PDA

View Full Version : Faal Aur Totay - Bushra Ejaz - 17th November 2012 (Jang)



mubasshar
17th November 2012, 11:54 AM
صاحبو! ہر طرف طوطے والے بیٹھے ہیں، فالوں سے حکومت چلائی جا رہی ہے، صدقے بکرے، جوتشی، ٹیروکارڈ، آسٹرالوجسٹ ہر چینل پر بیٹھے آنے والے وقت کا حال بتا رہے ہیں۔ سیاست، مذہب، تقدیر، روزگار، غرضیکہ کون سا شعبہ ہے جو ان استادانِ فن کی دسترس سے محفوظ ہے۔ معاشرہ اکیسویں صدی کا موڑ مڑ کر واپس زمانۂ جاہلیت میں آ گیا ہے جیسے نہ لوگوں کو اپنے زورِ بازو پر یقین، نہ تدبیر، نہ تقدیر پر بھروسا، سارا زور فال والوں پر، سارا انحصار مستقبل بتانے والوں پر!
ہم تازہ تازہ یومِ اقبالؒ منا کر ہٹے ہیں۔ اقبالؒ جو برملا فرماتے ہیں: خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے، ٹھہریئے! کون سی تقدیر، کیسی تقدیر؟ فال والوں کی بتائی ہوئی، یا خدا کی بنائی ہوئی؟ سمجھ نہیں آتا، کس پر انحصار کریں؟ چلیں فال والوں پر ہی سہی، لگے ہاتھوں ان سے محرم کی فال نکلواتے ہیں، کراچی کی فال نکلواتے ہیں، چھیپا او رایدھی کے کفنوں میں لپٹی ہوئی بے گناہ میتوں کی فال نکلواتے ہیں؟ پوچھتے ہیں، نیا اسلامی سال، جس کی مبارکبادیں موبائل پر آتے چلی جا رہی ہیں، کیسا گزرے گا؟ ہم تو غمِ حسینؑ منانے چلے ہیں ناں! ہمیں تو اہل بیت کی عزاداری اور مجالس کے دکھ سے گزرنا ہے۔۔۔ یہ کراچی میں گرتی ہوئی لاشیں، تسلسل سے بہتا ہوا لہو۔۔۔ آخر اس کربلا کا کیا ہو گا؟ یہ بے موسم کی عزداری، یہ ہر وقت کی ماتمی مجالس، آخر ان کا کوئی اختتام بھی ہے؟
قدرے پرانی بات ہے، سنا ہے جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا اور بارہ مئی کو جب کراچی جل رہا تھا تو اسلام آباد میں لڈی اور بھنگڑا شو ہو رہے تھے ۔ اس قدرے پرانی بات کا مضمون مزید یہ بتاتا ہے کہ اس کرائے کے کلچرل میلے کا اہتمام کرنے والا اس شو کو اپنی عوامی طاقت قرار دے رہا تھا اور بلٹ پروف شیشے کی دیواروں کے پیچھے بیٹھا اس سے لطف اندوز ہو رہا تھا اور خود کو یقین دلا رہا تھا کہ اس وقت پوری عوامی طاقت اس کے آہنی مکے میں قید ہے اور وہاں سے دور شہر قائدؒ میں بے گناہ و معصوم شہری مورچہ بند قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر خاک و خون میں نہا رہے تھے، ان کے جان و مال کے محافظ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، رینجرز اور ان کے سربراہ، زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کی مثال بنے، یہ قتل و غارت گری دیکھ رہے تھے، بالکل اسی طرح جس طرح رومی اکھاڑوں میں زندہ انسانوں اور بھوکے شیروں کا کھیل دیکھا جاتا تھا اور اس کے ذریعے لہو گرم رکھا جاتا تھا! مگر لہو گرم رکھنے کا یہ طریقہ اقبالؒ کے خوابوں کی سرزمین پر آہستہ آہستہ نہایت تکلیف دہ ہوتا جا رہا ہے، ہم مر رہے ہیں؟ ہم جی رہے ہیں؟ خدا جانے کیا کر رہے ہیں، شاید تماش بینی ، محض تماش بینی! مگر خود کو تماشا بنانا اور اس سے حظ اٹھانا، کچھ زیادہ آسان بھی نہیں، خصوصاً ان حالات میں جب ملک و قوم کی تقدیر داؤ پر لگ جائے ، اور فالیں نکالنے والوں کی موجودگی کے باوجود بہتری کے اسباب دکھائی نہ دیں، اور وہ جو اپنے تئیں خود کو مسیحائے وقت ثابت کریں، ان کی ناکامیاں اور بے عملیاں صاف ظاہر ہو جائیں!
محرم سے پہلے، محرم کی تیاری۔ کراچی اور بلوچستان میں موبائل سروس پر پابندی، اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی جیسے فعالٗ اقدامات دیکھ کر آنے والے دس دن کیسے ثابت ہونے والے ہیں۔ اس کا اندازہ کسے نہیں! مگر فال والے چونکہ مرضی کے طوطے پالنے والے ہیں چنانچہ انہیں اس وقت بھی ساون کے اندھوں کی طرح ہرا ہی ہرا سوجھ رہا ہے، یعنی سیاست! قوم کا باپ، ملکوال میں اس عید کی عید ملن مناتا ہے، جو تین ہفتے پہلے گزر چکی ہے، اور کمال درد سے قوم کے سوختہ قلب پہ مرہم رکھتے ہوئے فرماتا ہے ریاست ناکام نہیں ہوئی، کراچی کی بدامنی کا مقصد دہشت گردی کی جنگ کو کمزور کرنا ہے۔ اور مجھے دور دور تک اس جلسۂ عظیم میں کوئی ایک نفس بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا، جو جان کی امان پاتے ہوئے قوم کے باپ سے بصد احترام یہ پوچھ لے جناب! مانا کہ دہشت گردی کی یہ مقدس جنگ اس ملک کی بقا کے لیے از حد ضروری ہے، مگر ذرا وضاحت کہ معصوم تو ہو، یہ جونک جس نے اس ملک کے جسد سے آخری قطرۂ خوں بھی نچوڑنے کی ٹھان رکھی ہے، آخر آپ اسے توانا رکھنے پر، پالنے پر کیوں اتنے پر جوش دکھائی دیتے ہیں؟
ایسے ہی سوالات، ملک میں ابتری اور انتشار کی فضا دیکھ کر ذہن میں کلبلاتے ہیں، جسے اداروں میں ٹکراؤ کے غلغلوں، جرنیلوں کے سیکس سکینڈلز کے چٹخاروں اور سیاست کے ہلاروں نے ہوا دے رکھی ہے! ہر طرف سیاست، ہر لمحہ سیاست، فال نکالنے والے طوطے بھی سیانے ہو گئے ہیں، وہ بھی چوری کھلانے والے کی مرضی کی فالیں نکالتے ہیں، ستارہ شناس، منجم، آسٹرالوجسٹ اور جوتشی، یہ ہفتہ کیسا رہے گا کی بنیاد پر، دنوں کی تفصیل بتاتے ہیں۔ مثلاً آج کراچی میں 23لاشیں گریں، کل 14 گریں گی، پرسوں ان میں چار کا اضافہ ہو جائے گا اور ترسوں۔۔۔!
کیا ہی اچھا ہو جو رحمن ملک صاحب محرم کی تیاریوں کے سلسلے میں اپنا آزمودہ نسخہ، موبائل سروس بند اور موٹر سائیکل پر پابندی کی زحمت کے بجائے، فال والے طوطے کو دیسی گھی کی چُوری کھلائیں اور مرضی کی فال نکلوالیں، نہیں تو پھر تمام چینلز پر موجود مستقبل لکھنے والوں سے لگے ہاتھوں پوچھ لیں، اگلا ہفتہ کیسا گزرے گا، مجھے امید ہے وہ تمام دنوں کی مکمل تفصیل مع چارٹ مہیا کر دیں گے، جس کی مدد سے محرم میں ممکنہ خون خرابے اور قتل و غارت گری کو بآسانی روکا جا سکتا ہے، اور شہر قائدؒ میں امن و امان بحال کیا جا سکتا ہے، کیا خیال ہے رحمن ملک صاحب!