PDA

View Full Version : Hum Kitney Gandy Loog Hain - Dr Muhammad Ajmal - 15th June 2012



Realpaki
15th June 2012, 10:43 AM
زردار اس ملک میں بہت ہیں۔ زرداری صرف ایک ہے۔ ملک ریاض زردار تو ہے مگر زرداری نہیں بن سکتا۔ اس نے سوچا کہ زرداری کا دوست ہونا تو ممکن ہے۔ وہ سب کو خریدتا ہے اس نے خود کہا ہے کہ اس ملک میں کون ہے جسے خریدا نہ جا سکے اور وہ صدر زرداری کا مفت میں زرخرید ہو گیا ہے۔ بیچنے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں۔ اپنا ضمیر اور اپنی زمین۔ یہ دونوں چیزیں فار سیل لگی ہوئی ہیں یہ بات کوٹ کرنا بھی شرمندگی ہے۔ ایک امریکی نے کہا تھا کہ پاکستانی کیا چیز ہیں ایک ڈالر کے لئے اپنی ماں بیچ دیتے۔ اپنی دھرتی کو ماں دھرتی کہتے ہیں۔ اے دل دھرتی بنانے والے کہاں گئے
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے
کئی لوگوں سے لوگ ملک ریاض کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر بیزار ہیں مگر کیا کریں۔ اس کہانی میں سے کچھ باتیں نکلی ہیں۔ شاید کوئی ریلیف پڑھنے والوں کو ملے۔ ورنہ تکلیف ہی تکلیف ہے۔ عمران خان کے لئے یہ بات چلی کہ تحریک انصاف کے جلسوں کے لئے روپے ملک ریاض نے لگائے ہیں۔ یقیناً یہ روپے اپنے ہاتھ سے عمران نے نہیں پکڑے ہونگے۔ میانوالی کے ڈاکٹر شیرافگن نے کہا کہ عمران نے ملک صاحب سے پیسے لئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو تھوڑی سی غلط فہمی ہوئی ہے۔ یہ پیسے بھی عمران خان نے اس طرح لئے ہونگے جیسے وہ شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے چندہ لیتے ہیں اور اس کا شکریہ بھی قبول کر لیتے ہیں۔ سنا ہے ڈاکٹر شیرافگن کو دل کا دورہ پڑا ہے۔ اسے لوگ عمران خان کی سیاسی کرامت کی طرح بیان کر رہے ہیں۔ جبکہ کسی کی تکلیف پر خوش ہونا سب سے بڑی ناخوشی ہے۔ عمران خان سے سوال کیا گیا کہ آپ جہانگیر ترین کے طیارے میں سفر کرتے ہیں تو پٹرول کون ڈلواتا ہے۔ لوگوں کو تو خودکشی کے لئے بھی پٹرول نہیں ملتا۔ تو عمران خان نے کہا کہ تم ایک طیارے کی بات کرتے ہو۔ میری سابق بیوی جمائما کے والد کے پاس 757 طیارے تھے۔ عمران کا انداز ایسا تھا کہ یہ طیارے اب بھی میرے ہیں۔ ہمارے سیاستدان چند سال وزیر شذیر رہتے ہیں اور پھر ساری عمر سابق وزیر کے طور پر گزار دیتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان وزیر اطلاعات تو نہیں ہیں مگر اطلاعات تو ان کے پاس ہوتی ہیں۔ وہ باتیں بہت مزے کی کرتی ہیں۔ یہ باتیں انہوں نے آصف ہاشمی سے سیکھی ہیں۔ آصف ہاشمی کو یہ ہنر آتا ہے کہ کونسی بات کس سے اور کس طرح کرنا ہے۔ ڈاکٹر اعوان صاحبہ نے کہا کہ چیف جسٹس اب اپنی منجی تھلے بھی ڈنڈا پھیریں۔ ڈاکٹر صاحبہ کو پتہ ہے کہ وہاں سے ارسلان نکلے گا۔ مگر وزیراعظم کی منجی کے اوپر ڈنڈی پھیرنے کی ضرورت ہے کہ اس منجی کے اوپر عبدالقادر گیلانی، موسٰی گیلانی بیٹھے ہیں۔ فضہ گیلانی اور فوزیہ گیلانی کو بھی آرام اسی منجی پر آتا ہے۔ صدر زرداری کی سیاست کے لئے پی ایچ ڈی تو وزیراعظم گیلانی کی دانائی کو سمجھنے کے لئے ایم بی بی ایس کی ضرورت ہے۔ میاں بیوی بچوں سمیت جب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بہبود آبادی کی وزیر تھیں تو بھی وہ بڑی دلیری بلکہ دیدہ دلیری سے اپنی وزارت کی نمائندگی کرتی تھیں۔ بچے کم خوشحال گھرانا۔ تو انہوں نے ایک لطیفہ سنایا۔ کسی نوجوان سے پوچھا گیا کہ تم کتنے بہن بھائی ہو۔ اس نے کہا کہ پورے پندرہ۔ اس سے پھر پوچھا گیا کہ تمہارے والد کیا کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ بتایا تو ہے کہ ہم پندرہ بہن بھائی ہیں۔ باقی لطیفوں کے لئے آصف ہاشمی سے رابطہ کریں۔
٭٭٭٭٭
آجکل ایک ایس ایم ایس پورے پاکستان میں ہر موبائل فون پر چل رہا ہے۔ جس میں اینکر پرسن اور صحافیوں کے نام درج ہیں۔ ملک ریاض کی طرف سے مبینہ طور پر ان کو دی گئی رقم پلاٹ اور مکان وغیرہ کی تفصیل بھی ہے۔ اس پر یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ یہ سب کچھ ان کو کس طرح بخشا گیا تھا۔ میں ان کے نام ابھی اپنے کالم میں نہیں لکھ رہا۔ وہ آجکل سارے ٹی وی چینلز پر آ آ کے بہت باتیں کر رہے ہیں۔ انہیں شرم نہیں آتی مگر شرمندگی ان کے چہروں پر لکھی ہوئی صاف پڑھی جا سکتی ہے۔ ان کی کامرانیاں، مہربانیاں، عرفانیاں، بشارتیں، چودھراہٹیں، کشف و کرامات، نصرتیں، میریاں فقیریاں اور سیٹھیاں بہت قائم دائم ہیں۔ ان کے لئے ہر دور میں نجات رہی ہے۔ ایک کالم نگار کے لئے سارے کے سارے نجات دہندہ بن جاتے ہیں۔ کسی نامناسب وقت پر کچھ اختصار سے کچھ تفصیل سے بیان کروں گا۔ یہ میری برادری اب سیاسی برادری بن چکی ہے۔ صحافت اور سیاست کی سرحدیں رل مل چکی ہیں بلکہ گڈمڈ ہو گئی ہیں۔ اعتزاز احسن جو خود بھی مشکوک اور متنازعہ کردار بن چکا ہے۔ وہ چیف جسٹس کا دوست ہے اور ملک ریاض کا بھی دوست ہے۔ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کا دوست ہے اور نوازشریف اور عمران خان کا دوست بھی ہے۔ یہی حال ملک ریاض کا ہے۔ جو سب کا دوست بنتا ہے وہ کسی کا دوست نہیں ہوتا۔ اس نے کہا ہے کہ اب اینکر پرسن ایک جماعت بن چکے ہیں اب انہیں کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔ ہر پروگرام میں وہ خود ہوتے ہیں وہ میزبان تو ہوتے ہی ہیں۔ مہمان بھی ہوتے ہیں اور باتیں مہمان خصوصی کی طرح کرتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
ملک ریاض نے چیف جسٹس کی تعریف کی اور ان پر الزامات بھی لگائے۔ ابھی تک ملک صاحب کو یہ ڈر ہے کہ اس کے خلاف کوئی عدالتی کارروائی ہوئی تو حکومت اور اپوزیشن غیر جانبدار ہو گی۔ ملک ریاض نے کہا کہ چیف جسٹس نے بلٹ پروف گاڑی قبول نہیں کی تھی اور پھر یہ بتانے کے لئے کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں یہ بھی کہا کہ یہ انکار تو حمزہ شہباز نے بھی کر دیا تھا۔ یہ بھی خبر ہے کہ حمزہ شہباز ارسلان افتخار کے بہت گہرے دوست ہیں۔ نوازشات سے دھیان کسی اور طرف بھی جا سکتا ہے۔ اس لئے ملک ریاض کی نوازشات کو ریاضیات کہنا چاہئے کیونکہ اس کے لئے کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔ نوازتے تو سب حکمران بھی ہیں اور سیاستدان بھی مگر ملک صاحب کا مقابلہ اس میدان میں کوئی نہیں کر سکتا۔ کروڑوں کے عطیے تحفے اور پیسے کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ اس فہرست میں ایسے ایسے نام ہیں کہ آدمی حیران ہوتا ہے اور پھر پریشان ہوتا ہے۔ صحافی، سیاستدان، جرنیل، فوجی اور سول افسران مگر کچھ ناموں پر نگاہ ٹھہر جاتی ہے۔ شیخ رشید اور حنیف عباسی وہ ایک دوسرے مدمقابل ہیں ایک دوسرے کے مخالف ملک ریاض کے آگے ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ وفاقی حکومت اور ساری صوبائی حکومتیں ملک ریاض کی محتاج نظر آتی ہیں ع
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
صدر زرداری کے دور میں اور کیا کچھ ایکسپوز ہونا ہے۔ ہم کتنے گندے لوگ ہیں۔ گندے تو ہم ہیں مگر ہماری گندگی ساری دنیا والوں کے سامنے بکھیری جا رہی ہے۔ کوئی بتائے کہ ہم چاہتے کیا ہیں؟
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا