، چیف منسٹر اور وہ بھی (مسلم لیگی) جب پاک سرزمین پر کھڑا ہو کر بھارت زندہ باد کہتا ہے تو خون کھولنے لگتا ہے۔ ایک عام شہری ایسی بات کہتا تو نظر انداز کی جا سکتی تھی مگر جس عہدے اور جس پارٹی اور نظریہ کے ساتھ میاں شہباز شریف کا تعلق ہے، یہ جملہ ہضم کرنا مشکل ہے۔ میاں شہباز کے اس جملے سے نہ صرف محب وطن پاکستانیوں بلکہ کشمیریوں کے دل کا بھی خون ہوا ہے۔ جو شخص بیماری کی حالت اور بے ہوشی کے عالم میں بھی ملک و قوم کے لئے متفکر پایا گیا، اس کی زبان سے انڈیا زندہ باد سُن کر بے حد دکھ ہوا۔ اس قسم کے جملے پاک بھارت تجارت کی راہ ہموار کرنے کے لئے نہیں ہندووں کو خوش کرنے کے لئے بو لے جاتے ہیں۔ دوسرا جملہ یوسف رضا گیلانی نے فرمایا جس سے موصوف کی علمیت گنجے کی ٹنڈ کی طرح عیاں ہو گئی۔ ایک غیر ملکی میڈیا نے انٹرویو کے دوران وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے جب پوچھا کہ ایک تہائی پاکستانی ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ چلے کیوں نہیں جاتے، انہیں کس نے روک رکھا ہے۔ یہ جواب موصوف کے دل کی آواز ہے کہ پاگل دے پترو، چلے کیوں نہیں جاندے، بھلا پاکستان وی کوئی رہن والی جگہ اے! پیپلز پارٹی کے لوگ ان کی بات کی دلیل پیش کرتے ہیں کہ پاکستان ایک آزاد جمہوری ملک ہے اور لوگ جب چاہیں اسے چھوڑ سکتے ہیں (بشرطیکہ کوئی دوسرا ملک انہیں قبول کرنے کو تیار ہو) اگر کوئی شخص اپنے وطن کو الوداع کہنا چاہتا ہے تو ملک کا وزیراعظم بھی اسے نہیں روک سکتا۔ وزیراعظم کے جملے کو درست ثابت کرنے کے لئے نہ تو کوئی دلیل پیش کی جا سکتی ہے اور نہ جواز، ایک جمہوری وزیراعظم کے منہ سے اس قسم کے احمقانہ جملے کی توقع نہیں کی جا سکتی البتہ پپو کچھ بھی کہہ سکتا ہے وزیراعظم اور میاں شہباز شریف کے ایسے جملوں سے عوام کے زخمی جذبات کو مزید لہولہان کیا گیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے مجبور پاکستانیوں کو مسائل کا حل بتانے کی بجائے انہیں ریشماں کے ساتھ بھاگ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ وزیراعظم کی زبان سے یہ جملہ پاکستانیوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ حکمرانوں کی اندرون و بیرون ملک ایک آنے کی عزت نہیں مگر ڈھٹائی کی انتہا ہے کہ نہ استعفے دیتے ہیں اور نہ بے معنی گفتگو سے گریز کرتے ہیں۔ ملک چھوڑ جانے کی بات وہی کر سکتا ہے جس کی زندگی موت کی صورت گزر رہی ہو وگرنہ اپنا ملک اور پیار کرنے والے رشتوں کو چھوڑ کر دیار غیر کے دھکے کھانا آسان نہیں جبکہ حقائق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 18کروڑکے قریب ہے جبکہ اس کے وسائل کے پیش نظر ملک کی آبادی10 کروڑ سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے، رقبے کے اعتبار سے36ویں، اقتصادی حجم کے اعتبار سے28 ویں، برآمدات کے اعتبار سے68ویں، فی کس آمدنی کے اعتبار سے 174ویں، سرمایہ کاری کے اعتبار سے 178ویں اور حکومتی قرضے کے اعتبار سے 42ویں درجے پر ہے۔ صحت پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے 142ویں پوزیشن پر ہے جبکہ تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے یہ ملک 82ویں پوزیشن پر ہے۔ پاکستان کی قریباً نصف آبادی غیر تعلیم یافتہ ہے، اب اگر پاکستانیوں کی ایک تہائی تعداد ملک چھوڑ جاتی ہے تو ملک کی آبادی میں کمی آ جائے گی اور طلب و رسد کے درمیان فرق بھی کم ہو جائے گا۔ ایک تہائی آبادی کی بیرون ملک ہجرت سے ملک میں خوشحالی آئے گی مگر ان تمام فوائد کے حصول کے لئے پپو کی حکومت کو بیرون ملک کے ویزوں اور وہاں روزگار کے مسائل کو بھی حل کرنا ہو گا۔ صرف یہ کہہ دینا کہ انہیں جانے سے کون روک رہا ہے کافی نہیں، اس قسم کے جواب کی توقع ایک جاہل ساس سے تو کی جا سکتی ہے، ملک کے وزیراعظم سے نہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی جس عہدے پر بیٹھے ہیں انہیں اس کا وقار بحال رکھنا ہو گا۔ پاکستان کے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ مَندا بولن توں چُپ چنگی لایعنی جملوں اور بیانات سے خاموشی ہزار درجے بہتر ہے، اس سے کم از کم ان کی جہالت، حماقت یا سادگی کا پردہ قائم رہ سکتا ہے۔!