View RSS Feed

Fawad Afzal

بے ادب بونا...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامر&#16 04

Rate this Entry
Quote Originally Posted by Fawad Afzal View Post
#JangColumn: "Bay Adab Bona...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat
خبر آئی ہے کہ 200علمائے کرام نے آپریشن کی مخالفت کردیاب اگرکل یہ خبر آجائے کہ 500علمائے کرام نے ممکنہ آپریشن کی حمایت کردی ہے تو کیا ہوگا؟نہ جانے ہم اِس بحث میں کیوں اُلجھے ہوئے ہیں کہ آپریشن کیا جائے یا نہ کیا جائےاب تک کی پیشرفت میں اولین کوشش تو یہی نظر آتی ہے کہ گفتگو اور مکالمے سے گمراہ عناصر کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرلیا جائے لیکن اِس کے باوجود اگر کوئی دہشت گردی کی راہ سے پلٹنے کو تیار نہ ہو تو200علماء یہ رہنمائی بھی فرما دیں کہ پھر آپریشن کے سوااورکون سا حل باقی بچتا ہے؟
خیر یہ نظریاتی تقسیم تو اپنی جگہ برقرار رہے گی اور اِسے قائم رہنا بھی چاہئے تاکہ دلائل مباحثوں کی شکل میں زندہ رہیں اور خوف و دہشت کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنے والوں کو کبھی کوئی راستہ نہ ملےالبتہ اُن بونوں کی زباں بندی بھی اشد ضروری ہے جو مسلسل اپنی بے ادبی کے غلیظ چھینٹوں سے مسافروں کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ راستہ ہی بدل دیںمیں یہ تو نہیں جانتا کہ مخالف گروہ کی سیاسی مجلسِ شوریٰ نے کیا سوچ کر ایک مولانا کو اپنی مذاکراتی ٹیم میں شمولیت کی سند عطا فرمائی تھی لیکن میں ذاتی طور پر اُس مجلسِ شوریٰ کا شکر گزار ضرور ہوں جن کے اِس اوندھے فیصلے کے سبب ہم سب کو اندھے مولانا کی بے تُکی رَوِش، قابلِ گرفت افکار، منہ پھٹ خیالات اور دَریدہ دہنی کے شرمناک مظاہرے اُسی طرح نظر آئے جس طرح ہر رات کے بعد صبح کا اجالاروشنی بکھیردیتا ہےمیرے پروردگارنے اندھااُسے قرار نہیں دیا جو اُس کی عطا کردہ آنکھوں میں بینائی سے محروم ہو بلکہ اندھا وہ ہے جسے وہ چشم بینا عطا فرمائے اور اِس کے باوجود وہ دیکھنے سے قاصر ہو۔
مجھے شدید حیرت ہوئی،زورآور جھٹکا لگا اور بالآخر صدمے سے دوچار ہوا جب ایک نجی چینل کے ٹاک شومیں گفتگو کے دوران مولانا یوں ہتھے سے اُکھڑے کہ دو عالَم سے گزر گئےنقلِ کفر، کفر نہ باشدفرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ شارع ہیں وہ خود کوئی قانون نہیں بنا سکتے(استغفر اللہ، معاذ اللہ)مولانا صاحب! پھر کیا سیکھا آپ نے درسِ نظامی سے؟شہادت العامہ، شہادت الخاصہ، شہادت العالیہ اور شہادت العالمیہ جیسی اسناد کیسے حاصل کرلیں؟جب آپ یہ بڑبڑا رہے تھے تو مجھے آقا کریم ﷺ کا وہ فرمانِ اقدس پسینے میں نہلا گیا اور میں کانپ اُٹھا کہ میرے مولا کا ہر قول کس قدر صادق و پُرنور ہے ، بس ایک ہم ہی ہیں جو روشنی کے ساتھ قیام کرنے کے باوجود اندھیرے میں ہیںحافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری کی بارہویں جلد کے صفحہ 289پر ایک حدیث بیان کی ہے جسے امام طبری نے روایت کیا اور اُن کی سند میں سلیمان تمیمی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے اعمال اور دین سے ظاہری تمسّک کے باعث لوگوں کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کردیں گے اور وہ خود بھی خود پسندی میں مبتلا ہوں گےاللہ کی قسم! مجھے آپ کے انداز میں خودپسندی، تکبر ، گھمنڈ اور بڑائی کے اظہار کا بدترین مظاہرہ نظر آیامثل مشہور ہے کہ تکبر عزازیل را خوارکردبہ زندانِ لعنت گرفتار کرد(اللہ ہم سب کو تکبر کی گَرد سے بھی محفوظ فرمائےآمین)
