View RSS Feed

Fawad Afzal

#JangColumn: "Uff Ye Dadiaan...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat 24 Feb 2014

Rate this Entry
Quote Originally Posted by Fawad Afzal View Post
#JangColumn: "Uff Ye Dadiaan...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat 24 Feb 2014



شاید یہ بات آپ کی سمجھ میںآتی ہو مگرمیں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اللہ اور اُس کے رسولﷺکے نام پر جنگ بندی کی اپیل کس سے کی جاتی ہے ؟بھئی حکومت اور فوج تو مسلمان ہیںہی نہیں!سارے فوجی مُرتد، میڈیا فاسق و فاجر،قلم کار فسادی،تمام پاکستانی گمراہ اور دیگر مکاتبِ فکر کے علما قابلِ گردن زنی! یعنی اکثریت کا تعلق اُس طبقے سے ہے جو ایک گروہ کے بقول اسلام پر یقین ہی نہیں رکھتا لہٰذا یہ اپیل یقینا اُن ہی سے کی جاتی ہو گی جو سب سے اچھے مسلمانہیں، گردنیں کاٹنا،نعشوں کا مثلہ کرنا، مزارات کو نشانہ بنانااورقبریں کھود کے کفن اُتار کر انسانی جسم کی بے حُرمتی جن کا نصب العین ہواورجن کے نزدیک یہی اسلام کی تعلیمات ہوں،غالباً دوسرے فریق وہی ہیںلیکن حیرت کی بات ہے کہ وہ بھی اِس اپیل پر دھیان ہی نہیں دیتے،میرا خیال ہے کہ یہ اپیل اِنہیں Appealہی نہیں کرتی ہوگی23ایف سی جوان، 13پولیس کے اہل کار اور لاتعدادبے کس و مظلوم تو دراصل انسان تھے ہی نہیں اِسی لئے ماردئیے گئے اور اب یہ واویلا بھی بند ہوجانا چاہئے کہ انتقامی کارروائیاں تو ڈرون حملوں کا ردعمل ہیںایک صاحب کی پریس کانفرنس سے سب کچھ واضح ہوگیا کہ یہ چاہتے کیا ہیں؟
لیکن میں پھر بھی حیران ہوںحمایتیوں کو داد دینے کو جی چاہتا ہے جو اُن کےجرائم کی پردہ پوشی میں اپنا پیراہن بھی چاک کیے جارہے ہیںپردہ پوشی عیبکی ہو تو ایمان ہے اور جرم کی ہوعدل و انصاف سے بے وفائی ہے ہماری دادی امی عائشہ حامد پان بہت شوق سے کھایا کرتی تھیں او راُس میںکَتّھابھی ڈھیر سارا ڈلواتی تھیں،وہ ہر پیر کو خواتین کا اجتماع بھی منعقد کرتی تھیں جس میں ذکر و درود کی بہاروں سے سماں بندھ جاتا تھا،ایک دن اُنہوں نے مجھے بتایا کہ جب تم چھ یا سات ماہ کے تھے تو تمہیں پوتڑے کے بغیر میں نے گود میں لے لیا تھا،اجتماع ختم ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی اور تم میری گود میں ہی تھے کہ تم نے Pottyکردی، لیکن میرے بیٹے مجھے تم سے اِتنا پیار تھا کہ جیسے ہی خواتین نے مجھ سے پوچھا کہ عائشہ باجی! آپ کے دامن میں یہ کیا لگا ہوا ہے ؟ تو میں نے فوراً ہی جواب دیا کہ کَتّھا گرگیاہے اور کیا! پان میں لگاتے لگاتے اچانک قمیص پر گرپڑا، ابھی دھو آتی ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی میرے پیارے سے پوتے کو ایک لفظ بھی کہے
میری تو ایک ہی دادی تھیں جوآج میری پردہ پوشی کے لئے موجود نہیں مگر طالبان کو بے شمار دادیاں میسر ہیں جواِن کی کَتھا یا کیے کو کَتّھا کہنے کے لئےبڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرتی ہیںوہ سب کے سامنے کہتے ہیں کہ ہم آئین نہیں مانتے، دادیاں کہتی ہیں کہ ابھی فون پر بات ہوئی ہے ،وہ توآئین کو مانتے ہیں، اُن کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کیا جارہا ہےوہ کہتے ہیںکہ مذاکرات قرآن و سنت کے تحت کیے جائیںکیونکہ پاکستان کے آئین کا ایک جزو بھی اسلامی نہیں اورایک دادی فرماتی ہیں کہ حکومت آئین پر اور پوتے قرآن و سنت پر یقین رکھتے ہیں یعنی دادی نے ڈھکے چھپے لفظوں میں ہی سہی مگر صاف صاف کہہ دیا ہے کہ حکومت کا قرآن و سنت پر یقین ہی نہیں ہے واہ دادی واہ!