PDA

View Full Version : Atom Bomb Ki Roshni Main Jugnuoun Ki Pervaz - Dr Muhammad Ajmal Niazai - 30th May 2012



Realpaki
30th May 2012, 08:25 AM
یوم تکبیر کو میرا کالم نوائے وقت میں شائع ہوا۔ میں نے کہا تھا کہ قومی دنوں کی طرح یوم تکبیر کی تقریب بھی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام سب سے بڑی ہو گی اور یہ ایک ولولہ انگیز اور بڑی تقریب تھی۔ میری خواہش کے مطابق صدر محفل مجید نظامی نے خود نعرہ تکبیر لگوایا۔ مجھے یقین ہے کہ اس کی گونج سارے پاکستان اور سارے بھارت میں سنائی دی ہو گی۔ میں نے یہ بھی چاہا تھا کہ اس تقریب میں نوازشریف بھارت کو للکاریں۔ انہوں نے للکارا تو نہیں مگر یہ ضرور کہہ دیا کہ ہم بھارتی ایٹمی دھماکوں کا جواب نہ دیتے تو واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہور نہ آتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے مشاہد حسین سے کہا۔ کمر باندھ لیں۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا منہ توڑ جواب دینا ہے۔ مشاہد حسین نے میرے فیصلے کی تائید کی۔ پھر مشاہد حسین ق لیگ میں کیوں چلے گئے۔ وہ مرحوم حمید نظامی کے جگری یار کرنل امجد حسین کے بیٹے ہیں اور مجید نظامی کو بھی عزیز ہیں۔ یہ سوال ان سے زیادہ نوازشریف کی طرف جاتا ہے۔ وہ کچھ کہیں، ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے مشاہد حسین کا ذکر نوازشریف کی کشادہ دلی ہے۔ وہ کشادہ دلی کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کیا کریں۔ یہ نواز شریف کیلئے اعزاز ہے کہ وہ یوم تکبیر کی ایک شاندار تقریب میں مجید نظامی کی صدارت میں مہمان تھے۔ مجید نظامی نے انہیں ایٹمی دھماکوں کیلئے دھمکی بھی دی تھی۔ آج تھپکی بھی دی یہ بھی نوازشریف سے انہوں نے کہا کہ امن کی آشا انہیں مبارکباد ہماری بھارت سے تجارت بھول جائیں۔ اپنے گھوڑے تیار رکھیں اور کشمیر آزاد کرائیں۔ انہوں نے ڈاکٹر قدیر ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر سائنسدانوں کی محنتوں کا ذکر کیا۔
اپنی اس بات پر غور کرنا نوازشریف کا فرض بھی ہے کہ پاکستان واحد ایٹمی ملک ہے جس کی قوم کو بھکاری بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ زرداری دھوکے سے صدر بنے اور ہم چپ رہے۔ انہوں نے اپنا ایک کمزور صدارتی امیدوار محترم جسٹس سعید الزمان صدیقی بھی چپکے سے کھڑا کر دیا تھا۔ اس طرح دوسرے مضبوط صدارتی امیدوار مشاہد حسین کے ووٹ تقسیم ہو گئے۔ ن لیگ کے ووٹ انہیں ملتے۔ تو زرداری صاحب کیلئے مشکل کھڑی ہو جاتی۔ اب اگر ان کا چپ رہنا جرم ہو گا تو پہلی خاموشی سے کیا مراد تھی۔ وہ خود تسلیم کر چکے ہیںکہ فرینڈلی اپوزیشن کا الزام ہم پر لگا اور ہم چپ رہے۔ چپ رہنے کیلئے موقعے کی مناسبت ضروری ہے؟ ان کیلئے مجید نظامی کا یہ اظہار باعث افتخار ہے کہ نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کر کے ملک کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ تو پھر اب سچے پاکستانی، ملک کیلئے کیوں پریشان ہیں۔ اس حال میں بھارت کے ساتھ تجارت میں خسارہ ہی خسارہ ہے۔ صرف ایک ادارہ ہے اور وہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ ہے۔ جہاں سے پاکستان کی محبت کی روشنی چاروں طرف پھیلتی رہی ہے۔
کچھ جگنو ایسے بھی ہیں جو منزل سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔ یہ احساس تو نوازشریف کرے کہ قوم اپنی منزل کیلئے بھٹک رہی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ بھٹکانے والے کون ہیں۔ انتہائی درد اور معذرت سے کہہ رہا ہوں کہ یہ جگنو رائے ونڈ تک چلے جاتے ہیں اور کبھی کبھی نوازشریف اس تقریب کی صدارت کیلئے پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں امن کی آشا کا راگ الاپا جاتا ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی روابط کی بات کی جاتی ہے۔ خدا کی قسم ہندو نواز تنظیم کو نوازشریف کی نوازش ہائے بے جا کے بعد جو فائدہ ہوا۔ اس کا تصور وہ خواب میں بھی نہیں کر سکتے اور وہ خواب نہیں دیکھتے کہ پاکستان بھی علامہ اقبالؒ قائدؒ اور لاکھوں مسلمانوں کے خواب کی تعبیر ہے۔ ان ظالموں نے سوئے ہوئے لوگوں کی تقدیر ہی تبدیل کرنے کی کوشش کر رکھی ہے۔
ایک بہت محترم خاتون جگنو محسن ہے۔ وہ باتیں تو اپنے شوہر نجم سیٹھی جیسی کرتی ہے مگر اس کا کریڈٹ یہ ہے کہ وہ اس سے بہتر بات کرتی ہے۔ اسے بات کرنے کا ایک محبوب اسلوب ملا ہے۔ عناد اس کے چہرے سے نہیں ٹپکتا۔ بھارت دوستی اور امریکی غلامی آخر کیوں پاکستان دشمنی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ جگنو نے کہا کہ ایٹم بم کا دھماکہ کر کے پاکستان نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ یہ قصور عوام کا نہیں حکام کا ہے۔ یہ بات طنزیہ انداز میں اس نے کی مگر یہ بات بھٹو صاحب نے کی تھی۔ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ بہادر اور جفاکش پاکستانی قوم سب کچھ کر سکتی ہے۔ پاکستان بنانے اور ایٹم بم بنانے میں ایک ہی جذبہ کارفرما تھا۔
بھٹو صاحب نے تو یہ بھی کہا تھا کہ ہم ایک ہزار سال تک بھارت کے ساتھ لڑیں گے۔ اس کے جیتنے میں بھارت دشمنی کا نعرہ بھی اس نعرے کے ساتھ گونج رہا تھا۔ روٹی کپڑا اور مکان۔ دونوں نعروں کو نالوں میں بدل دیا گیا۔ نالے کا مطلب گریہ ہے مگر ہمارے کرپٹ نااہل اور قومی غیرت سے عاری حکمرانوں نے نعرے کو نالے میں نہیں بلکہ گندے نالے میں بدل دیا ہے۔ اب بے چارے عوام اس میں ڈبکیاں کھا رہے ہیں۔ سکیورٹی اور پروٹوکول کے ساتھ کنارے پر حکام تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ بھٹو صاحب نے ہزار سال لڑنے کے اعلان کے باوجود اندرا گاندھی سے مذاکرات کے بعد اپنے 80 ہزار جنگی قیدی چھڑوا لئے تھے۔ بات منوانے کیلئے طاقت چاہئے ہوتی ہے۔ اپنی کمزوریوں اور مجبوریوں کے ساتھ صرف بات مانی جا سکتی ہے اور ہم اسی ذلت اور بے بسی کا شکار ہیں۔ جگنو محسن نے کہا کہ گھاس تو ہم اب کھا رہے ہیں مگر اس کی وضاحت اس نے خوب کی کہ گھاس صرف عوام کھاتے ہیں حکام نہیں کھاتے کہ حاکم صرف ظالم ہوتا ہے۔ امیر کبیر نہیں کھاتے کہ امیر کبیر بے ضمیر ہوتے ہیں۔ ایٹم بم کیلئے صرف پاکستان کو کیوں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ ایٹم بم تو بھارت نے پہلے بنایا۔ ان کے شوہر نجم سیٹھی کے آقا امریکہ نے بھارت کو ایٹم بم بنانے پر شاباش دی۔ ہمیں ذلیل و خوار کیا۔ اب تک کر رہا ہے۔ اسے چھیننا بھی چاہتا ہے اسے ایران پر بھی غصہ ہے۔ کیا اسرائیل کے پاس ایٹم بم نہیں۔ پاکستانی بم اسلامی بم ہے تو پھر بھارت کا ہندو بم اور اسرائیل کا یہودی بم کیوں نہیں۔ بم ایٹم بم کی وجہ سے نہیں اپنے حکمرانوں کی نااہلی کرپشن اور بزدلی کی وجہ سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ ہمارے دانشور بھی دشمنوں کے ایجنٹ بن کر ہم سے بدلہ لے رہے ہیں کہ ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں۔ جگنو محسن کی بات کہ ایٹم بم سے اتنی گرمی ہو گی کہ برداشت نہیں ہو گی تو اینکر شان نے کہا کہ صرف کاکروچ بچیں گے۔ جگنو نے کہا کہ چوہے بھی بچ جائیں گے۔ پاکستان میں یہ کاکروچ اور چوہے بہت ہیں اور وہ میڈیا پر بہت دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں کیوں یہ امید ہے کہ وہ بچ جائیں گے؟ ایٹم بم کی روشنی میں جگنووں کو پریشانی تو ہو گی۔