PDA

View Full Version : Chief Justice Army Chief Mil Kar Kuch Karien - Dr Muhammad Ajmal - 13th June 2012



Realpaki
13th June 2012, 09:41 AM
چیف جسٹس نے کتنی دردمندی سے کہہ دیا ہے کہ آرمی چیف کو بلانے کا وقت آ گیا ہے۔ چیف ایگزیکٹو کے بلانے سے تو کچھ نہیں ہوا۔ بات کچھ اور بگڑ گئی ہے۔ مختلف اخبارات میں اپنے اپنے مزاج اور معانی کی خبر ہے۔ نوائے وقت نے بہت واضح انداز میں کہا ہے کہ کیا ملک ایسے چلایا جاتا ہے۔ جنرل کیانی سے پوچھتے ہیں۔ ایک اخبار میں یہ بھی ہے کہ وہ بتائیں وہ کیا کر سکتے ہیں۔ ایک اخبار میں یہ خبر اس طرح ہے۔ کوئی کچھ نہیں کرتا تو جنرل کیانی کو بلائیں گے۔
کئی دنوں سے یہ اضطراب سا تھا۔ ہمارے سیاستدان اضطراب کو بھی انقلاب کہہ دیتے ہیں جبکہ یہ بہت بعد کی بات ہوتی ہے۔ ہم بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جنرل کیانی حکومت میں نہ آئیں سیاست میں تو بالکل نہ آئیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کے کرنے کا بڑا کام ہے۔ ان کی آئینی ذمہ داری بھی کچھ ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کی بحالی میں واضح نمایاں اور فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ اپنے منہ سے وزیراعظم گیلانی جو کہتے پھریں۔ نواز شریف کا لانگ مارچ بھی شارٹ کٹ بن گیا تھا۔ وکلا اور سول سوسائٹی نے بے مثال کارنامہ کیا۔
لوگ اتنے تنگ تو کسی دور حکومت میں نہ تھے وہ جنرل مشرف کے دور کو اس سے بہتر کہتے ہیں۔ جنرل کیانی کے آنے پر خوش نہ ہوں گے تو خاموش بھی نہ ہوں گے مگر جنرل کیانی اس طرح لوگوں کو خوش نہ کریں۔ وہ بس ان کی ناخوشی کو ختم کریں۔ حکومت مسائل پیدا کر رہی ہے وہ اسے روک دیں۔ پہلے سیاستدان جرنیل کو بلاتے تھے پھر اس کی حکومت میں شامل ہو کر اسے بھی غیر فوجی حکمرانوں جیسا بنا دیتے تھے۔ لوگ اس پر خوش ہوتے تھے کہ ایک نااہل اور ظالم حکمران سے تو جان چھوٹی۔ یہ اگلی مصیبت ہے کہ اس کے بعد نام نہاد جمہوری حکمران اس سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ فوجی آمر اور جمہوری آمر میں کوئی فرق پاکستان میں نہیں ہے۔
اب تو آرمی چیف کو چیف جسٹس کی طرف سے بلاوہ آیا ہے۔ اس کے بعد سیاستدانوں کے لئے پچھتاوہ ہی پچھتاوہ ہے۔ یہ باتیں بھی سننے میں آئی ہیں اب چیف جسٹس اور آرمی چیف مل کر ہی کچھ کریں گے جو کچھ کریں گے۔ میری استدعا یہ ہے کہ کوئی غیر آئینی کام نہیں ہونا چاہئے مگر آئین کو بچاتے بچاتے ملک بچانے کے خدشات بے قابو نہ ہو جائیں۔ سرزمین بھی بچائیں اور آئین بھی بچائیں۔
چیف جسٹس سے لوگ اتنے خوش نہیں ہیں ناخوش بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے جرنیلوں اور سیاستدانوں سے بیزار ہو کے چیف جسٹس کی طرف دیکھا اور اسے نجات دہندہ سمجھا۔ یہ سچ ہے کہ چیف جسٹس نے بہادری سے معاملات کو نبٹانے کی کوشش کی مگر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ سپریم کورٹ کو حکومتی سیاسی معاملات میں الجھا دیا گیا۔ حکام کے لئے بھی فیصلہ کن فیصلے نہیں کئے گئے عوام کے لئے بھی نہیں۔ ہر کوئی اٹھ کر عدلیہ کے بارے میں ہر طرح کی بات کرتا ہے جو منہ میں آئے کہہ دیتا ہے۔ عدلیہ نے بھی اس ملک کے لئے ماضی میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا کہ لوگ عدلیہ کے لئے سیاست اور فوج سے الگ کوئی نظریہ قائم کریں۔ نظریہ تو ایک ہی ہے اور وہ نظریہ پاکستان ہے۔ اس حوالے سے عدالت کا نقطہ نظر بڑا حوصلہ افزا ہے۔ چیف جسٹس نے اب اپنے بیٹے کے خلاف کارروائی کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔ ماضی بعید میں ایسی مثالیں ہوں گی ماضی قریب میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے۔ اس کے لئے لوگ وزیراعظم گیلانی اور چیف جسٹس میں موازنہ کر رہے ہیں۔ جنرل کیانی نے فوج کی نمائندگی اس طرح کی ہے کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حرمت کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ اب فوج پر بھی تنقید ہوتی ہے۔ چیف جسٹس کے بیٹے کا مسئلہ۔ میڈیا کی مدد سے اٹھایا گیا ہے۔
وزیراعظم کو فوج کی ترجمانی کرنے کا کیا حق ہے اور کیا ضرورت ہے۔ فوج چیف جسٹس کے بیٹے کے معاملے میں ملوث نہیں ہے۔ عدلیہ کی طرف سے فوج پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا۔
اس دوران اپوزیشن لیڈر چودھری نثار کا یہ بیان ایک دھماکہ ہے اور دھمکی بھی ہے۔ جنرل مشرف کی آرمی چیف کے طور پر تعیناتی کا فیصلہ درست تھا تو پھر جنرل مشرف کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت توڑنے کا فیصلہ کیوں غلط ہے۔ چودھری صاحب ایسی باتیں کرکے نواز شریف کے لئے مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ نواز شریف نے ابھی تک ملک ریاض کے مقابلے میں چیف جسٹس کے حق میں ایک بیان بھی نہیں دیا۔ اس حوالے سے بھی صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کے خلاف بیان دیا ہے۔ صدر اور وزیراعظم اس سازش کے پیچھے ہیں۔ میمو سکینڈل کے لئے وہ خود عدالت میں پہنچے تھے۔ اب واضح طور پر بیان بھی دینے کے لئے تیار نہیں۔ ملک ریاض نواز شریف کا گہرا دوست ہے۔ وہ رحمان ملک اور صدر زرداری کا بھی دوست ہے۔ اب چیف جسٹس کو بھی سوچنا چاہئے کہ اصل واردات کیا ہے۔ آزاد عدلیہ کسی کو قبول نہیں ہے۔
ملک ریاض کے لئے عرض ہے کہ جو سب کا دوست ہوتا ہے وہ کسی کا دوست نہیں ہوتا۔ اعتزاز کا بھی یہی رویہ ہے۔ وہ ملک ریاض کا دوست بھی ہے۔ جرنیلوں ججوں سول اور ملٹری افسروں سے اس کی دوستی ہے۔ ملک ریاض چیف جسٹس کو دوست نہ بنا سکا تو اس کے بیٹے کو دوست بنا بیٹھا۔ جنرل کیانی بھی ملک ریاض کا دوست نہیں ہے۔ تو میری گزارش یہ ہے کہ چیف جسٹس اور آرمی چیف مل کر اس ملک کو برباد ہونے سے بچانے کے لئے کوئی آئینی اور قابل قبول حل نکالیں۔ اس سیاست سے تو بچائیں جس نے اس ملک کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ ملک ریاض کا شکریہ کہ وہ ان دونوں کو مل کر کچھ کرنے کی طرف لے آئے ہیں۔ میڈیا کا ایک حصہ اور سیاستدان دونوں اداروں کو برباد اور بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہےں۔