PDA

View Full Version : شیری رحمان کی شیرنیاں اور بھارتی دہشت گرد -



Realpaki
27th May 2012, 10:15 AM
امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی سے بھی آگے نکل گئی ہے۔ اس نے امریکہ کو خوش کرنے کیلئے بھارت کو بھی خوش کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ عدالت سے سزائے موت پانے والے بھارت کے جاسوس اور دہشت گرد سر بجیت سنگھ کو ایک ہفتے میں رہا کر دیا جائے گا۔ اس رہائی سے اس کا کیا تعلق ہے۔ وہ یہ بھی کہہ دیتی کہ عدالت سے بری ہونے والے حافظ سعید کو ایک ہفتے میں بھارت کے حوالے کر دیا جائے گا تو اس کی سیٹ پکی ہو جائے گی۔ پہلے بھی اسے وزیر اطلاعات کی کرسی سے ہٹایا گیا تھا۔ اس نے یہ جرات ”رحمانہ“ کر لی تھی کہ رحمان ملک میری وزارت یعنی میرے ”کاموں“ میں مداخلت کرتا ہے۔ یہ بھی رحمان ملک کی مداخلت تھی؟ کہ شیری رحمان کو نکال باہر کیا گیا۔ اسے بہت پریشانی ہوئی۔ اس کا خیال تھا کہ اس کی گذشتہ موجودہ اور آئندہ خدمات کی وجہ سے صدر زرداری رحمان ملک کی ڈانٹ ڈپٹ ہی کریں گے مگر رحمان ملک کی ”خدمات“ اس سے بہت ”زیادہ“ ہیں پھر شیری نے بہت کوشش کی کہ دوبارہ وزیر بن جاوں مگر اس کی ساری ”شیرنیاں“ کسی کام نہ آئیں۔ وزیراعظم گیلانی اس کے بہت سپورٹر تھے۔ وہ بھی نہ بولے۔ اب سنا ہے کہ اسے امریکہ میں سفیر بنانے کیلئے ان کی سفارش اور گزارش کو نظرانداز نہیں کیا جا سکا۔ خود صدر زرداری بھی شیری رحمان سے کچھ کچھ راضی باضی تھے۔ سنا ہے حنا ربانی کھر کو وزیر خارجہ بھی وزیراعظم گیلانی نے بنوایا ہے۔ آصف ہاشمی کسی پر وزیراعظم گیلانی کی نوازش کو اپنی سفارش سے رلا ملا دیتا ہے۔ اس معاملے میں صدر زرداری کی خواہش بھی شامل تھی۔ سفارش گزارش اور خواہش مل جائیں تو کوشش کامیاب ہو جاتی ہے۔ امریکہ بھی ان دونوں خواتین سے خوش ہے۔ شیری رحمان کو معلوم ہو گیا ہے کہ کرنا کیا ہے۔ پہلے اس نے رحمان ملک کی شکایت کر کے اپنا نقصان کیا۔ اب وہ حسین حقانی کی پوری حمایت حاصل کر چکی ہے۔ اب امریکہ بھی اس کا حامی ہے۔
شیری رحمان کو بھارتی دہشت گرد سر بجیت سنگھ کے ساتھ کیوں ہمدردی ہوئی ہے۔ اس میں ان کی کیا دلچسپی ہے یعنی کیا فائدہ ہے۔ یہ سوال ایسا ہے جس کا جواب اس کے اندر موجود ہے۔ مگر میں شیری رحمان سے ایک سوال کر رہا ہوں۔ اس کا جواب بھی سوال کے اندر موجود ہے۔ وہ امریکہ میں ہی ایک متعصب امریکی عدالت سے جرم بے گناہی کیلئے 83 سال کی سزا پانے والی بہت بہادر خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک مہینے میں ہی رہا کرا دے۔ اس کی بات امریکہ بھی اب نہیں ٹالے گا۔ مگر وہ یہ کیوں کرے گی ۔ اس حوالے سے اس کی پرفارمنس سے سب واقف ہیں۔ خود ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اس کے خلاف بیان دیئے ہیں۔ کیا وہ صرف بھارتی اور امریکی جاسوسوں اور دہشت گردوں کی مدد کرنا چاہتی ہے۔ وہ بھی کیا کرے کہ امریکہ صرف مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھتا ہے۔ امریکہ قاتل جاسوس اور دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس اور پاکستان میں امریکی جاسوس اور ریمنڈکے شریک کار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو چھڑوانے کیلئے ہر بے اصولی اور بے شرمی کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی پاکستانی ہے اور اس نے ایبٹ آباد میں اسامہ کے خاندان کیلئے جاسوسی کی ہے۔ اسامہ وہاں تھا ہی نہیں۔ یہ کام ریمنڈ کی نگرانی میں ممکن تھا۔ ڈاکٹر شکیل بھی امریکی حمایت کا ”مستحق“ ہے۔ پاکستان کے مفادات کے خلاف امریکی حمایت بہت بڑا کام ہے۔
