PDA

View Full Version : شکیل آفریدی ریمنڈ ڈیوس اور عافیہ صدیقی - Dr Muhammad Ajmal



mubasshar
26th May 2012, 10:42 AM
مجھے ایک دوست نے فون پر کہا کہ امریکہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بھی ریمنڈ ڈیوس کی طرح پروٹوکول کے ساتھ لے جائے گا۔ جو بھی امریکی جاسوس ہے اور پاکستان میں ہے وہ امریکہ کو اتنا ہی عزیز ہے جتنا ریمنڈ ڈیوس ہے۔ امریکہ کیلئے اب اپنے جاسوسوں کیلئے پاکستانیوں کی اہمیت امریکیوں سے زیادہ ہے۔ دنیا میں غداروں کی فہرست میں سب سے زیادہ نام مسلمانوں کے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس نے تو دن دیہاڑے قتل بھی کئے تھے۔ دو اپنے ہاتھ سے اور باقی دو بھی اسی کیلئے قتل ہوئے۔ تیسرے کو ریمنڈ ڈیوس کی مدد کیلئے آنے والوں نے کچل دیا اور چوتھی نے اسلئے خودکشی کی کہ اسے وفاقی اور صوبائی حکومت سے انصاف کی امید نہ تھی۔ ہمارے حکمران اور سیاستدان بزدل کرپٹ اور ظالم ہیں۔ امریکہ کے آگے تو وہ لیٹے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور بھارت کے معاملے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں متحد ہیں اور ایک دوسرے پر نمبر لے جانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ خودکشی کرنے والی بھی مقتولہ ہے۔ اسے اپنے مقتول شوہر کے بھائیوں بہنوں اور ماں باپ پر بھی بھروسہ نہ تھا۔ ایک افواہ یہ بھی ہے کہ اسے قتل کیا گیا کہ وہ خوں بہا کیلئے راضی نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے پیارے کے خون کا سودا کر لیا ہے۔ اس سودے میں حکمران اور سیاستدان بھی شامل تھے بعد میں ایبٹ آباد کا دو مئی کا سانحہ بھی ریمنڈ ڈیوس کی نگرانی میں ہوا تھا۔ اس کیلئے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے بڑی خدمات سرانجام دی تھیں۔ اسامہ کی عدم موجودگی کی موجودگی میں بدلنے کیلئے بھی جاسوسی کی ضرورت تھی۔ یہ بڑا مشکل کام تھا۔ یہ کام ریمنڈ ڈیوس اور شکیل آفریدی ہی کر سکتے تھے۔ اسی لئے شکیل امریکہ کو ریمنڈ کی طرح عزیز ہے۔ ریمنڈ کی محفوظ گرفتاری پر بھی صدر ابامہ نے رہائی کی اپیل کی تھی۔ کئی امریکی آئے مگر آخر میں جان کیری آیا تھا اور خون بہا (ریت) کا بہانہ بنا کے مقتولین کے ورثا کو بلیک میل کر کے ریمنڈ ڈیوس کو چھڑا لے گیا۔ یہ مشورہ امریکیوں کو امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے دیا تھا۔ وہ پاکستان میں امریکی سفیر سے بھی زیادہ امریکہ کا پسندیدہ آدمی ہے۔ حسین حقانی جماعت اسلامی میں تھا۔ وہ جماعت سے نکل گیا تھا اور اسے اسلام کو بھی امریکہ کیلئے استعمال کرنے کے طریقے آ گئے تھے۔
تب ڈالروں کی کشش سے پہلے مقتول کی ماں نے یہ کہا تھا کہ امریکہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا کر دے تو ہم ریمنڈ کو معاف کر دیں گے۔ لوگوں نے اس جذبے کو پسند کیا تھا مگر بہادر اور ایمان و یقین والی ڈاکٹر عافیہ کی ماں صابر شاکر اور اللہ والی عظیم خاتون نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ قتل ہونے والے بچے میرے بچے ہیں۔ میں اپنی بیٹی کیلئے اپنے بچوں کے خون کا سودا نہیں کروں گی۔ مگر قتل ہونے والے بچوں کی ماں نے اپنے بیٹوں کا خون بیچ دیا جو وطن پاک کی خاک میں مل گیا تھا۔
خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا
متوالوں کے عزیز ٹھیک کہتے تھے کہ ہمارے بچوں کے خون کی تجارت اور سیاست حکمرانوں اور سیاستدانوں نے کرنا ہی کرنا تھی۔ وہ ہمیں زبردستی آ کے پیسے دے گئے۔ بہت سے خود کھا پی گئے۔
