PDA

View Full Version : پاکستان کی کرکٹ کو تباہ کرنے والے بھارت سے ...



Realpaki
27th May 2012, 10:18 AM
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھارت یاترا پر ہیں۔ وہ انڈین پریمیئر لیگ جسے یار لوگ انڈین جوا لیگ کہتے ہیں اس کے فائنل کو دیکھنے بھارتی کرکٹ بورڈ کی دعوت پر بھارت گئے ہیں۔ انڈیا کی طرف سے دعوت اور دعوت کے جواب میں چودھری ذکاءاشرف کے دورے کو بعض لوگ بہت اہمیت دے رہے ہیں اور بالخصوص چیمپیئنز لیگ میں پاکستان کی سیالکوٹ سٹالینز کی ٹیم کی شرکت کی دعوت کے بعد یہ باتیں بھی کی جا رہی ہیں کہ بہت جلد پاکستان اور بھارت کرکٹ تعلقات بحال ہونے کے قریب ہیں۔ کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین ذکاءاشرف بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے کرکٹ تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا تاہم جاتے جاتے وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے اس کا فیصلہ بھارتی حکام کا موڈ دیکھنے کے بعد کیا جائے گا۔ اس سے قبل ذکاءاشرف نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات کے حوالے سے برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ امید ہے اس میں مزید بہتری آئے گی۔ اگر چیئرمین پی سی بی آئی پی ایل کے فائنل دیکھنے کی دعوت کو ہی کرکٹ کے تعلقات کے حوالے سے برف پگھلنے کا آغاز قرار دیتے ہیں پھر تو برف مکمل طور پر پگھل چکی سمجھا جانا چاہئے لیکن اصل مسئلہ ملکی عزت و وقار ہے۔ اصولی طور پر بھارتی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان کھٹائی میں ہے۔ کیا بھارت کی طرف اس کی ٹیم کی پاکستان آمد کی رضامندی ظاہر کی گئی ہے؟ بھارت صرف خود پاکستان آنے کو تیار نہیں بلکہ اس نے تو دوسری کرکٹ ٹیموں کو بھی پاکستان سے بدظن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بھارت کی طرف سے سری لنکن ٹیم پر حملہ تو مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کے بعد بھارت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع ہو جانے چاہئیں تھے لیکن کرکٹ بورڈ یکطرفہ طور پر بھارت کے وارے نیارے جا رہا ہے۔ بھارت نے چیمپیئنز لیگ میں سیالکوٹ سٹالینز کی ٹیم میں شرکت پر رضامندی کیا ظاہر کر دی کہ پی سی بی حکام الٹی بازیاں لگا رہے ہیں۔ بھارتیوں کا مقصد خواہ حسب سابق پاکستانی کھلاڑیوں کو رسوا کرنا ہو۔ اب بورڈ کے کچھ کرتا دھرتا یہ بھی کہہ رہے ہیں بھارت کی کرکٹ ٹیم اگر پاکستان نہیں آتی تو ہم اپنی ٹیم بھارت بھجوا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو قومی غیرت و خودمختاری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ بھارت نے اگر آپ کی ٹیم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو کرکٹ حکام کے پلے کیا رہ جائے گا۔ ذکاءاشرف صاحب سوچیں کہ آئی پی ایل کے فائنل کی ان کے سیر سپاٹے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔ جب تک بھارت طے شدہ معاہدوں کے مطابق آپ کی پذیرائی نہیں کرتا آپ بھی اس پر وارفتگی کا تاثر نہ دیں۔