View RSS Feed

mubasshar

مصباح الحق کو 6 وجوہات کی بنا پر مورد الزام نہ

Rate this Entry


اگر پاکستان کی ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح قومی ٹیم کے جنوبی افریقا کے ہاتھوں دونوں ٹی 20 میچز میں شکست پر معمولی سے خوش بھی ہوتے تو میں اس بات پر انہیں کبھی قصوروار نہیں ٹھہراتا کیونکہ اگر میں خود بھی ان کی جگہ ہوتا تو اس شکست پر کسی حد تک خوش ہی ہوتا اور مسکرا کر کہتا کہ اس بات کا الزام بھی مجھ پرلگا دو
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہونے والی تنقید کے بعد بدنام مصباح پاکستان کرکٹ کی ملالہ بن گئے ہیں کیونکہ ہر غلطی کا الزام ان پر عائد کیا جاتا ہے، مصباح یہ جاتنے ہوئے کہ ان کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا دفاعی کرکٹ کھیلتے ہیں تو ان پر سست بلے باز کا الزام لگا دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر اسے غیرذمہ دار ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔اگر وہ کرے تو بھی قصور وار اور اگر نہ کرے تو بھی قصوروارہی ٹھہرایا جا تا ہے۔
جنوبی افریقا کے خلاف پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان کو ایک رنز سے شکست ہوئی تھی جب کہ اس میچ میں مصباح الحق نے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ رنز بنائے اور انہوں میچ میں ضرورت کے مطابق اچھی اوسط سے بیٹنگ کی لیکن ٹیم میں موجود ناکارہ مسخرے ناکام ہوئے اور مصباح بغیر میچ ہار گئے۔ کیا اس میں بھی مصباح کو آگے آ کر ان کے بلوں کو تھامنا چاہیے تھا؟
ایک نااہل ٹیم کی قیات کرتے ہوئے مصباح کا انتہائی محتاط انداز میں بیٹنگ کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مصباح پر تنقید کرنے والے پاکستانی شائقین نہیں تھے بلکہ ہمارے کرکٹ ماہرین تھے جنہوں نے ٹیم کی ناکامی کا تمام ملبہ مڈل آرڈر بلے باز پر ڈال دیا۔
ہم سب کی طرح سابق کھلاڑی محمد یوسف اور شعیب اختر بھی ٹیم کی کارکردگی سے مایوس ہیں یا شاید وہ اس بات سے جلے ہوئے ہیں کہ مصباح 40 سال کی عمر میں اتنے فٹ ہیں جتنے وہ 30 سال کی عمر میں بھی نہیں ہوا کرتے تھے لیکن یقینا کچھ لوگوں کو پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سے مایوسی سے زیادہ مصباح سے جلن ہے۔ پہلے ایک روزہ میچ میں جیت کی پوزیشن پر پہنچ کر نیچے گرنے پر عموما ڈریسنگ روم میں پرسکون رہنے والے مصباح کوچ کے پیچھے پنجرے میں قید شیر کی طرح اپنا سر ہلاتے ہوئے غصے سے چلا رہا تھا۔
یہاں مجھے سی این بی سی ٹی وی کے سروے یاد آ رہا ہے جس میں 60 فیصد پاکستانی شائقین نے کہا کہ مصباح الحق کو جنوبی افریقا کے خلاف پہلے ایک روزہ میں شکست کے ذمہ دارہ نہیں، 20 فیصد لوگوں نے شکست کی ذمہ داری پاکستانی کپتان پر ڈالی جبکہ دیگر افراد کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اور بہت سے ضروری کام ہیں اور انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہاں تک کہ مخالف فاسٹ باؤلر ڈیل اسٹین بھی مصباح کی ٹی 20 ٹیم میں شامل نہ ہونے پر حیران تھے، میچ کی اختتامی تقریب میں بات کرتے ہوئے ڈیل اسٹین نے ہنستے ہوئے بے یقینی سے کہا کہ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ مصباح پاکستانی ٹیم میں شامل نہیں ہیں، انہیں اس بات کا احساس اس وقت ہوا جب پاکستان کے 6 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔
مصباح کے خلاف تبصروں نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ ہمارےشیخ چلی کے مترادف کرکٹ ماہرین اور اسی طرح ملک کے دیگر شعبوں کے ماہرین مسائل کے بہترحل کے بجائے ایک آسان شارٹ کٹ ڈھونڈ رہے ہیں۔
درج ذیل وہ 6 غلط مفروضے ہیں جو کہ مصباح الحق اور دیگر قومی کھلاڑیوں کے بارے میں قائم کر لئے گئے ہیں:
پہلا مفروضہ: ہمارے پاس شیروں جسی ٹیم موجود ہے
ڈان اخبار کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک سینئر اہلکار نے حال ہی میں کہا ہے کہ جب شیروں کے گروپ کی قیادت گیڈر کرے تو کسی کو بھی ٹیم کی جیتنے کی امید نہیں ہونی چاہئے۔ مجھے نہیں پتا کہ پی سی بی ممبر کے حقے میں کونسا انوکھا اور ان دیکھا ذائقہ شامل کیا گیا تھا، لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کے شیروں جیسے کھلاڑی نہیں ہیں۔
دراصل، چوتھے ایک روزہ میچ میں شیر کی نسل سے ملتی ہوئی واحد چیز جو میچ کے دوران کرکٹ کی میدان میں آئی وہ کالی بلی تھی۔
ہمارے اوپنگ بلے باز محمد حفیظ شیر کے بجائے ایک بطخ کی طرح اسکور بنا رہے ہیں ، دوسرے اوپنر ناصر جمشید اور احمد شہزاد بہتر ہیں، لیکن تاحال مستقل مزاجی سے دور ہیں۔
نئے بلےباز صہیب مقصود ایک اچھے کھلاڑی ہیں لیکن انہیں مزید نکھارنے کی ضروت ہے کیونکہ ماضی میں انہیں بھی فٹنس کے مسائل تھے، دریں اثنا آخری بڑی چیزعمر اکمل ہیں، جو کہ ایسے بلے بازی کرتے ہیں جیسے انہیں ایسے گرا دیا گیا جیسے نرس کے ہاتھوں بچہ گر جاتا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ وہی اسپتال ہو جہاں شاہد آفریدی پیدا ہوئے، اس بات کو جانتے ہوئے بوم بوم اس طرح اداکاری کرتے ہیں جسے وہ 20 سال پرانی کوئی اداکارہ ہوں جنہں اب کپڑے بدل کر اپنی عمر کر مطابق کردار ادا کرنا چاہئے۔
ہماری باؤلنگ کے شعبے میں صرف ایک پرانا شیر سعید اجمل موجود ہے، جن کی عمر 30 کے لگ بھگ ہیں کے درمیان ہے جو کہ اب ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں، اس لئے افسوس کے ہم شیروں سے زیادہ پرانے اور مس فٹ جانوروں کی ٹیم ہیں جنہیں مجمع اکٹھا کرنے کے لیے استمال کیا جاتا ہے اور نوجوان جانور اب بھی ان کی دم کا پیچھا کرتے ہیں۔
دوسرا مفروضہ: ٹیم کے باقی لوگ مصباح کی طرح بیٹنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حال ہی میں محمد یوسف نے مصباح الحق پر تنقید کرتے ہوئے کچھ مزاحیہ جملے کسے، پہلا یہ کہ ہمارے بلے باز مصباح الحق کا ایک رول ماڈل کی طرح پیچھا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہم مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں اور مخالف جیت جاتے ہیں۔
اگر کسی نے مصباح کو کریز پر بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ یہ بات جانتا ہے کہ مصباح پرسکون انداز میں نظم و ضبط کا خیال رکھتے ہوئےایک لمبی اننگز کھیلنے کی کوشش کرتا ہے۔ واضح طور پر عمراکمل، شاہد آفریدی، ناصرجمشید، محمدحفیط اور باقی بلے بازوں کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے ہے، یقینا یہ لوگ بھی بیٹنگ کرتے ہوئے مصباح کی ہی نقل کرتے ہیں۔
میں دوسرے ہی دن شاہد آفریدی اور عمر اکمل کے مصباح کی طرح کھیلنے پر کیوں چلا رہا تھا کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے گراؤنڈ کے باہر شاٹ مارنے کی کوشش کریں۔
تیسرا مفروضہ: مصباح کو تیسرے نمبر پر بیٹنگ اور آگے بڑھ کر قیادت کرنی چاہئے
محمد یوسف کی جانب ایک اور مزاحیہ جملہ کسا گیا اور کہا گیا کہ ہمارے بلے بازوں کی تیکنیک تھکی ہوئی ہے جب کہ مصباح کے اندر اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ تیسرے نمبر پر آکر بیٹنگ کرے۔
سب سے پہلے، اس دور کے بارے میں سوچیں جب محمد یوسف پاکستان ٹیم کے کپتان تھے تو کیا وہ ون ڈاؤن پوزیشن پر بیٹنگ کے لیے آئے؟ ان کی کپتانی میں بھی پاکستانی بیٹنگ ہمیشہ مسائل کا شکار رہی اور کرکٹ شائقین نے ان سے تیسری نمبر پر کھیلنے کی گزارش بھی کی لیکن وہ ہمیشہ اپنی پسندیدہ مڈل آرڈر جگہ پر ہی رہے، اس لئے برائے مہربانی محمد یوسف ایک عظیم بلے باز کی حیثیت سے آپ وہ کیا کریں جس کی آپ تبلیغ کرتے ہیں۔
دوسرا، مصباح کا تیسرے نمبر پر آنا صرف ایک خالی جگہ کو پر کرنے کے برابر ہے، اس سے تکنیک میں بہتری نہیں آئے گی، ہماری بلے بازوں میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی گہری تکنیکی خرابی رہی ہے اس لئے مصباح پر کیسے الزام لگایا جاسکتا ہے؟
ڈومیسٹک کرکٹ میں سب سے زیادہ اسکور کرنے والے عمرامین کو بین الاقوامی باؤلروں کے سامنے کھیلتا دیکھ کر کوئی بھی باآسانی ان کی تکنیکی غلطیاں پکڑ سکتا ہے۔ محمد یوسف کے مطابق مصباح کو عمر امین کی بے کار تکنیک کا الزام دینا چاہئے نہ کہ ہمارے ناقص ڈومیسٹک سرکٹ کو۔
چوتھا مفروضہ: پاکستان کو انضمام الحق جیسا بیٹنگ کوچ چاہئے
میں کہتا ہوں کہ محمد یوسف اور انضمام الحق نے ڈریسنگ روم میں غیر ضروری مذہبی رجحان بڑھا کر پاکستانی کرکٹ کو بری طرح متاثر کیا، جس نے ہماری بہت سے کرکٹرز کو بھی کشمکش مبتلا کیا جس کا ثبوت میڈیا کو ملنے والے واضح بیانات ہیں۔ اب یوسف انضمام کے پاکستانی کوچ کے طور پر واپسی کے لئے لابنگ کرہے ہیں، انضمام ایک بہترین بلے باز تھے اور ٹیسٹنگ کے موقع پر ان کی تکنیک لاجواب تھی۔ لیکن ہمیں انضمام کے ورلڈ کپ ریکارڈ کو بھی دیکھنا چاہیے جہاں ان کی 1992 کے ورلڈ کپ کے علاوہ ہر ایونٹ میں کاکردگی مایوس کن تھی۔ آسٹریلیا اور جنوبی افریقا جہاں حقیقی معنوں میں کسی بھی بلے باز کی تکنیک کا پتا چلتا ہے وہاں انضمام کی تکنیک غیر معمولی تھی، آسٹریلیا میں ان کا ٹیسٹ میچز میں رنز کا اوسط 30 جبکہ جنوبی افریقا میں صرف 31 تھا۔
پانچواں مفروضہ: سعید اجمل مصباح سے زیادہ بہتر کپتان بن سکتے ہیں۔
جیسے کوئی اندھا شخص اندھیرے میں کسی چیز کو ڈھونڈ رہا ہو ویسے ہی محمد یوسف اور شعیب اختر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سعید اجمل، مصباح الحق سے زیادہ اچھے کپتان ہو سکتے ہیں، یہ اسی طرح کی بات کی کہ کوئی اپنی گاڑی بیچے اور ٹھیک اسی طرح کی استعمال شدہ گاڑی کا ماڈل دوبارہ خرید لے۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یوسف اور اختر کے دماغ کس طرح کام کر رہے ہیں۔ فی الحال ہمارے پاس سعید اجمل کے علاوہ ٹیم میں کوئی بھی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو کہ مصباح کےپیچھے موجود ہو کیونکہ سوائے اجمل کے کسی بھی کھلاڑی کو خود کار طریقے سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا، لیکن کیا یہ ایک وجہ کافی ہے کہ ایک آف اسپنر کو ٹیم کا نیا کپتان چن لیا جائے؟