امریکہ شکیل آفریدی کیلئے کیوں بے قرار نہ ہو۔ امریکہ کی دوسرے نمبر کی حکمران سیکرٹری آف سٹیٹ (وزیر خارجہ) ہلیری کلنٹن نے بہت بیہودہ اور پاکستان کو شرمندہ کرنے والا بیان دیا ہے۔ ہماری حکومت تو ان کی لونڈی اور زرخرید ہے۔ ہماری عدالت کو بھی وہ نہیں مانتے۔ صدر ابامہ نے تب ریمنڈ کیلئے بہت مہذب طریقے سے بات کی تھی اور سفارت کار ہونے کی حیثیت سے عالمی قوانین کے مطابق مہربانی کرنے کی اپیل کی۔ اب صدر ابامہ بھی بھیک دینے والا مغرور آدمی بن گیا ہے۔ جو پیسے دیتا ہے اور شرمندہ بھی کرتا ہے۔ ہلیری نے تو ہماری توہین کی ہے۔ عدالت کے فیصلے کو بے جواز یعنی بے انصافی پر مبنی قرار دیا ہے۔ حکم دیا ہے کہ اسے رہا کر دیا جائے اور افغانستان بھجوانے کا بندوبست کیا جائے تاکہ وہ وہاں پاکستان کے خلاف جاسوسی کی کارروائیوں کی نگرانی کر سکے۔ کئی ریمنڈ ڈیوس اور شکیل آفریدی پاکستان میں موجود ہیں اور بلاخوف و خطر امریکہ کے مفاد میں یعنی پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ امریکہ اب اپنے مفاد کو پاکستان کیلئے امداد کے ساتھ ملا کے دیکھتا ہے۔ امریکی سینٹ کمیٹی نے شکیل آفریدی کی 33 سال سزا کے بعد 33 ملین ڈالر کی امداد کم کر دی ہے۔ اس سے پہلے نیٹو سپلائی بحال نہ کرنے پر بھی امداد کم کی جا چکی ہے۔ یہ کتنی بے غیرتی ہے اور پاکستان میں بے غیرت لابی کیلئے خوشی کی بات ہے۔ وہ امریکی غلامی اور امریکی بھیک کو غیرت بلکہ بے غیرتی سمھجتے ہیں۔ بے غیرتی کیلئے اعزاز اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔
ہمارا ترجمان دفتر خارجہ ہاتھ باندھ کے بیان دیتا ہے کہ جناب یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ امریکہ ہنستا ہے کہ بیرونی معاملات تو ہم نے اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں۔ اب آپ کے اندرونی معاملات بھی ہمارے کنٹرول میں ہیں۔ بیرونی معاملات کو خارجہ امور اور اندرونی معاملات کو داخلہ امور کہتے ہیں۔ یہ دونوں امور امریکی غلامی اور بھیک کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ حیرت ہے کہ ہم نے وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کیوں بنائے ہوئے ہیں۔ حنا ربانی کھر امریکہ کے مفادات کو دیکھتی ہیں اور رحمان ملک برطانوی مفادات کی نگرانی کرتے ہیں۔ رحمان ملک برطانوی شہریت زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔ حنا ربانی کھر کو حسین حقانی امریکی شہریت آفر کر چکے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ دونوں ایک ہیں۔
بلاول بھٹو کا بیان کچھ اچھا لگا ہے۔ اس نے کہا ابھی وقت ہے کہ امریکہ سلالہ واقعہ کیلئے معافی مانگ لے۔ یہ کس وقت کی نوید ہے۔ ہم اس وقت کا عمر بھر سے انتظار کر رہے ہیں۔ بلاول کا یہ جملہ بھی اہم ہے۔ ہم اپنے فوجیوں کے خون کو امریکی امداد سے نہیں ناپتے۔ صدر زرداری کا طرز عمل اور ردعمل اب تک حوصلہ افزا اور حیران کن ہے۔ بلاول اپنے والد کو استقامت کا مشورہ بھی دے۔ شکیل آفریدی کیلئے بھی بلاول نے کہا پوری دنیا میں جو بھی اپنے ملک کی جاسوسی کسی غیر ملکی کیلئے کرے گا سزا پائے گا۔ اس نے امریکہ کو بالواسطہ طور پر غیر ملک کہا ہے۔ جو اچھا لگا ہے۔
ہلیری کا رویہ حافظ سعید کیلئے بھی بالکل نامناسب اور بھارت نواز ہے۔ یہ خاتون کبھی اچھی لگتی تھی اور اب بہت بری لگتی ہے۔ وہ صحیح معنوں میں ایک جھگڑالو ساس کا کردار ادا کر رہی ہے۔ میں آخر میں یہ کہوں گا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جرم بے گناہی کی سزا ایک امریکی عدالت نے 83 سال دی۔ ساری دنیا نے امریکہ پر لعنت بھیجی۔ یہ اسلئے کیا گیا کہ امریکی فوجی جھوٹے بھی ہوں تو عدالت ان کی بات مان لیتی ہے۔ ہمارے ہاں ہمارے فوجیوں کو امریکہ کی ایما پر برا بھلا کہا جا رہا ہے۔ ان کے بچے بھی ہمارے خوفزدہ سیاستدان ماننے کیلئے تیار نہیں۔ ہلیری پہلے ہماری ایک بے گناہ بیٹی کو رہا کرائے۔ وہ دہشت گرد نہیں اور شکیل آفریدی دہشت گردوں سے بھی بڑا دہشت گرد ہے۔ جاسوس کی سزا موت ہے۔ ہمارے ملک میں ہزاروں جاسوس ہیں۔