شیری سے پہلے پاکستان کا وزیر قانون فاروق اے نائیک اسلام آباد لاہور کوٹ لکھپت جیل میں سر بجیت سنگھ کو سلام کرنے اور رہائی کی خوشخبری دینے آیا تھا۔ وہ یقیناً جھنڈے والی کار میں آیا ہو گا۔ یہ پاکستان کی توہین سے اور یہ پاکستانی حکمران پاکستان کی توہین کو اپنے فرائض منصبی سمجھتے ہیں۔ سر بجیت سنگھ کو ہماری عدالت نے سزائے موت دی ہے۔ عدالت کی توہین بھی سب حکمرانوں کا سیاسی شغل ہے۔ اس ”کام“ کے اعتراف میں صدر زرداری نے فاروق اے نائیک کو چیئرمین سینٹ یعنی نائب صدر مزید یعنی قائم مقام صدر بنا دیا۔ اس پر رضا ربانی خفا ہوا اور وزارت چھوڑ دی کہ میری وفاداریوں کو کیوں نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر بابر اعوان کی کوششوں سے معاملہ کچھ ٹھنڈا ہوا لیکن صدر زرداری نے رضا ربانی کو وزیر نہ بنایا۔ صدر زرداری کو پتہ چل گیا کہ یہ آدمی اندر سے راضی برضا ربانی ہے۔ اس نے بعد میں صدر زرداری کو منانے کیلئے اٹھارویں ترمیم تیار کی۔ جس میں پارٹی لیڈر پارٹی ڈکٹیٹر بن گیا۔ صوبہ سرحد کا نام صوبہ خیبر پختون خوا رکھا گیا اور کالا باغ ڈیم کا ذکر بھی نہ ہوا۔ اب خلق خدا لوڈشیڈنگ کی قیامت سے گزر رہی ہے۔ اس میں نوازشریف برابر کا شریک ہے۔
اس سے پہلے مشرف کے نگران وزیر انصار برنی نے ایک بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کشمیر سنگھ کو رہا کرا دیا۔ ہم کشمیر تو آزاد کرا نہ سکے کشمیر سنگھ کو آزاد کر کے اپنی شرمندگی کو بڑھا لیا۔ انصار برنی نے اس حوالے سے بھارت کی بہت نوازشات سے فائدہ اٹھایا ہو گا۔ یہ کوئی بہت بڑی ڈیل تھی۔ سربجیت سنگھ کی رہائی اس سے بھی بڑی ڈبل ہو گی۔ دیکھیں شیری رحمان کو کیا فائد ہوتا ہے۔ اسے فاروق اے نائیک اور انصار برنی جیسا فائدہ نہیں ملے گا۔ انصار برنی کو شرم نہ آئی کہ وہ کس خوشی میں کشمیر سنگھ کو واہگہ بارڈر تک جھنڈے والی گاڑی میں خود ڈرائیو کر کے لے گیا۔ اس کی مرضی تو تھی کہ واہگہ سے آگے اس کے شہر تک پاکستانی جھنڈے والی گاڑی میں خود لے کے جائے مگر یہ بات نہ بنی۔ کشمیر سنگھ نے واہگہ بارڈر پار کرتے ہی پاکستان کے خلاف بیانات دیئے۔ جس سے انصار برنی بہت شرمندہ ہوا۔ شرمندہ تو پاکستانی قوم ہوئی۔ اس کی شرمندگی کھسیانی شرمندگی تھی۔ جیسے کھسیانی ہنسی ہوتی ہے۔ وہ مجھ سے بہت ناراض ہوا کہ میں نے اس کے خلاف کالم لکھے اور ٹی وی ٹاک کی۔ اس سے پہلی ملاقات عالمی شہرت کے محبوب گلوکار میری میانوالی کے لالہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کے دفتر میں ہوئی تھی۔ اس نے بڑی شکایتیں کیں۔ لالہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور میرے بارے میں جانتا ہے کہ ملک دشمنی میں کسی طرح شریک نہیں ہوتا۔ اب انصار برنی بحری قزاقوں کے ساتھ کوئی چکر چلا کے پاکستانی مسافروں کے خاندانوں کو تنگ کر رہا ہے۔ یہ قزاق ہر بار پاکستانی مسافروں کو تاوان کیلئے کیوں اغوا کرتے ہیں؟
بھارت بھی اب امریکہ کی طرح ہماری قیمتیں لگانے لگ گیا۔ ہم بکاو مال اور بھکاری ہیں۔ ہمارے ہاں ہر شے کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ بھارتی سیکرٹری داخلہ کہتا ہے حافظ سعید ہمارے حوالے کرو۔ 10 ملین دیں گے۔ اس کے ساتھ ہمارا وزیر داخلہ رحمان ملک ہنس ہنس کر مل رہا تھا۔ شاید وہ کہہ رہا ہو کہ یار کچھ قیمت بڑھاو۔