بس ایک آپ کا گروہ ہی تو مسلم ہے،ہمارے دائیں کان میں اذان دی گئی اور نہ ہی بائیں کان میں اِقامتہمارے گھروں میں قرآن ہے اور نہ ہی آقا ئےکریم ﷺ سے بے پناہ محبت،ہم نہ پیارے مصطفی کریم ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو جانیں اور نہ ہی اہل بیت اطہارؓ کو مانیںہمارے مُردے دفنائے نہیں جاتے جَلائے جاتے ہیں،ہمارے ہاں پانچ اوقات رب کے حضور سجدے ہوتے ہیں او ر نہ ہی راتوں کو اُٹھ کر تہجد کی عبادتیں، تلاوتِ کلام پاک ہماری روح ہے اور نہ ہی ذکر مصطفی ﷺہماری جان! سوائے آپ اور آپ کے پوتوں کے اِس ملک میں کوئی صاحبِ ایمان بچا ہی نہیں ہے بجائے اِس کے کہ آپ پوتوں کے گناہوں پر اپنا منہ چھپائیں اور کھل کر اظہارِ مذمت کریںپَر آپ کی مذمت میں جب تک لیکن نہ ہو وہ معیارِ مذمت پر پورا ہی نہیں اُترتی مثلاً ایف سی کے جوانوں کا قتل افسوس نا ک ہے لیکن آپریشن سے دور رہا جائے کیونکہ اِس سے جانی نقصان زیادہ ہوگاکیا ہی کمال کی مذمت اور بے مثال حق گوئی ہے اور تو اور ایک دادی کا قولِ زریں توتمام مؤرخین کی قبور کو کسی بلڈوزر کی طرح برابر کرگیاکہ کربلا کی جنگ میں دونوں طرف صحابہؓ تھے اور ہم اِ س بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتے کہ کون حق پر تھا
یا حسین ابن علی رضی اللہ عنہما!ہم آ پ سے شرمندہ ہیں!اِس جرم سے نفرت کے باوجود اب ہم میں ہمت نہیں کہ ہم روزِ حشر آپ سے یا بی بی فاطمۃ الزہراؓ سے ہاتھ جوڑ کر یہ گزارش کرسکیں کہ آقا ئےکریم سے سفارش فرما دیجیے کہ وہ اپنے رب سے ہماری بخشش کی بھی التجا کردیں!خوشبوئے مصطفی ﷺ کوہمہ وقت سونگھنے والے اے سوارِ گوشۂ نبوت! نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کے لئے آپ نے تو سورۃ کوثر کے ایک ایک حرفِ مقدس کی لاج رکھ لی لیکن یہ ایک سید کیسا ہے ؟ یہ بھی بنو عباس کے حکمرانوں کی طرح نکلاجو اپنے ہی لہو سے بے زار تھے !جو سادات کی حرمت کی حفاظت نہ کرسکے وہ کہاں کا سادات؟ایسے کئی انور سادات آئے اور گزر گئے لیکن حسینؓ ہمیشہ حسین ؓہی رہاسیدناحسین ؓنے کبھی جنگ چاہی تھی اور نہ ہی سیدنا علی ؓکے بیٹے کا یہ اِرادہ تھا،زید بن حارثہؓ کی گود میں کھیلنے والا، عبداللہ بن رواحہؓ کی انگلی پکڑ کر مدینہ منورہ کی گلیوں میں چلنے والا اور چچا جعفرِ طیار ؓکے بازوؤں میں سِمٹ کر بابا جان کی شجاعت کے قصے سننے والا اگر جنگ کی ٹھان لیتا توموتہ کے اِن مجاہدوںسے سیکھے جانیوالے سبق ہزار یزیدوں کیلئے بھی کافی ہوتےاُنہوں نے تو نانا کا گھر امن کیلئے چھوڑا،آنکھوں میں آنسو لیے جب اپنے حج کو عمرے میں تبدیل کیا تب بھی پیشِ نظر صرف امن تھا، قافلے ادائیگی حج کے لئے مکۃ المکرمہ آرہے تھے اور کعبۃ اللہ جن کی زیارت کا مشتاق تھا وہی اُسے چھوڑ کر جارہے تھے تاکہ بلوائی اور فسادی اِس پاک گھر کی حُرمت کو پامال نہ کریںسیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا غم سے نڈھال تھیں کیونکہ جانتی تھیں کہ مولاکی عطا کردہ مٹی جو میں نے شیشی میں ڈال رکھی ہے جلد سرخ ہوجائے گی اور میرا حسین ؓ شہید کردیاجائے گا
