PDA

View Full Version : Malala Per Hamla Koun Kahan Khara Hai - Qamar Zaman Kaira - 10th November 2012



mubasshar
10th November 2012, 11:47 AM
چشمِ نم
جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشقِ پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بجولاں چلو
(فیض)
طالبان نے سوات میں سکول سے گھر واپس جاتی ہوئی چودہ سالہ بچی ملالہ یوسفزئی اور اُس کی ساتھی شازیہ اور کائنات پر حملہ کیا ۔تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان ،احسان اللہ احسان ،نے قاتلانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اگلے روز منطق کو اُلٹے سر کھڑا کرتے ہوئے اُس کا ایک بُودا سا جواز بھی پیش کیا جو عذرِ گناہ بد تر از گناہ قرار پایا۔مگر جب جمہورِ پاکستان اورجمہورِ علماء نے اس پر شدید تنقید کی تو اُسی ترجمان نے کچھ روز بعد ایک بار پھر وضاحت پیش کی جس میں منطق کی مزید ٹانگ توڑی گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فوری اور واضح پوزیشن لی اور جرأت مندانہ مؤقف اپناتے ہوئے ملالہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسی طرح صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف اوروفاقی وزرا ء نے بھی حملے کی مذمت کی۔ صدرِ مملکت نے ملالہ اور اُس کی ساتھیوں کو اپنی بیٹیاں قرار دیا اورکہا کہ اِس رشتے سے بچیوں کا علاج بھی اُن کی ذمہ داری ہے۔ پھر انہوں نے ملالہ کے علاج اور اُس کی بیرونِ ملک روانگی کیلئے خصوصی انتظامات کروائے۔ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اس معاملے پر واضح پوزیشن لی اور ان کی مذمت کی۔(یہ سب پارٹیاں طالبان کے نشانے پر ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو سمیت ان کے کئی ارکان شہید کئے جا چکے ہیں اور بہت سوں پر حملے کیے گئے )۔
تاہم جماعت اسلامی، تحریکِ انصاف، جمعیت العلمائے اسلام ، نون لیگ اور اِس قبیل کی کچھ نیم مذہبی نیم سیاسی جماعتوں نے حملے کی واجبی مذمت کرنے کے ساتھ حملہ کرنے والوں اور اُس کی ذمہ داری قبول کرنے بلکہ پینترے بدل بدل کر وضاحتیں پیش کرتے رہنے والوں کے خلاف کچھ کہنے کی بجائے، اُن کے خلاف لڑنے والے پاکستانی ریاست کے عناصر پر تنقید کرنا شروع کر دی۔ اور بے پر کی اُڑاتے ہوئے کبھی ڈرون حملوں کو اس کا جواز بنایا (حالانکہ سوات اور مانسہرہ میں کبھی کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا)، کبھی ان دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی جوابی کارروائی کو حملے کی وجہ قرار دیا اور کبھی سراسر حملے سے ہی انکار کر دیا۔
طالبان کے بعض معذرت خواہوں نے اس کے تانے بانے امریکہ سے ملائے اور اس کو ایک بہت بڑی سازش کا حصہ قرار دیا۔ حملہ آوروں کی مذمت البتہ نہیں کی گئی۔یوں انہوں نے اقدامِ قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث افراد کی بالواسطہ طرفداری کی۔یہ لوگ زیادہ سے زیادہ کنفیوژن پھیلانے کے مشن پر مامور نظر آئے۔ ایسا لگتا تھاکہ وہ کسی طور طالبان کے سر کوئی الزام نہیں آنے دینا چاہتے خواہ طالبان خود بھی اُس کا اقرار کر رہے ہوں۔جب سے پاکستان اِن سے لڑ رہا ہے، ہمارے اندر موجود اُن کے حامی اِسی طرح کنفیوژن پھیلا کر اُن کی مدد کرتے ہیں اورصاف نظر آنے والی حقیقتوں کو بھی سازش کی تھیوری میں ڈال کر گھماتے ہیں۔تو کیا انفارمیشن وارز کے اِس زمانے میںیہ لوگ بھی کسی ڈیوٹی پر ہیں؟۔جب اِن لوگوں نے دیکھا کہ عوام نے اِس واضح طور پر ظالمانہ اقدام کی مذمت کی ہے تو تحریکِ انصاف کے سربراہ سمیت کچھ لوگوں نے دو تین روز گول مول باتیں کرنے کے بعد ایک کمزور سی مذمت کرنا شروع کر دی۔ لیکن عمران کے محافظ طالبان نے ملالہ پر حملہ کیوں کیا؟ پہلے تو اُنہیں بچی کی تعلیم سے محبت پر اعتراض تھا، لیکن پھر جب آگے سے آیات و احادیث آنا شروع ہوئیں تو ترجمان اپنے مؤقف سے ہٹا اور کہنے لگا یہ کمسن دراصل امریکہ کی آلۂ کار ہے۔ مگر ایسا اختراع کرتے ہوئے اُسے سکولوں میں پڑھائی جانے والی وہ مشہور تمثیل کیوں نہ یاد آئی جس میں بھیڑ کا کمسن بچہ بتاتا ہے کہ وہ تو اُس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا جب کا اُس پر الزام لگ رہا ہے۔ مگر بھیڑئیے نے اُس کو کھا لیا ، یہ عذر تراش کر کہ تم نے نہیں تو تمہارے بھائی نے کیا ہو گا۔ خوئے بد را بہانہ ہائے بسیار (نیت خراب ہو تو بہانے بہت)۔
ہم گذشتہ سات آٹھ برسوں سے ان کے جبر سے لڑ رہے ہیں۔ ہمارے چالیس ہزار لوگ اور کئی ہزار جوان شہید ہوئے مگر ہم نے دہشت گردوں سے ہار نہیں مانی۔یہ بچیوں کے سکول جلاتے ہیں، اُن کے گلے کاٹتے ہیں اور کمسنوں پر حملہ کر کے اُس کے جھوٹے جواز تراشتے ہیں۔
پاکستان قائدِ اعظم جیسے مسلّمہ روشن خیال کی قیادت میں بنا جن کو یہ لوگ کافرِ اعظم قرار دیتے رہے مگر مسلم اکثریت اِن کو نہیں محمد علی جناح کو اپنا قائد مانتی ہے۔اب یہ لوگ جناح کے پاکستان میں اپنی جاہلیت نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔مگر ہم، ہمارے بچے اور یہ قوم اِن شر پسندوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔تصورِ پاکستان دینے والے ہمارے قومی شاعر حضرت علامہ اقبال بیسویں صدی کے مسلمہ اسلامی مفکر تھے۔ اپنے مشہور خطباتِ مدراس میں اُنہوں نے واضح طور پر ثابت کیا کہ اسلام کوئی جامد دین نہیں ہے بلکہ اسلامی شریعہ میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں ممکن ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی رجعت پسند مُلا ں یا خود ساختہ طالبان کی بجائے عوام کی منتخب کردہ پارلیمان کو اجتہاد کا اختیار دینے کا نظریہ پیش کیا۔ یہ ہے پاکستان کے بانیوں کی سوچ جو اِن کی تنگ نظری سے بہت مختلف ہے۔
اسلام میں کوئی جبر نہیں۔ لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانا یا اُن کا فرقہ تبدیل کرواناکسی کٹھ ملاں کا منشا تو ہو سکتا ہے مگر خالقِ قرآن کا نہیں جس نے بارہا اپنے نبیوں سے کہا کہ نہ ماننے والوں کے انجام کے بارے میں اپنے ماننے والوں سے یہی کہو کہ انتظار کرو میں بھی انتظار میں ہوں۔ کہیں کوئی زور زبردستی کا حکم نہیں دیا۔تنگ نظری، نفرت اور تشدد سے کبھی کوئی نظریہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اسلام یا کوئی بھی اور مذہب انسان کے اندرون کو بدل کر اُسے ایک اچھا سماجی اور اخلاقی نمونہ بناتا ہے۔ زبردستی کے ذریعے اس طرح کی روحانی تبدیلی نہیں آ سکتی جو اخلاق کی اصل قوتِ نافذہ ہے۔
اس حملے کے بعد عوام کے بھر پور ردِ عمل کی بنا پر نت نئے جواز بنا کر انہیں شرعی رنگ دینے کی کوشش کی مگر لوگ اُن کی بات سننے سے انکاری ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام انسانی جان کے زیاں کو کتنا برا سمجھتا ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کو نب�ئ رحمت ؐکا خطبہ حجتہ الوداع یاد ہے جس میں آپؐ نے قتل اور بدلے سے منع فرمایا۔یہ کہتے ہیں کہ ملالہ ہالبروک سے ملی مگر یہ نہیں بتاتے کہ ہالبروک اُس کی جرأت سے متاثر ہو کر ملنے چلا آیا تھا۔انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ہالبروک مولانا فضل الرحمان سے بھی ملا۔پھر انہوں نے کہا کہ بچی نے ایک بار امریکی صدر اوباما کی شخصیت کو بھی پسند کرنے کا کہا۔ لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے کہ ملالہ نے اُسی انٹرویو میں انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والی جرأتمندسیاستدان محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو اپنی پسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا تھا اور کہیں آخر میں اوباما کا بھی ذکر آیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنگ نظر اورجاہل لوگ پاکستان کے لوگوں کو اپنی پسند سے بھی محروم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ قبول نہیں کر سکتے۔ آخر وہ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ وہ بند کمروں میں کبھی دبئی اور کبھی قطر میں امریکہ سے مذاکرات کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ گذشتہ تیس برسوں میں انہوں نے کتنے ڈالر وصول کئے۔ انہوں نے اپنے پیش رو مجاہدین کی رونالڈ ریگن سے ملاقاتوں کا تذکرہ بھی گول کر دیا جن میں امریکی صدر نے ان کو امریکی founding fathers جیسی جرأت کا امین قرار دیا تھا۔ خود تو سب سے کھلے عام اور چھپ چھپ کر ملتے ہیں لیکن اگر کسی جرأتمندبچی کی ہمت سے متاثر ہو کر کوئی اُسے ملنے چلا آئے تو اس میں کیا گناہ ہے؟۔ خود رسول اللہؐ نے اپنے ایلچی عیسائی حکمرانوں کے پاس بھیجے اورحضرت جعفر طیار کی سربراہی میں ایک وفد سے ملاقاتوں کے نتیجے میں حبشہ کا عیسائی حکمران مسلمان بھی ہوا۔ اگر یہ اُن سے نہ ملتے تووہ مسلمان کیسے ہو جاتا؟۔ ہمارے مذہب میں کسی غیر مسلم سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں۔
ملالہ ایک ایسی جرأتمند بچی ہے جس نے کم سِنی کے باوجود ان دہشت گردوں کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ۔اس ہمت کی مثال بچی نے فقط اپنے روزمرہ کا احوال سچ سچ لکھ دیا اور دنیا جان گئی کہ یہ لوگوں کے ساتھ کیا کرتے پھر رہے ہیں۔ یہ وہ وقت تھاجب سوات پر ان کا قبضہ تھا اور وہ سرِ عام لوگوں کو پھانسیاں دے رہے تھے اور سواتیوں کی گردنیں کاٹ رہے تھے۔ پاکستان میں مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف اور عمران خان جیسے لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ سب امریکی پراپیگنڈا ہے۔طالبان ایسا نہیں کر سکتے۔ ایسے میں اُس معصوم بچی نے فقط اپناروزمرہ کا احوال سچ سچ لکھ دیا۔ مزید کچھ نہیں۔اب اس میں ان کا کچھ نقصان ہوا تو یہ اُس بچی کا قصور نہیں کیونکہ وہ تو خود مظلوم تھی اور اگر ایک مظلوم نے اپنی اور دیگر مظلومین کی کیفیت لکھ دی، اپنا احوال بیان کر دیا، تو اُس نے کون سا ایسا جرم کر دیا۔ یہ تو ایسا ہے ظلم بھی کرو اور بولنے بھی نہ دو۔ پاکستان کے لوگ انہیں پسند نہیں کرتے۔ اسی لئے یہ آئے دن پاکستانیوں کو قتل کرتے پھرتے ہیں۔آج پاکستان کی بچی بچی کہہ رہی ہے کہ میں بھی ملالہ ہوں، میں بھی پڑھوں گی اور اِس ملک کو جہالت سے آزاد کراؤں گی ۔احسان اللہ احسان کو کب پتہ تھاکہ پاکستان کے بچوں میں اتنا حوصلہ ہے۔
حکومتِ پاکستان نے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی ہے اور ہماری بہادر افواج روز و شب اس فساد فی الارض کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہیں۔ میں ملالہ ڈے پر پاکستان کے تمام لوگوں سے اپیل کروں گا کہ وہ اس قومی فریضے میں حکومت اور افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ انتہا پسندی ایک ذہنی کیفیت اور فکری روئیے کا نام ہے۔ اس کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ قرآنِ کریم کا منہاج بھی دلوں کو بدلنے کا ہے اورنبئ آخرالزّمان ؐ کی زندگی اور تعلیمات سے بھی محبت اور برداشت کا سبق ملتا ہے۔ علمائے کرام، مفکرین، دانشور ، صحافی ، استاد اور سب چھوٹے بڑے پاکستان میں برداشت، تحمل، بردباری اور دوسروں کے نقطہ نظر کے احترام کا کلچر بنانے میں ہماری مدد کریں۔ ہم سب مل کر ہی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہماری قوم میں بہت جان ہے۔ ہم نے مل کر چار آمریتوں کو شکست دی ہے۔ انشا ء اللہ ہم ان کو بھی شکست دیں گے۔ ملالہ بیٹی تمہارا عَلم گرنے نہیں دیں گے۔پاکستان کا بچہ بچہ تمہارے ساتھ ہے۔ تم یقیناًکامیاب ہو۔