PDA

View Full Version : Nafratoun Ka Sodagar - Bal Thackeray - Mubeen Rasheed - 19th November 2012



Realpaki
19th November 2012, 09:38 AM
نفرتوں کے سوداگر بال ٹھاکرے دنیا کے ان بدقسمت لوگوں میں سے ایک تھے جن کے مرنے پر اس کے چاہنے والوں کے اتنے آنسو نہیں بہے جتنا اس کے مخالفین نے سکھ کا سانس لیا۔ تشد، نفرت، خون، دشمنی، بھتہ خوری اور ہر سنگین جرم سے مزین بال ٹھاکرے کی زندگی مسلسل تنازعات کی زد میں رہی۔ ذاتی زندگی کی محرومیاں اور مشکلات اپنی بدترین بربریت اور وحشیانہ پن کے ساتھ باہر آئیں اور پھر وہ ممبئی کا سب سے طاقتور ترین شخص بن گیا۔ بڑے بڑے بدمعاش اور گینگ ماسٹرز اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے، کئی انڈین فلموں کے خاموش ولن کے کردار بال ٹھاکرے کی شخصیت کو سامنے رکھ کر ہی تخلیق کیے گئے۔
1926ء میں ایک سماجی کارکن کشیو ٹھاکرے کے گھر پیدا ہونے والے بال ٹھاکرے اس سال جولائی سے علیل تھے جب انہیں لیلیٰ وتی ہسپتال داخل کرا دیا گیا تھا اگرچہ ایک ہفتے بعد انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ان کی رہائش گاہ پر ان کا علاج کیا جا رہا تھا، ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی اور گزشتہ بدھ سے ان کی حالت بگڑنے پرہسپتال داخل کرا دیا گیا۔ آخر کار ہفتہ کی سہ پہر 3:30 پر ڈاکٹر جلیل پارکر نے بال ٹھاکرے کے انتقال کا اعلان کیا۔ بال ٹھاکرے نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک انگریزی روزنامے سے بطور کارٹونسٹ کیا۔ پھر انہوں نے اپنا جریدہ شروع کیا جو سیاست میں ان کی آمد کاذریعہ بنا۔ 1966ء میں شیوسینا کی بنیاد رکھی۔ بال ٹھاکرے کی پارٹی کا بنیادی سیاسی ایجنڈا ممبئی میں باہر کے رہائشیوں، گجراتیوں اور جنوبی بھارتی شہریوں پر حملہ کرنا تھا جن پر وہ مقامی میراٹھی زبان بولنے والے لوگوں کے حقوق چرانے کا الزام عائد کرتے تھے۔ 1999ء میں ان پر چھ سال کے لیے انتخابات میں حصہ لینے حتیٰ کہ ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جو دسمبر 2005ء میں ختم ہوئی ان کی جماعت 2009ء میں ریاستی انتخابات ہار گئی اور اس کے بعد ہی ٹھاکرے کی صحت بھی گرنا شروع ہوئی۔ 1984ء میں شیوسینا اور بی جے پی نے ممبئی اور مہاراشٹر میں ہندو تووا تحریک شروع کی۔ بال ٹھاکرے سفید رنگ کے کپڑے ، نارنجی رنگ کی چادر اور سیاہ چشمہ پہنے رکھتے تھے۔
بال ٹھاکرے اپنی پارٹی کے اخبار سامنا کا استعمال کرتے تھے جس میں 6دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کی شہادت کے وقت انہوں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے حق میں ایک مضمون لکھا تھا۔ سی بی آئی کی طرف سے ان پر بابری مسجد کی شہادت کی سازش رچانے کا الزام عائد کیا گیا اپنی نفرت آمیز تقاریر کی وجہ سے ان پر متعدد مقدمات دائر کیے گئے۔ بال ٹھاکرے نے پاکستان مخالف پالیسی کے باعث شہرت پائی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی کی سخت مخالفت کی اور اپنے حامیوں سے کرکٹ میچز نہ ہونے کی اپیل کی تھی۔
تقریباً چھیالیس سال تک عوامی زندگی میں رہنے والے شیوسینا کے سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے نے کبھی نہ تو کوئی انتخاب لڑا اور نہ ہی کوئی سیاسی عہدہ قبول کیا۔یہاں تک کہ انہیں باقاعدہ طور پر کبھی شیوسینا کا صدر بھی نہیں بنایا گیا تھا، لیکن ان سب کے باوجود مہاراشٹر کی سیاست اور خاص طور پر اس کے دارالحکومت ممبئی میں ان کا بہت اثر تھا۔ان کا سیاسی سفر بھی بڑا منفرد تھا۔انہوں نے ممبئی میں واقع کمپنیوں کو نشانہ بنایا لیکن دراصل ان کی یہ مہم ممبئی میں رہنے والے جنوبی ہندوستانیوں کے خلاف تھی کیونکہ شیوسینا کے مطابق جو ملازمتیں مراٹھیوں کے حصے میں آنی چاہیے تھیں ان پر جنوبی ہندوستانیوں کا قبضہ تھا۔جنوبی ہندوستان کے کاروبار، املاک کو نشانہ بنایا گیا اور آہستہ آہستہ مراٹھی نوجوان شیوسینا میں شامل ہونے لگے۔
بال ٹھاکرے نے پارٹی کا نام شیوسینا سترھویں صدی کے مشہور مراٹھا راجہ شیواجی کے نام پر رکھا تھا۔ شیواجی مغلوں کے خلاف لڑے تھے۔بال ٹھاکرے نے زمینی سطح پر اپنی پارٹی کو منظم کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لینا شروع کر دیا۔سیاسی حریفوں، تارکین وطن اور یہاں تک کہ میڈیا پر کارکنوں کے حملے عام بات ہو گئی۔ دیکھتے دیکھتے ممبئی کے ہر علاقے میں مقامی دبنگ نوجوان شیوسینا میں شامل ہونے لگے۔ ایک ڈان اور گاڈ فادر کی طرح بال ٹھاکرے ہر تنازعے کو حل کرنے لگے۔لوگوں کو نوکریاں دلانے لگے اور انہوں نے حکم دے دیا کہ ہر معاملے میں ان کی رائے لی جائے۔ یہاں تک کی فلموں کی نمائش میں بھی ان کی من مانی چلنے لگی۔اور تمام ہالی وڈ سٹارز ہاتھ باندھے ان کے آگے موجود رہتے اور پھر ممبئی میں فلم ریلز کرنے کے لیے بھی ان سے منظوری لینا ضروری سمجھا جانے لگا۔
بال ٹھاکرے کی زندگی سے جڑی کئی خیالی کہانیاں عام ہونے لگیں۔کہا جاتا ہے کہ وہ جرمنی کے سابق ڈکٹیٹر ہٹلر کے مداح ہیں۔ابتدائی دور میں حکمراں کانگریس نے شیوسینا کو یا تو نظر انداز کیا یا پھر کئی معاملات میں کمیونسٹوں یا اپنے سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لیے شیوسینا کو حوصلہ افزائی کی۔لیکن اسّی کی دہائی کے دوران شیوسینا ایک بڑی سیاسی قوت بن گئی جو ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے اپنی دعویداری پیش کر رہی تھی۔ 1992ء میں اتر پردیش کے ایودھیا شہر میں تاریخی بابری مسجد کے منہدم کیے جانے کے بعد ممبئی میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جو کئی ہفتوں تک چلے۔ان فسادات میں شیوسینا بھی شامل رہے، فسادات میں کل نو سو افراد ہلاک ہوئے۔ سینکڑوں لوگوں نے فسادات کے بعد ممبئی چھوڑ دیا اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئے۔صرف تین سال کے بعد شیو سینا اور بی جے پی اتحاد ریاست میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ بال ٹھاکرے نے اپنے ایک بہت ہی قریبی رہنما کو وزیر اعلی بنایا اور اقتدار کی چابی خود اپنے پاس رکھی۔ٹھاکرے بلا کے مقرر تھے اور لوگوں کو اپنی پرجوش باتوں سے خوب متوجہ کرتے تھے۔ممبئی کے شیواجی پارک میں ہر سال ہندوؤں کے تہوار دسہرہ کے موقع پر ان کے حامیوں کو ان کے بیان کا خوب انتظار رہتا تھا۔
اس سال وہ خراب صحت کی وجہ سے شیواجی پارک تو نہیں جا سکے لیکن اپنے حامیوں کے لیے انہوں نے ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے پیغام بھیجا جس میں انہوں نے اپنے چاہنے والوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کے بیٹے اور شیوسینا کے ایگزیکٹو صدر اودھو ٹھاکرے کو اتنا ہی پیار اور عزت دیں جتنا انہوں نے بال ٹھاکرے کو دیا تھا۔ایک کارٹونسٹ کے طور پر بال ٹھاکرے برطانوی کارٹونسٹ ڈیوڈ لو کو بہت پسند کرتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم پر ڈیوڈ لو کے کارٹون بہت مقبول ہوئے تھے۔ آخری دنوں تک ٹھاکرے اپنے مراٹھی ہفتہ وار مارم کے لیے خود کارٹون بناتے تھے۔ایک طاقتور لیڈر ہونے کے باوجود بال ٹھاکرے اپنے ساتھیوں کو جوڑ کر نہ رکھ سکے۔ ان کے بہت سے قریبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ حتیٰ کہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے بھی ان کی پارٹی چھوڑ دی کیونکہ بال ٹھاکرے نے اپنے بیٹے اودھو ٹھاکرے کو اپنا وارث مقرر کر دیا تھا۔
یہ قدرت کا عجب نظام ہے کہ ساری زندگی مسلم دشمن کا پرچار کرنے والے بال ٹھاکرے کو آخری وقت میں موت کے منہ میں جانے سے روکنے والے تین معالجوں میں سے دو مسلمان ڈاکٹر تھے اور ان کی موت کا اعلان کرنے والے بھی مسلمان ڈاکٹر تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت اور وحشت بھی انسانی خواہشات کے آگے ہار جاتی ہے۔ آج بھارتی مسلمان دعا کر رہے ہیں کہ ظلم و تشدد کے پیرو کار بال ٹھاکرے کی موت کے ساتھ ہی اس کی زہریلی سوچ اور خون آشام پالیسی بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے تا کہ کروڑوں بھارتی مسلمانوں کو سکون کا سانس نصیب ہو سکے۔