ہمارے حسینؓ تو قیام امن کے لئے روانہ ہوئے تھے،وہ صرف اتنا چاہتے تھے کہ وقت کے سب سے بڑے فاسق یزید کی بیعت کے لئے اُن سے اِصرار نہ کیا جائے ، و ہ اپنے اہل بیت کے ہمراہ کہیں الگ تھلگ رہنا چاہتے تھے اور جب کوفے والوں نے اُنہیں خط لکھ لکھ کر اپنی حمایت کا یقین دلایا تو اُنہوں نے مسلم بن عقیلؓ کو روانہ کیا کہ حالات معلوم کروکہ اہلِ کوفہ واقعی اپنے دعوے میں سچے ہیں یا یہ اِک ڈھونگ ہے ؟مسلم بن عقیلؓ نے شہادت سے پہلے اپنے بھائی تک یہی آخری پیغام پہنچایا تھا کہ اہلِ کوفہ ناقابلِ اعتبار ہیں
مگرمیرے حسینؓ وہاں تک پہنچ چکے تھے جہاں پہنچ کر اُنہیں رُکنا ہی تھامشیت ایزدی کوپورا کرنے کی گھڑی آن پہنچی تھی، اب اگر سیدنا حسینؓ پر جنگ مسلط بھی کی جاتی تواُنہیں علی ؓ کی طرح لڑنا تھا لیکن قربان جاؤں اُس پیکرِ امن و صداقت کے کہ جو شبِ عاشور تک جنگ کوٹالتا رہا،اِس لئے نہیں کہ معاذ اللہ وہ بزدل تھے بلکہ اِس لئے کہ وہ اپنے نانا کی اُمت کا ماتھااُس بدنما داغ سے بچانا چاہتے تھے جو اب قیامت تک مسلسل سجدوں کے باوجود مِٹ نہیں سکتامیرے حسینؓ تو بہادری سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے مگر جو اسلام بچا گئے آج پھر اُس پریزیدوں نے بُری نگاہ ڈال رکھی ہے کہا جارہاہے کہ دونوں طرف صحابہ تھےاے تاریخ کے دشمنو! اور محبت سے خالی دل والو!کم از کم نبی کریم ﷺکو شکل دکھانے کے قابل تو رہوقتلِ حسین ؓ پر صحابہ کرام کے آنسوؤں کی جھڑیاں اگر دیکھنا چاہتے ہو تو امام جلال الدین سیوطیؒ کی تاریخ الخلفا ہی پڑھ لو!یہ معرکۂ حق و باطل تھا،ہے اور رہے گاحسین کو قتل کرنے والی جماعت بھی اپنے آپ کو اسلامی سمجھتی تھی لیکن امام اعظم ابوحنیفہ سے لے کر امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تک علم و فقہ کے تمام صحیفوں کی ایک ایک سطرقاتلانِ حسین ؓ کو خوارج کہتی آئی ہے اور کہتی رہے گیکچھ اور نہیں تو حسین ؓ سے محبتشفقہی سے سیکھ لو امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں کہ آپ کی شہادت کے دن سورج گہن میں ا ٓگیا تھا، مسلسل چھ ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے،بعد میں رفتہ رفتہ وہ سرخی جاتی رہی البتہ افق کی سرخی جس کو شفق کہا جاتا ہے آج تک موجود ہے اور یہ سرخی شہادت حسینؓ سے پہلے موجود نہیں تھی
ہائے ! تم سے اچھی تو وہ شفق ہے جو کم از کم احسان فراموش نہیں!!

ہر دلعزیز ٹی وی میزبان اور معروف مذہبی اسکالر و کالم نگار ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے کالم لائوڈ اسپیکر پر اپنی رائے کا اظہار بذریعہ ایس ایم ایس کیجئے۔۔ آپ کی رائے نہ صرف آن لائن بلکہ جنگ کے ادارتی صفحہ پر بھی شائع کی جائے گی۔
SMS: #ALH (space) message & send to 8001
aamirliaquat@janggroup.com.pk
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat
















Submit "#JangColumn: "Uff Ye Dadiaan...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat 24 Feb 2014" to Digg Submit "#JangColumn: "Uff Ye Dadiaan...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat 24 Feb 2014" to del.icio.us Submit "#JangColumn: "Uff Ye Dadiaan...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat 24 Feb 2014" to StumbleUpon Submit "#JangColumn: "Uff Ye Dadiaan...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat 24 Feb 2014" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments