PDA

View Full Version : Raja Anwar Ki Rakhdani - Dr Mohd Ajmal Niazi - 7th June 2012



Realpaki
7th June 2012, 09:50 AM
پنجاب یونیورسٹی میں ایک انقلاب کی آرزو راجہ انور کو بے قرار رکھتی تھی۔ وہ سرشار رہنے کی خوشبو بھی اپنے پاس رکھتا تھا۔ شاید راشد بٹ کے علاوہ وہ واحد آدمی تھا جس نے اسلامی جمعیت طلبہ کی راجدھانی میں اپنی سلطنت قائم کر کے دکھا دی تھی۔ مگر اصل میں وہ خوابوں کی راجدھانی کا راجہ ہے۔ انقلاب اور خواب کی سانجھی سرحد پر ایک تخلیقی وطن اس نے ڈھونڈھ لیا ہے۔ اس نے یونیورسٹی ہی میں ایسی کتابیں لکھیں کہ وہ اس حوالے سے طلبہ و طالبات میں زیادہ مقبول ہوا۔ اب تک یونیورسٹی کی فضائیں ہوائیں نہر کنارے درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے اسے پہچانتے ہیں۔ نوجوانی میں محبت کی کوئی نہ کوئی کیفیت وجود میں وجد ضرور کرتی ہے۔ دھمال بھی ڈالتی ہے۔ اسی طرح کی واردات میں راجہ جی نے جھوٹے روپ کا درشن لکھی۔ جو خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے بہت پڑھی۔ کسی نے چھپ چھپا کے پڑھی کسی نے کھل کھلا کے پڑھی۔ جب پنجاب یونیورسٹی کی طلبہ سیاست میں راجہ کا ایک کردار تھا مگر ادبی اور رومانوی دنیا میں اس نے کھلبلی مچا دی۔ اس نے خود بیتی اور خودبخود بیتی کو رلا ملا دیا۔ ایک آدمی افتخار فیروز ہے۔ وہ کچھ لکھتا تو کمال ہوتا۔ گمنامی اور گمشدگی کے درمیان کوئی علاقہ ہے تو وہاں وہ آباد ہوکے ایک غیر آباد زندگی گزارنے لگ گیا ہے۔ اس زمانے کا ایک گواہ ہے اور وہ اس زمانے کا وکیل بھی ہے۔ وہ آج کل پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہے۔ وہ دلیر اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران ہے۔ وہ تعلیمی اور تخلیقی ماحول اس عظیم مادر علمی کی جھولی میں بسانا چاہتا ہے۔ وہ ٹیکنالوجی کا فروغ چاہتا ہے اور شاعری کا ذوق بھی عام کرنا چاہتا ہے۔ آج کل پنجاب یونیورسٹی میں بڑی بڑی تقریبات ہوتی رہتی ہیں۔
راجہ انور کی کتاب قبر کی آغوش کیلئے تقریب پنجاب یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر مجاہد کامران نے کی تھی۔ اب اس کی دوسری کتاب بَن باس کی تقریب بھی پنجاب یونیورسٹی میں ہوئی ہے۔ یہ تقریب کہیں اور بھی ہو سکتی تھی۔ یہ راجہ انور کی اپنی مادر علمی کے ساتھ وابستگی ہے کہ وہ یہاں پرانے زمانے کو نئے زمانے کے ساتھ ہم رنگ کرنا چاہتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں بَن باس کیلئے بات کروں۔ یہ بات بھی سن لیں کہ یونیورسٹی میں اسے جیل جانا پڑا تھا۔ ایسے لوگوں کو جیل بھجوانے کا شوق بھی ظالم اور بزدل لوگوں کو بہت ہوتا ہے۔ ظالم تو بزدل ہوتا ہے۔ بزدل بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس مشہور زمانہ کتاب کا نام ہے۔ بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک۔ یہ عنوان پاکستان میں کتنی ہی کہانیوں کا عنوان بن گیا ہے۔
راجہ انور ایک بہادر آدمی ہے۔ وہ بہادر اہل قلم بھی ہے۔ اس نے اپنے قلم کو عَلَم بنا لیا ہے جو قلم کو تلوار بنا لیتے ہیں۔ وہ اور طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ راجہ انور بالکل اور طرح کا آدمی ہے۔
افغانستان میں قیام کے حوالے سے اس کی کتابیں پڑھیں تو صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں جیسا نہیں ہے۔ اپنی قبر کی آغوش میں پڑا پڑا بھی وہ اپنے قلب کی آغوش میں تھا جن کیلئے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے پھرتا رہا۔ وہی اس کی جان لینے کے درپے تھے۔ وہ ان کے ہاتھ لگ گیا مگر نجانے کیا ہوا کہ وہ ہاتھ ملتے رہ گئے جو آدمی اپنے مرنے کی خبر خود اپنے کانوں سے سنے۔ وہ اپنے اندر شہید ہوتا رہتا ہے۔ کئی بار اس شہادت کی سعادت پانے کے بعد بھی وہ زندہ رہے تو وہ کتنا زندہ شخص ہو گا۔ راجہ انور زندہ تر آدمی ہے اور اسے یہ مقام اس کی کتابوں نے دیا ہے کہ وہ سب کچھ لکھنے کا اہل ہوا ہے جو اس کے ساتھ ہوا ہے اور اس کے دل پر بیتا ہے۔ اس کی پیاری ماں اس کی موت کی خبر سن کر مر گئی۔ ماں تو ہوتی ہی پیار اور وفا ہے۔ وہ بھی وفا کے قافلے سے بچھڑا ہوا ایک سالار ہے۔ جو اپنی موت کی خبر سنتا ہے اور ایک لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والے ماحول میں زندہ رہتا ہے۔ جب وہ اپنی ماں کی قبر پر کھڑے ہو کے فاتحہ پڑھ رہا ہو گا تو فاتحانہ جانثاری کی یاد نے ایک نئی زندگی کا دروازہ اس کیلئے کھولا ہو گا۔ قبر کی آغوش اور بَن باس اسی زندگی کا تحفہ ہیں۔ وہ راجہ سے مہاراجہ بن گیا ہے اور اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ اس کے پاس کوئی سلطنت نہیں ہے۔ کوئی جاگیر نہیں ہے۔ تو پھر اس کے پاس کیا ہے۔ مجھے پتہ ہے مگر مجھے پتہ نہیں۔ راز اور یاد بھی ایک سلطنت ہے۔ راز دو آدمیوں کے پاس نہیں ہوتا۔ راجہ انور نے ہمیں اپنا ہمراز بنا لیا ہے۔ راز کو فروغ دینے کا یہی طریقہ ہے۔ علم بھی راز ہے وہ جو کسی دوسرے کو علم نہیں ہوتا۔ راجہ انور کی کتاب بن باس سفرنامہ بھی ہے۔ ہمراز ہمسفر بھی ہوتا ہے۔ مسافر اپنے آپ کو مہاجر بھی سمجھے تو کمال ہو جاتا ہے جبکہ مہاجر مسافر نہیں ہوتا۔ بن باس بھی ایک طرح سے ہجرت ہے مگر اس ہجرت میں ہجر کچھ زیادہ ہے۔ ہجر اور ہجرت آدمی کیلئے بڑے ضروری ہیں۔ اپنے ہونے اور اپنے پاس کچھ ہونے کا احساس اس کے بغیر پیدا نہیں ہوتا۔ جلاوطنی بھی ہجرت ہے۔ راجہ انور لکھتا ہے کہ میں نے تھائی لینڈ جانے کا قصد کیا تو احتیاطاً اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے گیا۔ لفظ احتیاطاً پر غور کریں۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی فائیو سٹار ہوٹل میں جائے اور کھانا اپنے ساتھ باندھ کر لے جائے۔ خود راجہ صاحب نے لکھا ہے۔ لوگ تھائی لینڈ میں اکیلے جاتے ہیں کہ وہاں کی رنگا رنگ زندگی سے سیراب ہو سکیں اس کا مطلب یہ ہے کہ راجہ صاحب سیراب نہیں ہونا چاہتے۔ بس شاداب ہونا چاہتے ہیں۔ سیراب میں دو نقطے اڑا دیئے جائیں تو باقی سراب رہ جاتا ہے۔ ہوس ایک صحرا ہے اور بندہ سرابوں کے تعاقب میں بھٹکتا ہی رہتا ہے اور کسی کے پاس نہیں پہنچتا۔ جو لوگ عشق کے اصل معانی جان لیتے ہیں بھٹکتے تو وہ بھی ہیں مگر منزل ان کے دل میں ہوتی ہے۔ راجہ انور عشق دستی کا مسافر ہے اور مہاجر بھی ہے۔ اسے بیوی بھی ایسی ہی ملی ہے۔ اس کا یہ تعارف مکمل ہے کہ وہ افغان ہے۔ افغان عورتیں افغان مردوں سے کم نہیں اور مردوں سے بڑھ کر بھی نہیں۔ آزادی نسواں والے عورت کے دشمن ہیں۔ اسے مرد کے مقابلے میں لا کے ایک بے معنی کمپلیکس میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ تھائی لینڈ آزاد سرزمین ہے۔ لفظ تھائی کا مطلب آزادی ہے۔ تھائی لینڈ کی اڑھائی برس کی تاریخ شاہد کہ یہ ملک ایک دن کیلئے بھی غلام نہیں رہا۔ اس لحاظ سے پاکستان انوکھی سرزمین ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے باوجود غلام ہے۔ افغان خاتون نے برجستہ جواب دیا۔ اس کے علاوہ بھی ایک قوم ہے جو ہمیشہ آزاد رہی ہے۔ افغان انگریزوں نے تین بار افغانستان پر چڑھائی کی۔ تینوں بار ناکام اور بدنام ہوا۔ پھر سوویت یونین سپر پاور ہونے کے گھمنڈ میں دس سال تک نوکیلے پتھروں سے ناک رگڑنے کے بعد الٹے پاں واپس بھاگی۔ اس کے بعد بھائی نے امریکہ کا ذکر نہ کیا مگر میری طرف سے گزارش ہے کہ امریکی انگریزوں اور روسیوں سے زیادہ ذلیل خوار ہوں گے۔ تھائی لینڈ میں بادشاہت رہی ہے۔ کبھی کبھی بادشاہت اور آمریت آمرانہ اور شاہی جمہوریت سے اچھی ہوتی ہے۔ اب وہاں پارلیمنٹ اور آئین کا زمانہ ہے۔ مگر سیاستدان اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔
زندگی کو ایک اور زندگی بنانے کی خواہش تو ہمیں بھی ہے مگر راجہ نے اس کیلئے کوشش بھی کی ہے۔ وہ راجہ ہے۔ اس کے پاس جذبوں خیالوں یادوں رازوں اور لفظوں کی راجدھانی ہے۔ اس کی اپنی کوئی رانی بھی ہو گی۔ جیسا راجہ وہ ہے ویسی ہی اس کی رانی ہو گی
ملنا یار جانی کا کھِلنا رات کی رانی کا
گرمی اس کی باتوں کی چشمہ ٹھنڈے پانی کا