PDA

View Full Version : Fouzia Wahab Or Kai Aurtoun Kay Khawab - 19th June 2012



Realpaki
19th June 2012, 09:28 AM
فوزیہ وہاب کے مرنے کی خبر ہے اور یقین ہی نہیں آتا۔ وہ ایک زندہ عورت تھی زندہ تر.... پیپلز پارٹی کی سیاسی عورتوں کو اچھا پارلیمنٹیرین ہونا بڑی آسانی سے نصیب ہو جاتا ہے۔ پھر بھی وہ خوش نصیب کیوں نہیں ہوتیں۔ ہمیشہ فوزیہ خوش خوش نظر آئی۔ ہنستی مسکراتی ہوئی دوستانہ اور بے تکلفانہ انداز ایک گریس کے ساتھ اچھا لگتا تھا۔ ایسی عورت سے بے تکلف ہونے میں آسانی ہوتی ہے اور مشکل بھی ہوتی ہے۔ نظر آنے والے جمال کے ساتھ نظر نہ آنے والا جلال بھی ہو تو آدمی بہت متاثر ہوتا ہے۔ بہت بڑھ بڑھ کر بولنے والے بھی فوزیہ کے سامنے سوچ سوچ کر بولتے تھے۔ لگتا تھا کہ وہ غصے میں آئی ہوئی ہے مگر کوئی جذباتی کیفیت اس کے لہجے کو ڈسٹرب نہ کرتی تھی۔ پیپلز پارٹی کے مردوں کو دیکھا کہ ان کی گفتگو میں غصہ زیادہ بولتا ہے۔ فیصل رضا عابدی کو سنتے ہوئے وحشت ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے میں یہ وحشت گردی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اکثر مرد جارحانہ انداز میں بھی مدافعانہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ ان کا ردعمل ردی عمل بن جاتا ہے۔ اور بھی کچھ خواتین پیپلز پارٹی میں ہیں جن کے نام مجھے بھول گئے ہیں۔ پشاور سے ایک دبلی پتلی ایم این اے خاتون بہت ٹھہرے ہوئے انداز میں بولتی ہیں۔ اس کا شوہر بھی پیپلز پارٹی میں ہے۔ اس نے اپنی بیوی سے کچھ نہیں سیکھا۔ مردوں کیلئے بیویوں سے سیکھنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اپنی بیوی کو ایم این اے بنوا لیتے ہیں مگر اسے مانتے نہیں۔ فوزیہ وہاب کو ماننے والے بہت ہیں۔ اس کی بے وجہ موت نے اس کے مخالفوں کو بھی رلا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے لوگ تو اسے یاد کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے بابر غوری کو اس کیلئے بات کرتے روتے ہوئے میں نے خود دیکھا اس کی آنکھوں کے آنسو ٹپکتے ہوئے دیکھے۔ بابر غوری کیلئے بھی دل میں ایک اچھی کیفیت پیدا ہوئی اور فوزیہ کیلئے میری پسندیدگی کو ہمنوائی ملی۔
وہ میرے گھر آئی تھی۔ پیپلز پارٹی کی خاتون لیڈر فائزہ ملک ساتھ تھی۔ میرے دس مرلے کے کوارٹر میں وہ اس شان سے بیٹھی ہوئی تھی جیسے ایوان صدر میں بیٹھی ہو۔ میری بیوی رفعت کم کم سیاستدان عورتوں کی بات کرتی ہے۔ فوزیہ وہاب کیلئے وہ محبت بھرا تجسس رکھتی تھی۔ اسے دیکھا تو حیران رہ گئی۔ پہلی ملاقات میں بے تکلف ہو گئی۔ اس سے کہنے لگی۔ آپ سکرین پر کچھ مدبر لگتی ہو۔ مگر آمنے سامنے دیکھنے میں بہت ینگ (کم عمر) لگتی ہو۔ تازہ دم اور نئی نویلی خوشبو کی طرح۔ فوزیہ بہت دل سے ہنسی۔ وہ ہمیشہ دل سے ہنستی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ روتی بھی دل سے ہو گی۔ مگر کوئی اس منظر کا گواہ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں بس وعدہ معاف گواہ ہوتے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ جو رو نہیں سکتا وہ ہنس بھی نہیں سکتا۔ وتنامی حریت پسند لیڈر ھوچی منہ شاعر بھی تھا۔ لیڈر شاعر نہ ہو مگر اس میں شاعرانہ ادائیں تو ہوں۔ جو ناچ نہیں سکتا وہ لڑ بھی نہیں سکتا۔ فوزیہ نے ایک ممتاز صحافی وہاب صدیقی سے شادی کی تھی۔ یہ بھی ایک زنانہ معرکہ آرائی ہے۔ مجھے یہ جملہ کبھی اچھا نہیں لگا کہ فلاں عورت نے مردانہ وار کامیابی حاصل کی۔ عورت ایسا کر ہی نہیں سکتی۔ اس کیلئے زنانہ وار کے الفاظ زیادہ موزوں اور مناسب ہیں۔ فوزیہ وہاب میں اتنی جرات تھی اور وہ مقابلے میں آئے ہوئے مردوں سے زنانہ وار مقابلہ کرتی تھی جبکہ مرد اس میدان میں گھبرایا ہوا رہتا ہے جہاں عورت اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو۔
وہ دوستیوں اور اپنائیتوں سے لبالب بھری ہوئی عورت تھی۔ میری اس سے زیادہ ملاقات نہ تھی مگر وہ جانتی تھی کہ میں اس کی کچھ عادتوں صلاحیتوں اور جراتوں کا قائل ہوں۔ تو میری طرف مائل ہوئی۔ ایک بار ایوان صدر میں مجھے تلاوت کیلئے اس نے پوچھا تو میں نے کہا میں قرات کے ساتھ تلاوت نہیں کر سکتا۔ میں ایسی آیت کریمہ پڑھ دوں گا کہ 99 فیصد لوگوں کو محفل سے بھاگنا پڑ جائے گا۔ لا حول و لا قوة الا باللہ۔ وہ ہنسی اور کہا کہ سب سے پہلے میں بھاگوں گی اور وہ بھاگ گئی۔ گورنر ہاس لاہور میں وہ اپنے گرد بڑے جھمگٹے سے آزاد ہو کر میری طرف لپک کر آئی۔ میں ایک تخلیقی خاتون شاعرہ اور کالم نگار صوفیہ بیدار کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس نے اتنی دلربائی سے میرا نام لے کے مجھے پکارا کہ سب لوگ دیکھنے لگے۔ مجھے بہت اچھا لگا۔ میں نے صوفیہ بیدار کا تعارف کرایا۔ وہ اسے بہت چاہت سے دیکھتی رہی جیسے اسے پہچانتی ہو۔ پھر اس نے صوفیہ کے ایک کالم کا ذکر کیا۔ میں صوفیہ کو پڑھتی ہوں۔ یہ کسی سیاستدان خاتون کا حیران کر دینے والا تاثر تھا ورنہ اکثر سیاستدان پڑھتے وڑھتے نہیں اور جھوٹ بہت بولتے ہیں۔ میں نے صوفیہ سے فوزیہ کے دکھ کو شیئر کیا تو اس نے اپنی مرحوم ماں نصرت ادیب ہاشمی کا شعر سنایا
سوہنے لوگوں کو چھینتی ہے موت
کتنی مردم شناس ہوتی ہے
اس موقعے پر میں نے صوفیہ کی اجازت سے دوسرا مصرعہ بدل دیا ہے۔
کتنی عورت شناس ہوتی ہے
پیپلز پارٹی کی کئی خواتین مجھے یاد آتی ہیں۔ وہ مردوں سے زیادہ صلاحیتوں سے بھی مالامال ہوتی ہیں۔ ٹی وی چینلزپر پیپلز پارٹی کئی عورتیں اپنے مرد سیاستدانوں کی نسبت زیادہ اچھی طرح اپنی پارٹی کا مقف پیش کرتی ہیں ان کی کئی باتوں سے مجھے اختلاف ہوتا ہے مگر ان کے انداز گفتگو کا اعتراف ضرور ہے۔ فرزانہ راجہ کو میں نے دیکھا جب جنرل مشرف کا دور حکومت تھا۔ وہ اپوزیشن میں بہت دلیری اور دلبری سے ثابت قدم رہی۔ آپا ذکیہ شاہنواز کے سفید بال انہیں اور زیادہ باوقار اور قابل اعتبار بناتے ہیں۔ ن لیگ کی عارفہ خالد بھی اپنی شائستگی اور شگفتگی سے متاثر کرتی ہے۔ تب فرزانہ راجہ صوبائی اسمبلی میں جوش اور ولولے سے نظر آتی تھی۔ اسے وہ قومی اسمبلی میں بینظیر انکم سپورٹ میں بہت فعال ہے۔ وہ اگلے الیکشن کیلئے بہت سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ ان لمحوں میں پیپلز پارٹی والوں کو فوزیہ وہاب بہت یاد آئے گی۔
جنرل مشرف کے دور میں اپوزیشن واقعی اپوزیشن تھی۔ مجھے ن لیگ کی خواتین سے عائشہ جاوید نے ملوایا۔ مجھے مخلص اور مستعد ورکر اماں شاہدہ پسند آئی۔ اسے نوازشریف بھی اماں شاہدہ کہتے تھے۔ اب وہ بے یارومددگار ہے یہی حال میڈیا میں مسلم لیگ ن کو زندہ رکھنے والے ناصر اقبال خان کا ہے۔ ورکرز اور ورکرز لیڈر سیاسی پارٹی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اسمبلی میں زیادہ آوازیں عورتوں کی سنائی دیتی ہیں۔ مختلف سیاسی تقریبات میں ان کی شمولیت زیادہ ہوتی ہے۔ مجھے اپوزیشن کے خواتین و حضرات زیادہ پسند آتے ہیں۔ دھینگا مشتی اور نوراکشتی مرد ممبران بھی کرتے ہیں مگر باتوں باتوں میں لڑائی کی ماہر عورتیں ہوتی ہیں۔ ایم پی اے آمنہ الفت تقریر اچھی کر لیتی ہے۔ ثمینہ خاور حیات سیمل کامران جھگڑا اچھا کر لیتی ہیں۔
ایک فوزیہ وہاب کو یاد کرتے کرتے میں نے کئی سیاسی عورتوں کا ذکر کر دیا۔ اس کا کریڈٹ بھی فوزیہ وہاب کو جاتا ہے۔ بینظیر بھٹو کی موجودگی میں عورتوں کو بہت پذیرائی ملی۔ فوزیہ وہاب بھی یہ عشق رکھتی تھی۔ میں نے بہت اچھے اچھے لوگوں کو فوزیہ کیلئے دکھ میں ڈوبا ہوا دیکھا اور اس میں پیپلز پارٹی کے علاوہ بھی بہت لوگ ہیں۔ اس کی موت کا یقین ہی نہیں آتا
انوکھی چمک اُس کی آنکھوں میں تھی
ہمیں کیا خبر تھی کہ مر جائے گی