PDA

View Full Version : Obama Ka Doosra Dour -Shamshad Ahmad - 20th November 2012



Realpaki
20th November 2012, 09:47 AM
باراک حسین اوباما کو دوسری مدت کے لیے امریکہ کا صدر چن لیا گیا ہے۔ وہ بلاشبہ ایک کرشمہ ساز شخص ہیں۔ 4 سال پہلے انہوں نے سیاہ فام صدر بن کر تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا۔ ان کے والد افریقی تھے جو کینیا سے ہجرت کر کے امریکہ آئے اور سفید فام والدہ کا تعلق امریکی ریاست کنساس سے تھا۔ آخری مورچہ فتح کرنے کے بعد اوباما وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا امتیاز رنگ ونسل ختم کرنے کا خواب پورا ہوا۔ یہ معجزہ اسی ملک میں ممکن تھا، جسے امریکہ کہتے ہیں۔
پھر اپنی صدارت کے ایک سال کے اندر اندر اوباما نے دوسری جنگ عظیم سے لے کر اب تک مسلسل جنگیں لڑنے والے ملک کے سربراہ کے طور پر بھی نوبل امن انعام جیت کر ایک دوسرا تاریخ ساز کارنامہ کر دکھایا۔ یہ کارنامہ بھی کسی معجزے سے کم نہیں تھا کہ انہوں نے تب تک امن کے لیے کوئی کارنامہ نہیں کیا تھا۔ یہ غیر متوقع اعزاز خود ان کے لیے بھی باعث حیرت تھا۔ وہ تیسرے امریکی صدر ہیں جنہوں نے اپنے عہد صدارت میں نوبل امن انعام حاصل کیا۔ دوسرے دو صدر تھیوڈور روز ویلٹ اور ووڈ روولسن تھے جنہوں نے بالترتیب 1906ء اور 1919ء میں یہ اعزاز حاصل کیا۔ روز ویلٹ کو یہ اعزاز روس اور جاپان کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے مذاکرات کے صلے میں دیا گیا جبکہ ولسن کو معاہدہ ور سیلز کے عوض۔
اوباما کے معاملے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں قیام امن کے لیے کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا تھا جسے اوباما کی کوششوں سے منسوب کیا جا سکے۔ انہوں نے کسی امن منصوبے کی داغ بیل بھی نہیں ڈالی تھی۔ حتیٰ کہ ایک عشرے پر محیط افغان جنگ ختم کرنے کے لیے واپسی کے شیڈول کا اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اسے ایسا کرنے میں 2 سال لگے اور یہ اعلان بھی نیٹو کے حلیف ممالک اور جنگ سے تنگ آئے اپنے لوگوں کے دباؤ پر کیا گیا۔
پہلی مدت اقتدار کی بے عملی کے باوجود انہوں نے دوسری مدت کے لیے عام رائے دہندگان اور الیکٹورل اداروں دونوں میں فیصلہ کن سبقت حاصل کر لی۔ چار سال قبل بلاشبہ امریکہ کا پہلا کالا صدر بننا کوئی ایسا کام نہیں تھا جسے بآسانی دہرایا جا سکے لیکن اب چار سال گزرنے کے بعد یہ ایک تاریخ ساز کارنامہ بن چکا ہے۔ 1900ء سے اب تک وہ چوتھے ڈیموکریٹ ہیں جنہوں نے دوسری بار انتخاب جیتا۔ اس سے قبل ووڈرو ولسن، فرینکلن ڈی روز ویلٹ اور بل کلنٹن کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا۔
1940ء سے اب تک کسی نے اس حالت میں فتح نہیں پائی کہ بے روزگاری 8 فیصد یا اس سے زیادہ ہو۔ چار سال قبل جب اوباما نے وائٹ ہاؤس میں قدم رکھا، اس وقت جنگوں کی خوفناک روایت، عالمی سطح پر مسخ شدہ امیج، بگڑی ہوئی معیشت، تخفیف شدہ سوشل سکیورٹی، علاج کی سہولتوں کا بحران اور زوال پذیر نظام تعلیم جیسے مسائل نے گھیر رکھا تھا۔ اپنی پہلی مدت صدارت میں جس کی نمایاں پہچان تذبذب اور بے عملی ہیں، بیشتر امریکہ کے دائیں بازو کی زد میں رہے جس نے انہیں حقارت کے ساتھ کینیا کے مارکسسٹ مسلمان، امریکہ کو تباہ کرنے کا عزم رکھنے والے بارک حسین اوباما کے طور پر پیش کیا۔ لیکن امریکی عوام نے اپنے 44 ویں صدر کے حق میں ووٹ دیا تا کہ وہ اس کام کو انجام تک پہنچا سکیں جو انہوں نے شروع کیا تھا۔
باقی دنیا کے لیے اس میں یہ سبق پوشیدہ ہے کہ امریکہ میں جمہوریت کو کیسے بالادستی حاصل ہے۔ امریکہ واحد کثیر النسل ملک ہے جس میں ایک نسل پہلے ہجرت کر کے آباد ہونے والے شخص کا بیٹا، اگر باصلاحیت ہو تو تمام رکاوٹیں دور کر کے دنیا کی سب سے طاقت ور قوم کا صدر بن سکتا ہے۔ بعد از انتخاب اوباما کے مٹھی بھر مخالفین کی طرف سے علیحدگی کی درخواستوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کی بھرپور لڑائی کے بعد قوم بڑی تیزی سے پھر ایک مرکز پر جمع ہو گئی ہے۔ مٹ رومنی نے اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مخالف کی فتح تسلیم کر لی اور اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایک ایسے مرحلے پر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر جانبدارانہ انداز میں جھگڑنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے اور یہ کہ ہمارے رہنماؤں کو بلاامتیاز لوگوں کی خدمت کرنی چاہیے۔
