PDA

View Full Version : Jamhoreyet Ki Fatah Yan Zardari Siyasat Ki Fatah - Dr Muhammad Ajmal Niazai - 31st May 2012



Realpaki
31st May 2012, 09:13 AM
وزیراعظم گیلانی بغیر سوچے سمجھے بولتے ہیں۔ وہ جو سوچ سمجھ کر بولتے ہیں وہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے بلکہ ایسا ویسا ہوتا ہے۔ مجھے تلہ گنگ سے امیر سلطان گنگ نے فون پر بڑے غصے سے کہا کہ یہ وزیراعظم پاکستان کا بیان ہے؟ امریکی معافی سے سلالہ چیک پوسٹ کے شہید فوجی زندہ تو نہیں ہو جائیں گے۔ اس لغو اور شرمناک بات پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ ایک ضرب المثل تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ عرض ہے۔ پہلے بات کو تول گیلانی پھر بھی نہ منہ سے بول اپنی کئی باتیں انہوں نے بڑے فخر سے واپس لی ہیں۔ وہ خود بلکہ خود بخود واپس لیتے رہتے ہیں۔ ہم نے بھی ازخود ان کی کئی باتیں واپس لی ہیں۔
ان کا ایک بیان یہ ہے۔ سپیکر اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو صرف الیکشن کمیشن کی طرف بھیجنا تھا مگر انہوں نے جج بن کر اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔ یہ جمہوریت کی فتح ہے۔ وزیراعظم نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا اور ان پر توہین عدالت لگی تھی۔ سپیکر پر تو شاید توہین عدالت کا پھندہ فٹ نہیں آئے گا۔ جس پر یہ پھندہ فٹ آیا ہے اسے بھی کچھ نہیں ہوا۔ کچھ ہوا ہے تو اس نے محسوس نہیں کیا۔
کسی کو پھانسی کی سزا ہوئی۔ پاوں کے نیچے لکڑی کا پھٹہ ہٹ نہ سکا اور وہ بچ گیا۔ دوسرا آدمی بھی بچ گیا۔ تیسرے سردار صاحب تھے۔ اس نے کہا۔ پہلے اپنا پھٹہ تو ٹھیک کراو۔ براہ راست بھی سپریم کورٹ نے الیکشن کمشن کو کاغذات بھجوائے ہیں۔ فیصلہ ہو بھی گیا تو وقت گزر جائے گا۔ وزیراعظم گیلانی بجٹ کے بعد خود ہی استعفیٰ دے دیں گے۔ ایک افواہ یہ بھی ہے کہ حکومت ایک سال کی ایکسٹینشن خود کو خود بخود دے دے گی۔ آئین میں اس کی گنجائش ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بھی کہا ہے کہ میں نے آئین کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ یہ آئین کیا چیز ہے۔ اسے سیاستدانوں حکمرانوں (فوجی اور غیر فوجی) نے آئینہ سمجھا ہوا ہے۔ جس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے اپنا ہی چہرہ اس میں نظر آتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں آئین کے مطابق ہوں۔ عورتوں کو ویسے بھی آئینہ بہت پسند ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا عورت ہیں۔ وہ ایک صوبر عورت ہیں۔ جب آئین یعنی آئینہ توڑ دیا جاتا ہے تو پھر فوجی حکمران کے سامنے سیاستدان ہی ایک ایک کرچی لے کے آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں جناب یہ تو پورا آئینہ ہے۔ مجھے اپنی شکل نظر آ رہی ہے۔
میں نے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کیلئے تعریفی کالم بھی لکھا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم گیلانی پر تنقید بھی کی تھی۔ وہ باوقار عورت لگتی ہیں۔ باوقار عورت بااعتبار عورت بھی ہوتی ہے۔ بار بار غیر آئینی کام کیلئے صفائیاں دیتی جا رہی ہیں۔ جس کام کی وضاحتیں دینا پڑیں۔ اس میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہوتی ہے۔ وہ اگر یہ معاملہ الیکشن کمشن کو بھیج دیتیں تو ہونا تو وہی جو ہو رہا ہے۔ وقت گزارنا ہے مگر سپیکر کی عزت رہ جاتی۔ وزیراعظم گیلانی کس کس کو گندہ کرائیں گے۔ وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کہہ رہے ہیں کہ سپیکر کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی صدر کے علاوہ سپیکر کو بھی استثنیٰ حاصل ہے۔ سپیکر کے فیصلے اسمبلی میں بھی چیلنج ہو جاتے ہیں۔ کائرہ صاحب کیلئے دل میں نرم گوشہ ہے۔ وہ احساس کریں اپنی مردانگی اپنی ڈھٹائی میں تلاش نہ کریں کہ لوگ کہیں ان سے تو ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اچھی تھیں۔ اس بات سے برادرم آصف ہاشمی بہت خوش ہوں گے۔ ان کے بقول انہوں نے فردوس کو وزیر بنوایا تھا۔ ہٹوایا بھی انہی نے ہو گا۔ مان نہیں رہے۔ ان کی ایک خاتون کیلئے پی ٹی وی لاہور کرنٹ افیئرز کے سربراہ افتخار مجاز کو ہٹا دیا گیا اور اس کے جونیئر امجد شاہین کو سربراہ بنا دیا گیا۔ دونوں دل والے اچھے آدمی ہیں۔ مجاز صوفی آدمی بھی ہے۔ تخلیقی اور مخلص۔ وہ خاتون آصف ہاشمی کا نام لے کر دھمکیاں دیتی رہی آخر دھمکی دھماکہ بن گئی۔ یہ انداز حکومت؟ کائرہ صاحب توجہ فرمائیں۔ یہ بھی ہاشمی صاحب کہتے ہیں کہ ایم ڈی یوسف بیگ مرزا میرا بنوایا ہوا ہے اور میری بات نہیں مانتا مگر یہ بات تو اس نے مان لی ہے۔
میں وزیراعظم گیلانی کے ارشادات عالیہ کی بات کر رہا تھا۔ فوراً انہوں نے کہا کہ یہ میرے ارشادات ہیں۔ فلمسٹار عالیہ کے ارشادات نہیں ہیں۔ انہوں نے سپیکر کو پہلے بھی اکسایا تھا۔ اب پھر اپنے گناہ کا گند ان کی طرف اچھالا ہے۔ یہ فیصلہ جمہوریت کی فتح ہے۔ یہ حکومت پچھلے چار سال سے جمہوریت کی فتح منا رہی ہے۔ اس جمہوریت کو لوگ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جشن مناتے ہوئے چھوٹے بڑے حکمران نظر آتے ہیں۔ پہلے حکمران حکومت اور ریاست کو رلا ملا دیتے تھے۔ اب وہ حکومت اور جمہوریت کو گڈمڈ کر رہے ہیں۔ اس طرح اپوزیشن کو بلیک میل کر کے فرینڈلی اپوزیشن بنا کے رکھ دیا ہے۔ البتہ صدر زرداری نے روایتی سیاست میں نوازشریف پر کئی بار فتح پائی ہے۔ وزیراعظم گیلانی کا سپریم کورٹ کی بات نہ ماننا صدر زرداری کی اشیرباد سے ممکن ہوا ہے۔ سپیکر کی امداد بھی ایوان صدر سے آ رہی ہے۔ اب ایوان اسمبلی ایوان وزیراعظم اور ایوان صدر کا علاقہ ایک ہو گیا ہے اور لوگوں کیلئے علاقہ غیر ہو گیا ہے۔ صدر زرداری کراچی میں کیا کر رہے ہیں۔ خون خرابہ اور لاقانونیت بڑھتی جا رہی ہے اور رحمان ملک کی طنزیہ مسکراہٹیں مزید بکھر جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ہر حکمران کی طرح انہیں بھی ڈھیل دی ہوئی ہے۔ صدر زرداری کیلئے اب بلاول ہاوس کراچی ایوان صدر اسلام آباد سے زیادہ محفوظ اور مزیدار ہو گیا ہے۔
جس جمہوریت کی فتح صرف اس میں ہے کہ سپیکر کاغذات الیکشن کمشن کو نہیں بھجوا رہیں تو یہ جمہوریت وزیراعظم گیلانی کو مبارک ہو۔ یہی چیز ان کیلئے مصیبت بن جائے گی۔ وہ اپنی جمہوریت کا شکار بنیں گے۔
اینکرپرسن اور نجومی سیاستدانوں کی صدر زرداری کیلئے دی ہوئی تاریخیں تو بدنصیب تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ اب خود حکومتی طوطے فال نکالنے لگے ہیں اور چند مہینوں کیلئے وزیراعظم بننے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ اس موقعے پر صدر زرداری کے ساتھ فریال تالپور ہی زیادہ موزوں شخصیت ہوں گی۔ سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پہلے صدر زرداری کیلئے اپنے شوہر کو ٹھکانے لگایا۔ اب وہ انہی کیلئے اپنے وزیراعظم گیلانی کو بھی ٹھکانے لگائیں گی۔ رہی سہی کسر اعتزاز احسن پوری کرے گا۔
یہ فتح ہے صدر زرداری کی سیاست کی۔ لوگ سیاستدان اور اینکرپرسن جو صدر زرداری کے خلاف تھے۔ اب ان کی توپوں کا رخ وزیراعظم گیلانی کی طرف ہو گیا ہے۔ اب ایک مخصوص نجی ٹی وی چینل صدر زرداری والا غصہ بھی وزیراعظم گیلانی پر نکال رہا ہے۔ یہ بھی سیاست ہے کہ عارضی طور پر صدر زرداری نے بابر اعوان پر اعتزاز احسن کو ترجیح دی ہے۔ اعتزاز احسن نے پہلے صدر زرداری کے ساتھ کیا کیا تھا۔ صدر زرداری نے اعتزاز پر کیا جادو کیا تھا کہ وہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار چودھری کو ان کے گھر لے آئے تھے۔ تب وہ صدر بھی نہ تھے۔ اب ان کے ذریعے فعال چیف جسٹس ایوان صدر آئیں گے اور اعتزاز احسن کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ صدر زرداری وزیراعظم گیلانی اور اعتزاز احسن کو پسند نہیں کرتے۔ ان کی نفرت بہت گہری اور دیرپا ہوتی ہے۔ آسانی سے سمجھ میں بھی نہیں آتی۔