PDA

View Full Version : Srif Bhagat Singh Zindabad Kion - Shamshad Ahmed - 12th November 2012



mubasshar
11th November 2012, 10:17 AM
شاید گورنینس سے متعلق ہمارے تفکرات کافی نہ تھے کہ حکومت پنجاب نے سوچے سمجھے بغیر لاہور شادمان چوک کا نیا نام بھگت سنگھ چوک رکھنے کا اعلان کر کے ایک نیا تنازع چھیڑ دیا ہے۔ اس بارے میں یہ خیال بھی نہیں رکھا گیا کہ اس میں بعض تاریخی حقائق کو مسخ بھی کیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کو بوجوہ واپس لے لیا جانا چاہیے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ بہت سے کام ایسے ہیں جو گلیوں، بازاروں اور چوکوں کے نئے نام رکھنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب کسی مقام کا کوئی نام رکھ دیا جاتا ہے تو وہ اس کی ایک مستقل پہچان اور عوامی ملکیت بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر لاہور کے قذافی سٹیڈیم کا نام قذافی سٹیڈیم ہی رہے گا، قطع نظر اس سے کہ گزشتہ برس اسے کس طرح رسوا کیا گیا اور بعد ازاں اسے المناک موت کو گلے لگانا پڑا۔ لاہور کے مال روڈ کا سرکاری نام شاہراہ قائداعظم بھی نصف صدی پہلے رکھا گیا تھا لیکن کوئی بھی اسے اس نام سے نہیں پکارتا۔
شادمان چوک اس علاقے کے باسیوں کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور یہ نام ان کی یادوں میں رچ بس گیا ہے جسے سرحد کے دونوں طرف بسنے والے امن کے کارکنوں کا کوئی گروپ ان کی یادوں سے محو نہیں کر سکتا۔ اگر حکومت اس کے باوجود اپنے یکطرفہ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مصر رہتی ہے تو علاقے کے لوگ بھی سپریم کورٹ سے رجوع کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ بھارت کے مشہور امن کارکن کلدیپ نائر نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں اس فیصلے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اب بھارت او رپاکستان نے اپنے ماضی کی تاریخی شخصیتوں کا احترام کرنا شروع کر دیا ہے اور دونوں ملکوں کے لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ایسی شخصیتوں کو یاد رکھنا مشترکہ جذبوں کو بیدار کرے گا، باہمی بندھنوں کی تجدید کرے گا اور ان کے درمیان فاصلے کم کرے گا۔ اگر واقعتا ایسا ہی ہے تو انہیں اور ان کے ساتھی امن کارکنوں کو چاہیے کہ وہ پہلے ممبئی میں جناح ہاؤس کے دیرینہ مسئلہ کا تاریخی جائزہ لیں۔
تقسیم ہند کے بعد 1949ء میں بھارتی حکومت نے اسے متروکہ املاک قرار دے کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ پاکستان 1979ء سے اسے خریدنے یا کم از کم لیز پر حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے تا کہ اسے قونصل خانے میں تبدیل کر کے بانئ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔
ممبئی میں علامتی طور پر قائداعظمؒ کو خراج تحسین پیش کرنے اور دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان اچھی ہمسائیگی قائم کرنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ بھارت اپنی روایت کے عین مطابق ابتدا میں اس سے اتفاق کرنے کے بعد، اپنی بات سے منحرف ہو گیا۔ حسن اتفاق ہے کہ یہ تاریخی عمارت ہی وہ مقام ہے جہاں جناح ، گاندھی اور نہرو کے مابین ستمبر 1944ء اور اگست 1946ء میں وہ تاریخ ساز مذاکرات ہوئے جنہوں نے ہندوستانی تاریخ کے مستقبل کی صورت گری کی لیکن اس عمارت پر جناح ہاؤس کی تختی تک نصب نہیں۔
کلدیپ نائر کو اپنے مشن کا آغاز پاکستان کے بابائے قوم سے کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے اس کے بجائے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جس کے بارے میں بقول ان کے بہت کم جانا جاتا ہے۔ ہم نے ہندوستان کی تاریخ میں بھگت سنگھ کے مقام و مرتبے کو کبھی چیلنج نہیں کیا بلکہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں اس کے کردار کے اعتراف میں پاکستان نے 1961ء میں رضاکارانہ طور پر دریائے ستلج کے کنارے حسینی والا کا وہ مقام جہاں (لاہور میں پھانسی کے بعد) اس کی چتا جلائی گئی تھی رضا کارانہ طور پر بھارت کے سپرد کر دی۔
