PDA

View Full Version : Sadar Obama, Makhiyan Wla Shyer or Sadar Zardari - Dr Mohd Ajmal Niazi - 6th June 2012



Realpaki
6th June 2012, 09:25 AM
صدر زرداری سے نوازشریف پوچھتے ہیں کہ آپ شکاگو کانفرنس میں کیا لینے گئے تھے۔ انہوں نے جو کچھ لیا ہے وہ نوازشریف کو بتا دیں تو پھر فائدہ کیا ہے۔ نوازشریف بھی امریکہ آتے جاتے رہتے ہیں۔ عمران خان بھی چکر لگاتا رہتا ہے۔ انہوں نے جو لین دین کرنا ہے وہ کسی کو بتانے والا نہیں۔ شکاگو کانفرنس میں دونوں صدور کی ملاقات متوقع تھی؟ میں جو بات آپ کو بتانے والا ہوں۔ وہ ان سب فروعی باتوں سے بالاتر ہے۔
شکاگو کانفرنس کے بعد صدر اوبامہ نے پریس کانفرنس کی۔ ہر پریس کانفرنس میں سوال و جواب کا وقفہ بہت اہم اور دلچسپ ہوتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی کی بحالی کے سلسلے میں سوالات ہوئے۔ صدر اوبامہ کے جوابات ایسے تھے جو کسی بچے کو ٹالنے کے لئے ہوتے ہیں۔
اتنے میں ایک صحافی نے سوال داغ دیا۔ یہ داغ پہلے سے اس کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا۔ یہ وہ سوال ہیں جو لکھ کر دئیے جاتے ہیں۔ جنہیں سپانسرڈ کہا جاتا ہے۔ جواب بھی پہلے سے طے ہوتا ہے مگر صدر اوبامہ مزاحیہ سنسنی خیزی اور معنی خیزی کے ساتھ مسکرائے۔ انہوں نے آنکھ ماری۔ غالباً سوال کرنے والے صحافی کو مگر وہ جا کے لگی ساتھ والی امریکن لیڈی جرنلسٹ کو۔ اور وہ اپنی خوشی کو چھپا نہ سکی۔ اتنے میں ایک مکھی صدر کے بالکل سامنے بالکل قریب میز پر آ کے بیٹھ گئی وہ اتنی تربیت یافتہ تھی کہ اپنی جگہ پر آ کے بیٹھی جو مقرر کی گئی تھی۔ وہ اتنی آسانی اور پھُرتی سے آئی جیسے اس کام کے لئے بڑی ریہرسل اس نے کر رکھی ہو۔ جس کمرے میں امریکی صدر ہو وہاں مکھی کیسے آ سکتی ہے۔ ممکن ہے مکھی کو وہم ہو کہ یہ کالا کیسے امریکی صدر ہو سکتا ہے۔ رسول کریم نے فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ۔ صدر اوبامہ کے لئے عرض ہے کہ بندہ کالا ہو مگر اس کا دل کالا نہ ہو۔ اپنے صدر ہونے کا اعتبار خود صدر اوبامہ کو نہیں مگر پاکستانی حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بہت ہے۔ صدر اوبامہ نے بڑے مزے سے مکھی کو ہاتھ بڑھا کے کچل دیا اور دوسرے ہاتھ سے نیچے پھینک دیا۔ یہ کیا مکھی ہے کیونکہ کسی مکھی کو اتنی آسانی سے مارنا ممکن نہیں ہوتا پچھلے دنوں کہیں کھلی جگہ پر اوبامہ تھے۔ ایک مکھی بار بار ان کے چہرے پر بیٹھنے کی کوشش کرتی تھی اور اسے اوبامہ بڑی بیزاری اور بے قراری سے اڑاتے تھے۔ جبکہ اس کام کی بچپن سے ان کو بڑی پریکٹس ہو گی مگر وہ ناکام رہے۔ مگر آج مکھی بڑے اطمینان سے کچلی گئی جیسے وہ اس کام کے لئے بنائی گئی اور تیار کی گئی تھی۔ یہ پیغام پاکستانی حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لئے ہے۔ خدا کے لئے وہ مکھی نہ بنیں۔ مکھی ہی بننا ہے تو شہد کی مکھی بنےں۔ میرے قبلے کے سردار شاعری کے خان اعظم منیر نیازی کا یہ شعر بہت لوگوں نے تقریروں وغیرہ میں پڑھا ہے۔ انہیں مرنے سے بہت ڈر لگتا مگر یہ شعر پڑھنا ضروری لگتا ہے۔ یہ شعر صدر اوبامہ کی طرف انگریزی میں ترجمہ کر کے بھیجا جائے۔
یہ کام شیری رحمان تو نہیں کریں گی۔ پھر بھی کوئی تو ہو
کچھ صدر اوبامہ ظالم سی
کچھ مینوں مرن دا شوق وی سی
یہ مکھی بھی سپانسرڈ تھی۔ پاکستانی ایجنٹوں کی طرح۔ اور جنہیں امریکہ مرنے نہیں دیتا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی طرح اور کئی سابق پاکستانی حکمرانوں کی طرح۔ ورنہ لیاقت علی خان بھٹو صاحب جنرل ضیا اور بے نظیر بھٹو شہید کر دئیے گئے اور کچھ مرنے کے بعد اپنے اہلخانہ کی کفالت کے لئے بم دھماکے بھی کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں امریکہ کے غلاموں نے کہا کہ پاکستانی مکھی تھی اور صدر اوبامہ نے اسے کچل کر کوئی پیغام بھیجا ہے۔ نجانے حنا ربانی کھر نے صدر زرداری کو کیا بتایا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ امریکی مکھی تھی۔ اس کے بارے میں حسین حقانی کو بہت پتہ ہو گا۔ وہ اس کا شجرہ نسب بھی جانتے ہوں گے۔ وہ امریکی جو پاکستانی ہیں اور دوہری شہریت کی چالاکی میں امریکی بنے ہوتے ہیں.... پہلا خیال فرح ناز اصفہانی کی طرف جاتا ہے.... بہرحال زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کامیاب واردات کے بعد صدر اوبامہ نے کسی کو تین بار آنکھ ماری۔ تین آدمیوں کو ایک ایک کر کے ماری ہو گی شاید؟
صدر اوبامہ کی یہ حرکت امریکن ڈپلومیسی کی گھٹیا ترین حرکت تھی۔ وہ پاکستان کے لئے یہ خیال رکھتے ہےں تو پاکستان کے لالچی اور ڈرپوک حکمرانوں اور سیاستدانوں کو شرم کے مارے کچھ تو سوچنا چاہئے۔ صدر زرداری کی حکومت نے نیٹو سپلائی کے معاملے میں امریکہ کو بوکھلا کے رکھ دیا ہے۔ اب امریکہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ وہ عالم اسلام کے تمام حکمرانوں کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتا ہے۔ انہیں مکھی مچھر کی طرح کچلنے مارنے پر تُلا ہوا ہے۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے مگر وہ ڈھٹائی سے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے۔ افغان مجاہدین اور فریڈم فائٹر امریکہ پر شہد کی مکھیوں کی طرح جھپٹ پڑے ہیں اور وہ بُری طرح بلبلا رہا ہے اور ہڑبڑا کر پاکستان کو ڈرانے دھمکانے اور بہکانے بہلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میری گزارش پاکستان کے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے ہے کہ وہ کسی ڈراوے کسی بہکاوے میں نہ آئیں اور ڈٹ جائیں۔ افغانستان میں وہ پاکستان کے بغیر بے یار و مددگار ہے افغانوں نے کبھی کسی کی اطاعت قبول نہیں کی۔ انگریزوں اور روسیوں کے بعد امریکیوں کا بھی حشر ہونے والا ہے۔ پاکستان تھوڑی سی ہمت کرے۔ امریکہ پریشان ہے کہ میرے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہنے والے سینہ تان کر کیسے کھڑے ہو گئے ہیں۔
مگر دو دن پہلے پشاور میں امریکی گاڑیوں سے اسلحہ پکڑا گیا۔ امریکی اور جدید اسلحہ تھانے لایا گیا۔ پھر انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اسلحہ بھی ساتھ میں دے دیا گیا کہ تم نے جس کو یہ اسلحہ دینا ہے اُسے دے دو۔ یہ بے غیرتی ہے۔ پاکستان میں پہلے بھی دو قانون ہیں امیر کے لئے الگ غریب کے لئے الگ۔ حکمرانوں اور حکمران سیاستدانوں کے لئے تو قانون ہے ہی نہیں۔ قانون صرف محکوم محروم اور مظلوم لوگوں کے لئے ہے۔ حوالاتیں اور جیلیں صرف انہی لوگوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اب امریکی ان وی وی آئی پی پاکستانیوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ ان کے لئے لاقانونیت بھی چھوٹا لفظ ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی شہروں میں اسلحہ بردار امریکی پکڑے گئے پھر چھوڑ دئیے گئے۔ یہ دوہری بے بسی اور بے غیرتی ہے۔ امریکیوں کو پکڑتے ہی کیوں ہو۔ سب کو معلوم ہے کہ کراچی میں جدید اسلحہ کون پہنچاتا ہے۔ امریکہ کو پتہ ہے کہ نیٹو سپلائی کے لئے حکمران اور سیاستدان اپنے عوام کے ساتھ ڈرامہ بازی کر رہے ہیں۔
آخر میں ایک تاریخی واقعہ عرض ہے ایک بادشاہ تھا نمرود۔ مغرور اور ظالم۔ یوں سمجھئے کہ اپنے زمانے کا صدر اوبامہ تھا۔ اس کی ناک کے راستے موٹا تازہ مچھر دماغ میں چلا گیا۔ اب خیال آتا ہے کہ وہ کوئی مکھی ہو گی۔ وہ دماغ میں کھلبلی مچا کے رکھتی تھی۔ نمرود کو بہت مزیدار سی تکلیف محسوس ہوتی تھی۔ وہ وقفے وقفے کے بعد سر میں جوتیاں مرواتا تھا۔ عراق میں صدر بش کو ایک غیرت مند عراقی صحافی نے جوتے مارے تھے۔ یہ بھی ایک تاریخی تسلسل کی ایک مثال ہے۔ یہ باتیں تاریخ میں ہیں۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے مگر دیر سے دہرا رہی ہے۔ ہمارے ہاں ایک پنجابی مثال بھی ہے جس آدمی کا کمزوروں پر بس چلے۔ وہ گرے ہوﺅں پر وار کرے اسے مکھیاں والا شیر کہتے ہیں۔ امریکہ ایسا ہی شیر ہے۔!!!