PDA

View Full Version : Chief Bamuqabla Chief - Mubeen Rasheed - 7th November 2012



Realpaki
7th November 2012, 10:28 AM
یہ تو ایک نہ ایک دن ہونا تھا، خطرہ یہ تھا کہ شاید بہت دن پہلے نہ ہو جاتا لیکن بالآخر ہو گیا۔ طاقت اور اقتدار کی جنگ اکثر طاقتور لوگوں کو اس موڑ پر لے آتی ہے جہاں غلط فہمیاں اپنی آخری سطح کو چھونے لگتی ہیں۔ یہ بہت سادگی ہے اگر ہم کہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جی ایچ کیو میں اتفاقیہ طو رپر خطاب کرتے ہوئے دو سوال اٹھائے اور محض ایک گھنٹے پہلے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے 5 سوال داغے۔
چلیں پہلے چیف آف آرمی سٹاف کے سوالوں کو دیکھ لیتے ہیں کیونکہ اصل زلزلہ اور طوفان تو انہی سوالوں سے بپا ہوا ہے۔
1۔ کیا ہم قانون کی حاکمیت اور آئین کی بالادستی قائم کر رہے ہیں؟
2۔ کیا ہم اداروں کو مضبوط کر رہے ہیں؟
بظاہر تو یہ سوال خود اپنے اندر جواب لئے ہوئے ہیں لیکن سا تھ ہی ایک سوال یہ بھی پیدا ہو گیا کہ مخاطب کسے کیا گیا۔ وضاحتیں آ رہی ہیں اور آتی رہیں گی کہ چیف جسٹس قطعی ان کا ٹارگٹ نہیں تھے لیکن بین الاقوامی میڈیا اور پاکستانی میڈیا کی متفقہ رائے ہے کہ اشارہ صرف ایک ہی جانب ہے البتہ ٹمپریچر کو نارمل کرنے کے لئے ملبہ میڈیا پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔
پاکستان میں بدقسمتی یہی رہی ہے کہ پاکستان میں ہر طاقتور شخص نے ملک پر اپنی اجارہ داری اور اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے قانون کی حاکمیت اور آئین کی بالادستی جیسے الفاظ کا سہارا لیا ہے، وگرنہ یہ الفاظ قانون یا مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں تو اچھے لگتے ہیں حقیقت سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں وگرنہ اقتدار کے بھوکے یہ جرنیل اور سیاستدان آئین کی ایک شق زبانی نہیں سنا سکتے یا انہیں پتہ ہی نہیں کہ کسی بھی ریاست کو چلانے اور بچانے کے لئے آئین کی اہمیت کیاہوتی ہے۔ آئین کے متعلق سب سے دلیرانہ تبصرہ مرحوم جنرل ضیاء الحق کر گئے تھے کہ آئین تو کاغذ کا ٹکڑا ہے ۔ شاید ان سے پہلے یا بعد کسی جنرل یا سیاستدان کو حقیقت حال عیاں کرنے کی توفیق نہیں ہوئی وگرنہ قانون اور آئین کا جو حشر 9 سالوں میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے اور قانون کا حشر نشر ساڑھے چار برسوں میں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کیا وہ اپنی جگہ تاریخ کا حصہ ہے۔
لوگ چیف آف آرمی سٹاف سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آئین اور قانون کی تعریف سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے بعد اب چیف آف آرمی سٹاف بھی کیا کرے گا۔ پہلے ہی سپریم کورٹ اور موجودہ حکومت کے درمیان آئین و قانون کی تعبیروتشریح پر جنگ جاری ہے۔ اب ایک اور چیف بھی اس میں حصہ ڈالنے کے لئے پَر تولے بیٹھے ہیں جس کی وجہ بہت ظاہر ہے کہ مخالف چیف نے حکومت کے بعد ایک دو نہیں کل 9 سابق جرنیلوں کے گریباں چاک کر دیئے ہیں اور یہ بات موجودہ جوانوں کو ہضم نہیں ہو رہی کہ کل کلاں کو معاملہ ان تک بھی آ سکتا ہے۔
آپ کو یاد ہو گا لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے متعلق کمال بیزاری سے بیان دیتے ہوئے کہتے تھے کہ مشرف کے متعلق تو بات بھی کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا، وہ مجھ سے بہت جونیئر تھا۔ اسے کیا پتہ پاک فوج کا کمانڈر کیا ہوتا ہے۔ یوں مرا ہاتھی اگر سوا لاکھ کا ہوتا ہے تو ریٹائرڈ فوجی کم از کم سوا کروڑ کا تو ہو گا اور اگر وہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہو تو پھر شاید سوا ارب کا ہی ہو گا اور جب آپ یکدم تین جرنیلوں پر ہاتھ ڈال لیں اور اس سے قبل ایک سابق چیف آف آرمی سٹاف کو بھی عدالت کے کٹہرے میں گھسیٹ لیں تو پھر اتنا غصہ تو کم از کم جائز ہونا چاہئے اور وہ بھی انتہائی سادہ اور معصومانہ سوالوں کی صورت میں۔