مولانا صاحب! یقیناً میرے سرکارِ عالی مرتبت ﷺ کا منصب شریعت مقررکرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شارع بنا کر بھیجا ہےمگرآپ جس چیز کو چاہیں فرض کردیں اور جس کو چاہیں حرام فرمادیں کیونکہ آپ کی یہ چاہت میرے خالق و مالک کی مشیت کے خلاف نہیں ہوتی بلکہ آپ تو وہی چاہتے ہیں جو اللہ چاہتا ہے اور جو اللہ چاہتا ہے وہی آپ چاہتے ہیںصحیح مسلم کی حدیث نمبر1351کے مطابق آپ نے فرمایاکہاگر میری اُمت پر دشوار نہ ہوتا تو میں عشاء کی نمازکو اُس وقت تک مؤخر کردیتا(بعض روایات میں تہائی رات تک بھی فرمایا ہے )اور یہ بھی فرمایا کہ اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتاتو میں ہر نماز کے لئے مِسواک کا حکم دیتایعنی آقا ختمی مرتبت ﷺ کو اپنی اُمت سے بے پناہ محبت ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اُمت کے لئے اِن کاموں میں دشواری پیش آسکتی ہے اِسی لئے آپ نے حکم نہیں فرمایا ورنہ آپ چاہتے تو وہی کرتے جو آپ کی چاہت تھی۔
خود رب ذوالجلال آپ جیسوں کے لئے اپنی کتابِ بلاغت میں کھل کر ارشادفرمار ہا ہے کہ (رسول)مسلمانوں کے لئے پاک چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتے ہیں(اعراف157 )پھر فرمایا کہ رسول جو حکم تم کو دیں اُس کو قبول کرو اور جس چیز سے تم کو روکیں اُس سے رُک جاؤ (الحشر7)پھر فرمایاکسی مومن مرد اور مومن عورت کو اللہ اور رسول کے حکم دینے کے بعد اُس حکم پر عمل (کرنے یا نہ کرنے) کا اختیار نہیں ہے (احزاب36)اور سورۃ النساء کی آیت 80میں ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے رسول کی اِطاعت کی،اُس نے اللہ کی اِطاعت کرلیاللہ تعالیٰ نبی کو احکام کی حِلت اور حرمت اور ایجاب اور تحریم کا اختیار دے کر بھیجتا ہے اور یہ نبی کا منصب ہے مولانا صاحب کہ وہ جس چیز کو چاہے فرض کردے اور جس چیز کو چاہے حرام کردے اور جوچاہے قانون بنادےمثلاً پروردگار نے دو گواہوں کا قانون بنایا لیکن مولا کریم ﷺ نے خُزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گواہی کو دو گواہوں کے قائم مقام فرمایاقرآن کریم نے جنگ کے دوران(چار رکعت والی نماز) دو رکعت نماز کی رخصت دی ہے لیکن آقا نے اِس کو حالتِ امن کے سفر میں بھی عام فرمادیاقرآن پاک نے ہرنماز کو اُس کے وقت میں پڑھنے کا حکم دیا لیکن سیدِ عالم نے عرفات میں عصر کو ظہر کے وقت میں اور مزدلفہ میں مغرب کو عشاء کے وقت میں مشروع کردیاقرآن مجید نے ہر مسلمان کو چار نکاح کی اجازت دی لیکن شہنشاہِ دوعالم نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حیاتِ فاطمۃ الزہرا میں دوسرے نکاح سے روک دیااِن مثالوں کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہے کہ (معاذ اللہ) آپ مالک کائنات کے احکام کے مقابل یا متوازی اپنے احکام نافذ فرماتے تھے بلکہ یہ سمجھانا مقصود ہے کہ رب ذوالجلال نے اپنے حبیب کو محض پیغام رساں یا ایلچی بنا کر نہیں بھیجا بلکہ آپ رب کی مرضی اور مشیت کے بھی نمائندے ہیں، مزاجِ پروردگار سے آشنا ہیں،چاہت ربانی سے واقف ہیں اور اَسرارِ الوہیت کے محرم ہیں اِسی لئے شیخ ابن تیمیہ نے الصارم المسلول کی پہلی جلد کے صفحہ41پر لکھ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے امر،نہی،اخبار اور بیان میں اپنا قائم مقام بنا کر بھیجا ہے۔