اجمل نے پہلے ہی ورلڈ کپ کے بعد ریٹائرمنٹ کا خیال ظاہر کردیا ہے، لہذا اس کو کپتان کے طور پر سامنے لانا کوئی اچھا خیال نہیں ہے، یوسف اور اختر کو مصباح سے جو شکایات ہیں وہ اس کی بیٹنگ کی وجہ سے ہے۔
اور اصل بات تو یہ ہے کہ اجمل بیٹنگ نہیں کرسکتا، فلیڈ میں مصباح ایک اچھا کپتان پے، اس کی فلیڈ کی ترتیب بھی نشانے پر ہے، وہ نئے بلے بازوں کو فیلڈنگ قریب کھڑی کرکے سنگلز لینے سے روکتا ہے اور ان پر اٹیک کرتا ہے۔ وہ یوسف سے بھی بہتر کپتان ہے، ہم سڈنی ٹیسٹ کی مثال لے سکتے ہیں، جب یوسف نے دفاعی فیلڈ ترتیب دی تھی، تب آسٹریلیا کی ٹیم کے آخری کھلاڑی سامنے آگئے تھے لیکن پھر بھی آسٹریلیا نے یوسف کی اس تکنیک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 257 رنز پر 8 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے باوجود 381 رنز بنائے، یہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں بدترین کپتانی تھی۔
اگر مصباح کے بارے میں شکایات اس کی بیٹنگ کی وجہ سے ہیں تو ہم اس کو ایک باؤلر سے ان کو کیسے اور کس قیمت پر تبدیل کر سکتے ہیں؟
کیا اجمل کپتان بننے کے بعد دباؤ میں باؤلنگ کرسکتا ہے؟
کیا اس کی تقرری ڈریسنگ روم میں ڈرار پیدا کرے گی؟
ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے، مصباح ہی اجمل کو ٹیم میں لے کر آیا ہے، لہذا ڈریسنگ روم میں بھی دونوں کے درمیان تناؤ ضرور پیدا ہوگا۔
چھٹا مفروضہ: صرف مصباح رنز بناتا ہے، اس کی ٹیم نہیں
یہ نظریہ ہمارے ماہرین سے زیادہ لوگوں کی طرف سے آیا ہے۔
کرکٹ ایک ٹیم کا کھیل ہے اور اکیلا کھلاڑی اس کو نہیں جیت سکتا، مجھے یاد ہے جب سچن ٹنڈولکر بھارتی ٹیم میں واحد اچھا کھلاڑی بچا تھا اور ان گنت رنز اسکور کرتا تھا لیکن پھر بھی اس کی ٹیم ہار جاتی تھی، کیا یہ سچن کی غلطی تھی، یا اس کی باقی ٹیم کی؟
مصباح پر الزام لگانا ایسا ہے جیسا کہ ایک کشتی میں 11 چپو چلانے والے بےکار موجود ہوں اور صرف چپو چلا رہا ہو اسی پر ہی غصہ اتارا جارہا ہو۔
مصباح نے 73.39 اسٹرائیک ریٹ سے 26 میچوں میں ایک ہزار 119 رنز بنائے اور اس سال کے ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔
کیا رنز بنانے کی یہ شرح بہت سست ہے؟
ہاں، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مصباح ہمیشہ دباؤ کی صورتحال میں بیٹنگ کیلیے آتا ہے، کیا مصباح پوپیلر اس وجہ سے سست ہے کیونکہ ڈیزائن ہی ایسا کیا گیا ہے یا وہ اس وجہ دوسرے 10 چپو چلانے والوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہے۔
اب ان میچز کو دیکھیں جس میں مصباح نے دباؤ میں آئے بغیر کھیلا، جنوبی افریقا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں مصباح اوپنگ جوڑی کی جانب سے اچھے آغاز کے بعد بیٹنگ کے لیے آئے اور سنچری بنائی اور وہ ان کے معیار کے مطابق کافی پرجوش تھی۔
نہیں، مصباح بالکل پرفیکٹ نہیں ہے، لیکن وہ اپنے موجود کارڈز کی مدد سے بہتر کر رہا ہے۔

Name:  Misbah ul Haq Blog.jpg
Views: 22
Size:  356.8 KB

Submit "مصباح الحق کو 6 وجوہات کی بنا پر مورد الزام نہ" to Digg Submit "مصباح الحق کو 6 وجوہات کی بنا پر مورد الزام نہ" to del.icio.us Submit "مصباح الحق کو 6 وجوہات کی بنا پر مورد الزام نہ" to StumbleUpon Submit "مصباح الحق کو 6 وجوہات کی بنا پر مورد الزام نہ" to Google

Comments