اوباما کا رویہ بھی کچھ کم مصالحانہ نہیں تھا۔ وہ رومنی سے مل کر یہ معلوم کرنے کے خواہاں تھے کہ وہ کیسے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ اوباما نے کہا ہم نے سخت لڑائی لڑی ہو گی لیکن اس کا سبب اس کے سوا کچھ اور نہیں تھا کہ ہم دونوں اپنے ملک سے شدید محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ میں آپ کا ووٹ لے سکوں یا نہیں، مجھے آپ کی باتیں سننے کا موقع ملا، میں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا اور آپ نے مجھے ایک بہتر صدر بنایا۔ یہی جمہوریت کی حقیقی روح ہے۔ ہمیں اپنے ملک میں جمہوری نظام کے لیے دور تک جانا ہے لیکن کم از کم ہم اس سے یہ سبق تو سیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے نظام میں انحراف کی صورتیں کیا کیا ہیں اور یہ کہ دوسری اقوام اپنے قومی مفادات کو کس طرح پیش نظر رکھتی ہیں۔
اوباما کے دوسرے دور صدارت کے آغاز پر امریکہ کو جو چیلنج در پیش ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ داخلی محاذ پر سر فہرست مسائل میں معیشت، روزگار، انرجی، تعلیم، ٹیکس اصلاحات اور امیگریشن شامل ہیں۔ اولین ترجیح بجٹ کے اخراجات میں کٹوتیوں اور خسارے میں کمی کو حاصل ہو گی۔ یہ مقاصد ٹیکس کے ضابطوں اور سوشل سکیورٹی کے استحقاق کے از سر نو تعین سے حاصل کیے جائیں گے۔ اوباما حکومت کی علاج معالجہ کی سہولتیں اوباما کیئر روایت کے مطابق نافذ العمل ہوں گی جو مٹ رومنی کے جیتنے کی صورت میں منسوخ کر دی گئی ہوتیں۔ موجودہ صورت حال میں کہ ایوان نمائندگان میں ری پبلیکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، اوباما کو جو کام انجام دینا ہے، وہ یہ ہے کہ ٹیکس ریونیو اور اخراجات میں توازن پیدا کریں۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی اوباما کو ایک سخت امتحان کا سامنا ہے۔ وہ یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ جنگوں کے نتیجہ میں امن قائم نہیں ہوتا۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ نئے محاذ کھولنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کریں گے اور بجائے اس کے سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے پر امن طریقے تلاش کریں گے۔ اس بات کا امکان ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اس کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایک ایسا سمجھوتہ کریں گے جس کے تحت اسے محدود کیا جا سکے اور اس کی تصدیق ہو سکے۔ وہ جنگ سے اجتناب کریں گے۔
وہ افغانستان کے ساتھ ایک ایسا سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے 2014ء میں امریکی افواج کی واپسی کے وقت افغانستان میں خانہ جنگی نہ ہو۔ اوباما شام میں پوتین کی مدد سے ایک ایسا سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت سیاسی تبدیلی عمل میں لائی جا سکے اور آخر کار مشرق وسطیٰ میں وہ سمجھوتہ جس کی مدد سے ایک ایسی فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس سے اسرائیل کی سرحدوں کو کوئی خطرہ نہ ہو۔
اوباما کے پاس 4 سال کا وقت ہے جس میں وہ ایک ایسی روایت اور ورثہ چھوڑ سکتے ہیں جس کا خواب بھی ان کے کسی پیش رو نے نہیں دیکھا ہو گا۔ ظاہر ہے امریکی حکومت کی اپنی ترجیحات ہیں اس کا اپنا ایشیائی ایجنڈا اور گریٹ گیم ہے۔ لیکن جنوبی ایشیا کے تناظر میں، امریکہ کو پاکستان کے جائز خدشات اور سلامتی سے متعلق مفادات کا احساس ہونا چاہیے۔ ہر وہ پالیسی جو اس خطے میں سٹرٹیجک عدم توازن کا باعث بنتی ہو اور دو ایٹمی ہمسایہ قوتوں میں اسلحہ کی دوڑ کو تیز کرنے کا سبب بن سکتی ہو اور جس کی وجہ سے ان کے فوجی بجٹ میں اضافہ ہوتا ہو، اس خطے کے لوگوں کی کوئی خدمت انجام نہیں دے سکتی۔
امریکہ پاکستان تعلق کے بارے میں اوباما کو باہمی شکوک و شبہات اور اختلاف کا چکر ختم کرنے کے لیے پیش قدمی کرنی چاہیے اور شراکت داری کا ایک ایسا رشتہ قائم کرنا چاہیے جس سے دونوں کے مفادات پورے ہوں اور جو ان اقوام کی امنگوں سے مطابقت رکھتا ہو۔
وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کاروباری تعلقات سے اوپر اٹھ کر نسبتاً زیادہ وسیع سیاسی، معاشی اور سٹرٹیجک تعاون کے ذریعے باہمی رشتے کو زیادہ وقیع اور بامعنی بنائیں۔
صدر اوباما کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصولِ عدل کے مطابق تمام اقوام اور قومیتوں کے ساتھ منصفانہ سلوک ہونا چاہیے اور انہیں آپس میں آزادی اور سلامتی کے ساتھ جینے کاحق ملنا چاہیے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو وڈروولسن نے 1918ء میں ایک تقریر میں ادا کئے۔ اوباما اس قول سے خوب واقف ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اسے عملی قالب میں ڈھالیں