PDA

View Full Version : کچھ خبریں عورتوں کیلئے اور شاہ محمود قریش&



Realpaki
29th May 2012, 10:18 AM
ضیا شاہد کے اخبار میں اداکارہ ریما کے ولیمے کیلئے جو خبر شائع ہوئی ہے۔ اس میں اداکارہ ریما کو اپنے اخبار کی کالم نگار کے طور سامنے لایا گیا ہے۔ مشہوری تو ریما کی اداکارہ کے طور پر ہے مگر مقام کالم نگار کے طور پر بن رہا ہے۔ کالم نگار کی حیثیت سے مذکر مونث کی تخصیص بھی نہیں ہے۔ اسے کالم نگارہ نہیں کہا گیا۔ فلموں میں وہ ہیروئن بنی ہے۔ کالم نگار کے طور پر وہ ہیرو بن سکتی ہے۔ وہ اینکپرسن بھی بہت اچھی ہے۔ اس نے نجی ٹی وی چینل پر بہت یادگار انٹرویوز کئے جو تقریباً غیر سیاسی تھے۔ ہلکے پھلکے اور گہرے بامعنی اور مزیدار۔ کبھی کبھی معنی خیز بھی۔ اس کے بعد ہی یہ روایت چلی کہ کئی فلمسٹار کالم نگاری کی طرف آئے اور الیکٹرانک میڈیا میں اپنے جوہر دکھانے لگے۔ اس کے بعد فلمسٹار نور نے بھی صبح کے پروگرام میں کامیابی حاصل کی۔ پروڈیوسر قیصر شریف نے اس سلسلے میں بہت محنت کی اور قابل تعریف کام کیا۔ آغا ذوالفقار نے بھی اس میں پوری دلچسپی لی۔ مجھے اس سے اختلاف ہے کہ رمضان کے خالصتاً دینی پروگرام کیلئے بھی فلمسٹار نور کو آزمایا گیا۔ یہ آزمائش ایک آرائش سے آگے نہ بڑھ سکی۔ رمضان کے پروگرام میں بہت شاندار کالم نگار اور صوفی شاعرہ بشریٰ اعجاز بہت کامیاب رہی۔ اس نے علمی باتیں کیں اور دینی باتیں بھی کیں۔ بہرحال اس پروگرام کو روایتی مولوی صاحبان نے محدود کر دیا تھا۔ وہ تقویٰ سے زیادہ فتویٰ پر یقین رکھتے ہیں۔ جو دنیاوی علوم کے ساتھ روحانی کیفیات میں بھی محسوسات رکھتے ہیں۔ وہ ان پروگراموں کو مفید اور دلچسپ بنا سکتے ہیں۔ مزاح کے ڈرامائی انداز کو الیکٹرانک میڈیا نے بھی ایک شغل کے طور پر اپنا لیا ہے۔
اداکار شان کی یہ بات بڑی اچھی لگی کہ پراٹھا صبح کے ناشتے میں آسانی سے ہضم نہیں ہوتا۔ مگر ماں کے پاس بیٹھ کے کھایا جائے تو مزا بھی زیادہ آتا ہے اور ہضم بھی ہو جاتا ہے۔ میں اسے فلسطین کے حریت پسند شاعر محمود درویش کی نظم کی ایک لائن سناتا ہوں۔ کشمیریوں کی قربانیوں کی محبت میں بے قرار لوگ بھی اس بات سے حوصلہ پائیں گے ”وطن ماں کے ہاتھ سے پکی ہوئی روٹی کھانے کا نام ہے“ اپنی زمین کو مادر وطن کہتے ہیں۔ ماں دھرتی بھی بولتے ہیں۔ وہ لوگ پیارے ہیں جو ماں دھرتی کو دل دھرتی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ شان نے یہ بھی کہا اور دل شاد کیا کہ مجھے مرد بھی ایک عورت نے بنایا ہے اور وہ میری ماں ہے۔ میں اس کی ماں کو جانتا ہوں۔ فلمسٹار نیلو جو بہت اہل اور دلیر اداکارہ تھیں۔ ان کیلئے انقلابی اور سچے شاعر حبیب جالب نے کہا تھا اور تب سارے ملک میں یہ بات مشہور ہوئی تھی
تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
فلمسٹار نیلو کو ایوان اقتدار سے ایک مہمان حکمران کیلئے ایک تقریب عیش و عشرت میں ناچنے کیلئے کہا گیا۔ فلمسٹار نیلو نے انکار کر دیا جسے آداب شہنشاہی کی توہین سمجھا گیا اور حکم دیا گیا کہ حاضر ہو۔ غیرت مند اور بہادر نیلو نے کہا کہ میں یہ کام حکم پر نہیں کرتی۔ اپنے دل کی مرضی سے کرتی ہوں۔ اسے اغوا کیا گیا اور زبردستی ناچنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس پر اس کے بہت نامور شوہر ڈائریکٹر ریاض شاہد نے فلم بھی ”یہ امن“ بنائی اور حبیب جالب کا لکھا ہوا یہ گیت بھی اس پر فلمایا گیا۔ ہمارے پاکستانی حکمران فرنگیوں سے زیادہ ظالم ہیں۔ ہم نے آزادی کی نعمت کو لعنت بنا دیا ہے۔ کئی بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ انگریزوں کا زمانہ کئی اعتبار سے بہتر تھا۔ تحریک پاکستان کا زمانہ پاکستان میں گزرتے ہوئے زمانے سے اچھا تھا۔ اب پاکستان میں تحریک پاکستان چلانے کی ضرورت ہے۔
٭ .... ٭ ٭ ٭ .... ٭