کلدیپ نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح بھارتی امن کارکنوں کے ایک گروپ نے حال ہی میں بارڈر پار کیا تاکہ وہ شادمان چوک لاہور میں اپنے پاکستانی ہم منصب ساتھیوں کے ساتھ مل کر بائیں بازو کے تین انقلابیوں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی قربانی کی یاد منا سکیں۔ ان تینوں کو 23 مارچ 1931ء کو برطانویوں نے تختۂ دار پر چرھا دیا تھا۔ نائر کے بقول اس باوقار خاموش مظاہرے نے ایک درد ناک لمحہ کی یاد تازہ کر دی اور دونوں ملکوں کے متعدد لوگو ں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دیں۔ بھارت اور پاکستان کے لوگوں نے آواز سے آواز ملا کر نعرہ لگایا بھگت سنگھ زندہ باد ۔۔۔ انقلاب زندہ باد۔ بھگت سنگھ زندہ باد تو قابل فہم ہے لیکن شادمان چوک میں انقلاب زندہ باد کا نعرہ ہمارے حکمرانوں کو چونکا دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ ایک خاص آئیڈیالوجی سے جذبہ پانے والے گروہ کے دلوں سے اُٹھنے والے ان نعروں سے بعض سنجیدہ سوال پیدا ہوتے ہیں اور سننے والا سوچنے لگتا ہے آخر ان نام نہاد امن کارکنوں کا مقصد کیا ہے؟ اور وہ اب کہاں اور کس قسم کا انقلاب لانا چاہتے ہیں؟ وہ کس قسم کے ہیروز یا نقش قائم کرنا چاہتے ہیں؟ کیا اگر بھگت سنگھ آج زندہ ہوتا تو اسی انقلابی جوش و جذبہ سے کام کر رہا ہوتا اور کیا اس کا انجام ایک بار پھر وہی نہ ہوتا جو 23 مارچ 1931ء کو ہوا تھا؟
کیا کشمیری حریت پسند مقبو ل بٹ کے دل میں وہی آگ روشن نہیں تھی جس نے کبھی بھگت سنگھ کو برطانوی راج کے خلاف کھل کر بغاوت پر آمادہ کر دیا تھا؟ کیا ہم آج کی دنیا میں عسکریت پسندی یا تشدد کے بجائے صبر برداشت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم دانستہ دہشت گردوں کی عظمت کا نقش نہیں ابھار رہے، جن کے سر میں بھی بہر حال ایک سودا سمایا ہوا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ کس قدر گمراہ کن ہے؟ کیا ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم بھی تاریخ کو اسی زاویۂ نظر سے دیکھیں جس سے بھارت دیکھ رہا ہے؟
وہ لوگ جو برصغیر کی تاریخ اور ان حالات سے واقف ہیں جو آخر کار بھارت کی تقسیم پر منتج ہوئے ان سوالات کا جواب خوب جانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ صدیوں تک اکٹھے رہنے کے باوجود زندگی اور تاریخ کے بارے میں ہمارے رویوں میں قطبین کا فاصلہ ہے۔
اور کسی کو پاکستان کی تاریخ مسخ کرنے کا حق حاصل نہیں۔ ایک مقامی انگریزی روزنامہ نے گزشتہ دنوں ہماری تاریخ کو یہ لکھ کر مسخ کرنے کی کوشش کی کہ بھگت سنگھ جیسے لوگوں کے بغیر جناح کو برطانیہ پر دباؤ ڈالنے کا موقع کبھی نہ ملا ہوتا۔ یہ تبصرہ قائد کی توہین کے مترادف ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ ہماری تاریخ مسلم لیگ سے شروع نہیں ہوئی، حتیٰ کہ محمد بن قاسم کے حملے سے بھی نہیں لیکن یہ بھگت سنگھ سے بھی شروع یا اس پر ختم نہیں ہوئی جس کا لاہور سے تعلق صرف اس حد تک تھا کہ اس نے لاہور پولیس ہیڈ کوارٹرز میں 2 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا اور اس کی پاداش میں اسے باقاعدہ مقدمہ کے فیصلے کے بعد اسی شہر میں پھانسی دی گئی۔
بھگت سنگھ کے بے عقیدہ انقلاب کا نصب العین ہندوستان میں سوشلسٹ ری پبلک قائم کرنا تھا۔ قائد، گاندھی یا نہرو کوئی رہنما بھی اس کی بم فلاسفی سے اتفاق نہیں کرتا تھا۔
آئیے ہم ایک دوسرے کے ہیروز کا احترام ملحوظ رکھیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھارت، پاکستان تنازعات سے عہدہ بر آہوں۔ اور پاکستان میں ہم اپنے قومی زعما (قومی ہیرو) کا احترام صرف اسی طرح ملحوظ رکھ سکتے ہیں کہ اپنی قومی آزادی، قومی وقار اور ان اقدار کو قائم رکھیں جو ہمیں ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ان سے ورثے میں ملیں۔
(مصنف سابق سیکرٹری خارجہ پاکستان ہیں)