PDA

View Full Version : Rehman Malik Kay Leye Galut Fehmi Or Khush Fehmi - Dr Muhammad Ajaml Niazi - 2nd June 2012



Realpaki
2nd June 2012, 10:42 AM
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے وزیر داخلہ رحمان ملک کے ساتھ ہوائی جہاز میں سفر کرنے سے انکار کر دیا اور انہوں نے اپنی فلائٹ تبدیل کرا لی۔ رحمن ملک کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی اس نے تو یہ جانا تھا کہ جہاز میں اپنی سیٹ بھی چیف جسٹس کی نشست کے ساتھ کرا لی جائے گی۔ خوب گپ شپ لگے گی۔ گپ سے زیادہ شپ۔ اس طرح اپنی دوہری شہریت کا تنازعہ بھی نبٹانے کیلئے منت سماجت وغیرہ بھی ہو جائے گی۔ گنجائش ملی تو اور بھی معاملات پر بات ہو جائے گی۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ہمارے حکمرانوں نے اپنی ہر خواہش کیلئے بے چارے لوگوں کا ناک میں دم کر دیا ہے۔ ایک مجبور غریب آدمی کہہ رہا تھا۔ موجودہ حکومت میں نہ دم نکلتا ہے نہ کم نکلتا ہے۔ کم کام کے معنوں میں ہے۔ آج کل سرکاری اور سیاسی لوگ کام کم کم ہی کرتے ہیں۔
چیف جسٹس کے ساتھ رحمن ملک کی ہمسفری کی خواہش خاک میں مل گئی۔ وہ اس طرح ان کا ہمدم اور ہمراز بننا چاہتا تھا۔ سپریم کورٹ نے رحمن ملک کو دوہری شہریت کے حوالے سے ڈھیل دے رکھی ہے۔ اس سے حوصلہ پا کے وہ کوئی ڈیل کرنے کے موڈ میں تھا۔ ایک طرف وہ دوہری شہریت کے خاتمے کے حوالے سے جعلی کاغذات سپریم کورٹ میں پیش کر چکا ہے۔ جو عدالت نے مسترد کر دیئے ہیں۔ اس کیلئے بھی مقدمہ اس پر چل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بیانات بھی دیتا ہے کہ دوہری شہریت والے ووٹ دے سکتے ہیں تو الیکشن بھی لڑ سکتے ہیں۔ وہ الیکشن بھی لڑنے کے قابل نہیں۔ اسے بلامقابلہ سنیٹر بنوایا گیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ کو بھی سبق سکھا دیا جائے مگر اب وہ اپنی حکومت پوری کر چکے ہیں۔ جو کچھ انہوں نے ملک کے ساتھ کرنا تھا۔ کر دیا۔ چار سال سے زیادہ حکومت تو دوہری شہریت کے ساتھ کر لی گئی ہے۔ وہ شہرت کیلئے بھی امریکہ اور یورپ کو اہمیت دیتے ہیں شہریت بھی اسی طرح رنگ لا سکتی ہے۔ دوہری شہریت کے لوگ اور بھی بہت ہیں۔ سب جماعتوں میں ہیں۔ یہ سب دوہری ذہنیت کے لوگ ہیں ان کے معیار اور پالیسی بھی دوہری ہے۔ دوہری شہریت والے ہمارے وزیراعظم بھی بنے رہے ہیں۔ معین قریشی تین مہینے وزیراعظم رہنے کے بعد امریکہ میں ہیں۔ وہ کئی محکموں کی مدد سے اپنی ماں کی قبر قصور میں تلاش کرتے رہے۔ ان کے وزیر اطلاعات کالم نگار ارشاد حقانی قصوری نے بھی ان کی مدد نہ کی۔ کالم نگار سفیر بن سکتے ہیں تو وزیر بھی بن سکتے ہیں۔ رشتہ دار خورشید محمود قصوری نے بھی مدد نہ کی۔ خورشید قصوری کی ماں اعلیٰ روایات کی خاتون تھیں۔ میرا دوست عذیر ابوبکر بھی خورشید قصوری کا رشتہ دار ہے۔ ان کی بہت اہل اور اہل دل اہلیہ علینہ ٹوانہ خورشید قصوری کی ماں کی بہت تعریف کرتی ہیں۔ وہ اقتدار کی بجائے اقدار کی خاتون تھیں۔ مگر ان کے رشتہ دار پاکستان کے سابق وزیراعظم معین قریشی قصوری کو اپنی ماں کی قبر کا علم نہ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی ماں کے جنازے میں بھی شامل نہ ہوئے ہوں گے۔ دوہری شہریت کے حکمرانوں کا یہ حال ہے۔ الیکشن لڑنے کیلئے وزیراعظم شوکت عزیز کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہ تھا۔ ہمارے اکثر وزیراعظم وزیر خارجہ وزیر داخلہ وزیر خزانہ امریکہ اور برطانیہ کے زیادہ وفادار تھے بلکہ ان کی وفاداری امریکہ برطانیہ کے ساتھ تھی۔ شوکت عزیز رحمن ملک حنا ربانی کھر اور حفیظ شیخ سب پر بازی لے گئے ہیں۔
امریکہ کو یہ بھی غصہ ہے کہ ان کے اپنے سفیر حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی دوہری شہریت کی وجہ سے اپنی رکنیت اسمبلی معطل کرا بیٹھی۔ یہ عدالت نے کہا ہے۔ عدالت نے ان کے جاسوس ڈاکٹرشکیل آفریدی کو بھی سزا دے دی ہے۔ وہ پاکستانی شہری ہے مگر جاسوس تو امریکہ کا ہے۔ حسین حقانی بھی گئے جبکہ شیری رحمان حسین حقانی کا مناسب متبادل ہے۔ فرخ ناز اصفہانی ایوان صدر میں حسین حقانی یعنی وائٹ ہاوس کی نمائندہ تھیں۔ دونوں میاں بیوی نے اپنا اپنا کام خوب نبھایا۔ اب شیری رحمان حسین حقانی کی تربیت میں ہے۔ فرح ناز بھی کچھ نہ کچھ کر رہی ہوں گی۔
اس سے پہلے اس طرح کی زیادتی رحمن ملک سے پاک فوج کی طرف سے ہوئی تھی۔ چیف جسٹس کی طرح آرمی چیف بھی رحمن ملک کو خوب جانتے ہیں۔ جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو پاک فوج کے پاکستانی مخالف بہت خوش ہوئے۔ رحمن ملک حسب عادت اور حسب معمول بلکہ حسب معمولی جی ایچ کیو پہنچنے والے تھے کہ روک دیا گیا۔ وہ بہت مایوس ہوئے۔ وہ ہر دھماکے اور اس طرح کے حملے کے بعد جائے واردات پر کارروائی ڈالنے ضرور جاتے ہیں اور کارروائی کا زبانی کلامی حکم دیتے اور رپورٹ طلب کرتے ہیں ان رپورٹوں کی فائل تیار کر کے اپنی حکومت اور برطانوی حکومت کو پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی بڑھتی جاتی ہے۔ کوئی ظالم کیفرکردار تک نہیں پہنچا۔ جی ایچ کیو والے حملہ آور انجام کو پہنچے کہ اس میں رحمن ملک کی مداخلت نہ ہو سکی تھی۔ وہ امریکہ کا آدمی بھی ہو گا۔ اصل میں وہ برطانیہ کا بندہ ہے۔ وہاں اس کا گھر ہے۔ ایک خفیہ ایجنسی ہے۔ کاروبار ہے۔ اس سب کیلئے برطانوی شہریت بڑی ضروری تھی۔ اب اس کے خاتمے کا سرٹیفکیٹ پیش کرنے کیلئے بے چارہ کب سے پریشان ہے۔ یہ کیسا پریشان ہے کہ اس نے سارے پاکستانیوں کو پریشانیوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔
الطاف حسین کے پاس بھی برطانوی شہریت ہے مگر وہ شخص نہ ممبر اسمبلی بننا چاہتا ہے نہ وزیر شذیر بننا چاہتا ہے۔ رحمن ملک ان کے ساتھ دوستی کے وعدے کرتا ہے تو پھر وہ ان کی طرح بن کے دکھائے۔ کیا وہ اس طرح کر سکتا ہے۔ وہ وزیر داخلہ نہ ہو تو اس کی حیثیت کچھ نہ ہو گی۔ وزیراعظم گیلانی کو بھی معلوم ہے کہ وہ وزیراعظم نہ رہے تو وہ کچھ بھی نہ ہوں گے۔ ان کے بیٹے بیٹی اہلیہ اور سب رشتہ دار کیا کریں گے۔ آصف ہاشمی متروکہ وقف املاک بورڈ کا چیئرمین نہ ہو تو کھنڈر عمارت کے سائے میں بیٹھا اپنی اچھی ماں کو یاد کرنے کے علاوہ اور کیا کرے گا۔ رحمن ملک خوش ہے کہ اس کیلئے غلط فہمیاں خوش فہمیاں ہیں۔ مگر خوش فہمی غلط فہمی سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