میں نے شکیل آفریدی کیلئے امریکہ کی ڈھٹائی کے حوالے سے کالم لکھا تھا کہ اب پھر ایک بار ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرانے کے امریکی ہتھکنڈوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ میں نے جاسوس اور دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے چار قتل ہونے والے لوگوں کا ذکر کیا تھا۔ مقتول فہیم کی بیوی نے خودکشی کی کہ اسے اپنے رشتہ داروں اور وفاقی صوبائی حکمرانوں سیاستدانوں سے انصاف کی امید نہ تھی اور وہ خون بہا لینے کو بلیک میلنگ اور خون کا سودا سمجھتی تھی۔ کہتے ہیں اسے قتل کیا گیا تھا۔ اب ایم پی اے آمنہ الفت نے میرا کالم پڑھ کر بتایا کہ کچھ دن پہلے دوسرے مقتول بھائی فیضان کی بیوہ اور اس کی ماں کو بھی پیسوں یعنی خون بہا کے لین دین میں قتل کر دیا گیا۔ مقتول فیضان کی ماں اپنے بھائی کے بیٹے سے فیضان کی بیوہ کی شادی کرنا چاہتی تھی تاکہ پیسے گھر میں ہی رہیں اور مقتول کی بیوہ کی شادی اس کی ماں اپنے بھائی کے بیٹے سے کرنا چاہتی تھی۔ اس ضمن میں ہماری حکومتیں خاموش ہیں کہ کہیں وہ نہ پھنس جائیں۔ آمنہ کے بقول یہ دو قتل بھی ریمنڈ کی کہانی کا حصہ ہیں۔ اس لحاظ سے یہ قتل چھ ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں ریمنڈ پر نہ مقدمہ چلا ہے اور نہ کوئی تفتیش ہوئی ہے۔ پاکستان میں اس کے برے اثرات ابھی ختم نہیں ہو رہے۔
بلوچستان کے حوالے سے ایک کانفرنس میں سب سیاستدان تھے۔ وہ اکٹھے ہوئے مگر ان کے منہ اپنے اپنے ”قبیلے“ کی طرف تھے۔ بہرحال نوازشریف سے ملنے کیلئے شاہ محمود قریشی اٹھ کر ان کے پاس گیا۔ ان سے معانقہ کیا۔ اعتزاز احسن اور شاہ محمود قریشی جہاں بھی چلے جائیں‘ آئیں گے تو نوازشریف کے پاس ع
وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
لفظ ”لوٹا“ پر غور کریں۔ حیرت ہے کہ اب پیپلز پارٹی والوں نے بھی شاہ محمود قریشی کے خلاف باتیں کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جب وہ ابھی تحریک انصاف میں نہ گیا تھا تو جیالے اس کے خلاف بہت بولتے تھے۔ مگر جاوید ہاشمی کیلئے ن لیگ والوں نے چھریاں تیز کی ہوئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے لیڈر کا خیال بھی نہیں کرتے کہ گالیاں تو اسے ہی پڑتی ہیں۔ عمران خان اور جاوید ہاشمی اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔ نوازشریف بھی روٹھ کر جاوید ہاشمی سے مل سکتا تھا۔ اس طرح پورے ملک میں نوازشریف کی تعریف ہوتی۔ جاوید ہاشمی نے نوازشریف کیلئے قربانیاں دی ہوئی ہیں۔ وہ تو یہ بھی کہتا ہے کہ نوازشریف نے سیاست مجھ سے سیکھی ہے۔ وہ لاہور ائرپورٹ پر میرے استقبال کیلئے کھڑا ہوتا تھا۔ کسی کی طرف سے قربانی کو لیڈر اپنا حق سمجھتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں ”حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا“
آپ یہ بھی پوچھیں گے کہ میں نے عورتوں کے حوالے سے اس کالم میں شاہ محمود قریشی کا کیوں ذکر کیا ہے۔ قریشی صاحب کے لہجے میں ایک لاڈلا پن ہے ان کی شخصیت میں بچگانہ پن بھی ہے۔ ایک معنویت ان کے اسلوب زیست میں ہے۔ جس طرح ان کی جانشین وزیر خارجہ حنا ربانی کھر میں آواز کے ساتھ ساتھ کئی راز ہیں جو مردانہ پن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جتنا مردانہ پن ان میں ہے اتنا ہی زنانہ پن شاہ محمود قریشی میں ہے۔ ہمیں تو ان کی یہ ادا بھی اچھی لگی ہے کہ وہ عمران خان اور جاوید ہاشمی کے ساتھ شانہ بشانہ بیٹھے ہوئے اٹھ کر نوازشریف سے سینہ بہ سینہ ہو گئے۔ تین وزیر خارجہ تحریک انصاف میں ہیں۔ اب حنا ربانی کھر کا انتظار ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ تحریک انصاف میں آئیں گی اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی آئیں گی۔ پیپلز پارٹی کی سیاستدان عورتوں میں فرزانہ راجہ غیر متنازعہ ہیں۔ بینظیر بھٹو انکم سپورٹ میں ان کی استقامت قابل ذکر ہے۔ پیپلز پارٹی میں اگلے الیکشن کیلئے یہ کام بڑا اہم سمجھا جا رہا ہے