جنرل کیانی کو کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے، احتساب سے ادارے کمزور نہیں مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر اس بہانے پاک فوج کے اندر چھپی ہوئی کالی بھیڑوں کا احتساب ہو جاتا ہے جنہوں نے این ایل سی سکینڈل کے اندرکروڑوں روپے کی کرپشن کی، جنہوں نے 1990ء کے الیکشن کے لئے سیاستدانوں کو خریدنے کی کوشش کی یا پھر اپنے باس کے اشارے پر کمیشن کی خاطر ریلوے کی قیمتی اراضی اونے پونے بیچ دی تو ان کا کھلے عام احتساب ہونا چاہئے تاکہ معاشرے کے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا قانون و انصاف پر اعتبار بڑھے۔ شاید اس لئے اسی ملک کے سب سے مقبول اور مضبوط شخص نے قوم سے جوابی 5سوال کر ڈالے ہیں۔
چیف جسٹس چونکہ 9 مارچ 2007ء کو ایک اور چیف آف آرمی سٹاف کو بھگتا چکے ہیں وہ بھی اتناطاقتور جو اپنی وردی میں بیک وقت تین عہدے چھپائے ہوئے تھا اور تاحیات پاکستان کا ٹھیکیدار بننے کا خواہاں تھا اور آج دردر کی خاک چھاننے والے اس شخص کے لئے اس ملک میں گھسنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس لئے انہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے وہ سنہری جملہ کہا جو منگل کے روز پاکستان بھر کے اخبارات کی لیڈ بن گیا اور شاید آنے والے ہر چیف جسٹس کے لئے ایک مثال بھی۔ وہ دن گئے جب ملکی استحکام کا تعین اسلحہ، ٹینکوں اور میزائلوں سے ہوتا تھا۔ جب سے ہم نے پاک بھارت دشمنی کی دکان بند کی ہے اور ہم نے قوم کو امریکہ سے ڈرانا شروع کیا ہے اس کے بعد ٹینک اور میزائل تو ویسے ہی بے کار ہو چکے ہیں، ویسے بھی کئی دفاعی مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ اب روایتی جنگیں نہیں لڑی جاسکتیں کیونکہ پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے سات ممالک اعلانیہ اور کم از کم 5 ممالک غیرعلانیہ ایٹمی طاقت ہیں اور اگر روایتی جنگ کی بات کی جائے تو ہم سے سات گنا بڑا روایتی حریف بھارت اپنے بے پناہ دفاعی بجٹ کی وجہ سے ہتھیاروں کی دوڑ میں ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ امریکہ ہم پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ ہماری فوج کو استعمال کر کے اپنی پسند کے کام کروا رہا ہے۔ وہ پہلے ہی افغانستان میں اپنے فوجی مروا کر پریشان بیٹھا ہے۔ یہاں تو صرف پیسوں سے کام چل جاتا ہے اور پیسے بھی انتہائی معمولی۔
البتہ اہم بات یہ ہے کہ سیاسی کھلاڑیوں کے کھلاڑی صدر زرداری اس سکرپٹ میں ایک بار پھر کامیاب ہو گئے۔ وہ سینہ پھلا کر کہہ سکیں گے میں نہ کہتا تھا کہ اس چیف جسٹس کو اتنا طاقتور نہ ہونے دیں اور یہی بات انہوں نے معاہدہ بھور بن کے دوران میاں نوازشریف کے کان میں بھی کہی تھی کہ کل کو آپ کو بھی اقتدار میں آنا ہے اس لئے میرے ہم رکاب رہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ میاں نوازشریف نے ان کی بات اور اندازے کو رد کر دیا۔ اب تین بڑوں کی لڑائی میں دو ہاتھی تو فوری طور پر ایک طرف ہو گئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ 18 کروڑ عوام کس کا ساتھ دیتے ہیں۔
جسٹس منیر کی فوج کو مارشل لا ء فراہم کرنے کیلئے نظریہ ضرورت پر بہت زیادہ تنقید کی جاتی ہے شاہد اب اس داغ کو ہمیشہ کے لیے دھونے کا وقت آگیا ہے ویسے بھی ہمارے دیکھا دیکھی سری لنکا کے چیف جسٹس کی حمایت کے لیے بھی وکلاء کے مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ اکیسویں صدی میں بہت کچھ بدل چکا ہے اور بہت کچھ بدلا چاہتا ہے۔