ایک بات اور! میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تک مسجدِ اقصیٰ کی طرف متوجہ رہے وہ قبلہ رہا اور جب آپ نے کعبے کو قبلہ بنانا پسند فرمایا تو ربِ کائنات نے اُسے قبلہ بنا دیا
مولانا صاحب! آج کعبے کی یہ تعظیم و تکریم، چہار سو سے اِس کی جستجو،خلق کا ہجوم اور اژدھام سب آپ ﷺکی چشم کرم کا تصدق ہے ، آپ ﷺتوجہ نہ فرماتے تو یہ عظمتیں کہاں سے ملتیںبعض عرفا نے تو یہاں تک فرمادیا ہے کہ آپ کے جسم اطہر کا قبلہ کعبہ ہے اور آپ کی روح کا قبلہ خودذاتِ الٰہی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قبلہ آپ کی ذات ہے یعنی آپ کی روح اللہ کی ذات کی طرف اور اللہ تعالیٰ آپ کی ذات کی طرف متوجہ ہے اور رب جس کی طرف متوجہ ہوجائے اُس کا ہر قدم،ہر عمل اور ہر حکم اُس کا نہیں ہوتا بلکہ رب کا ہوتا ہے۔
سوچئے مولانا صاحب! اگر رسول اللہ ہمیں نہ بتلاتے تو ہمیں کیسے معلوم ہوتا کہ لفظ صلوٰۃ سے قیام،رکوع اور سجود کی ہیئتِ مخصوصہ مُراد ہے،مؤذن کی اذان سے لے کر امام کے سلام پھیرنے تک نماز اور جماعت کی تفصیل ہمیں کیسے معلوم ہوتی؟حج اور عمرے کا بیان نہ فرماتے تو کیسے جانتے کہ احرام کہاں سے اور کس دن باندھنا ہے؟ وقوفِ عرفہ،طوافِ زیارت،طوافِ وَداع اور اُن تمام احکام کی تفصیل اور تعین قرآن میں نہیں ملتیصحیح بخاری میں ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ نے حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی سے مطلقاً فرمایا ہے مانگو جو مانگنا ہے یعنی رب نے آپ کو خزائنِ حق سے جو چاہیں عطا کرنے پرقادرفرمادیا ہے اب آپ جس شخص کو جس حکم کے ساتھ چاہیں خاص فرمادیں اور جو چاہیں قانون بنادیںبساِس احتیاط کے ساتھکہ میرے آقا کا ہر کام مشیت ایزدی کے مطابق اور قضائے الٰہی کے موافق ہوتا ہے ،یہ صرف اللہ کی خصوصیت ہے کہ وہ جو چاہے کرے،وہ کسی کی مرضی،مشیت اور اجازت کا پابند نہیں اور رسول اللہ رب کی مرضی،مشیت اور اجازت کے بنا کچھ کرتے ہی نہیںمزید رہنمائی کے لئے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کی شرح صحیح مسلم کا ضرور مطالعہ فرمائیے،میں نے یہ راہ وہیں سے پائی ہے ،شاید کہ آپ کے دل کی اُلجھی ہوئی رسّی سلجھ جائے جس پر بے ادبی کی موٹی موٹی گانٹھیں لگی ہوئی ہیں!!!!























Submit "بے ادب بونا...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامر&#16 04" to Digg Submit "بے ادب بونا...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامر&#16 04" to del.icio.us Submit "بے ادب بونا...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامر&#16 04" to StumbleUpon Submit "بے ادب بونا...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامر&#16 04" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments