View RSS Feed

Fawad Afzal

#JangColumn: "Haseen Mustafa SAWW Ka Khoobsoorat Islam...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat

Rate this Entry
Quote Originally Posted by Fawad Afzal View Post
#JangColumn: "Haseen Mustafa SAWW Ka Khoobsoorat Islam...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat
حَسین مصطفیﷺ کا خوب صورت اسلام!!...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامرلیاقت حسین
ذہن کی بھی ایک زمین ہوتی ہے ،اِس میں بھی بیج بوئے جاتے ہیں، اِسے بھی آبِ فکروعقل سے سینچا جاتا ہے تب کہیں جاکرایمان کی کھیتی میں لہلہاتی نظریاتی فصلیں نظر آتی ہیںیہ ممکن ہی نہیں ہے کہ تصورات کو جامۂ عمل پہنا کر فوراً ہی حقیقت کا روپ دے دیا جائے!
مجھے یاد ہے کہ متحدہ عرب امارات میں سگریٹ نوشی پر پابندی کی مہم8برس پہلے شروع ہوئی تھی اور وہاں لوگوں کو اِس لَت سے بچانے کے لئے بتدریج مختلف طریقے اختیار کیے گئے تھےعوا م کو بتایاگیا تھاکہ اِس عادت کے سبب آپ کن نقصانات سے دوچار ہوسکتے ہیںصحت اور عام زندگی پر اِس کے مضر اثرات کس قدر بھیانک شکل اختیار کرسکتے ہیںآٹھ برسوں تک مسلسل ورکشاپس، لیکچرز،کانفرنسوں اور سیمینارز کے ذریعے سگریٹ نوشی کو ایک ایسا جاں لیوا عفریت بنا کر پیش کیاگیا کہ ایک بڑا طبقہ اِسےمکروہ ترین فعل قرار دینے لگا اور پھر آہستہ آہستہ اِس میں وہ لوگ بھی شامل ہونے لگے جو ایک کے بعد دوسری سگریٹ سلگانے کو ہی جینا سمجھتے تھےٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے مؤثر اور مربوط مہم چلانے کے لئے سیکڑوں گھنٹے مختص کیے گئے اور ساتھ ہی ساتھ محراب و منبر سے جمعہ کے خطبات میں بھی گاہے بگاہے اِس بُری عادت کی تباہ کاریوں کا تذکرہ کیا جاتا رہاحکومت نے خود اپنے اِداروں، این جی اوز اور عوامی دلچسپی کے دیگر ذرائع کو بھرپور طریقے سے استعمال کر کے سگریٹ کو نشانِ عبرت بنادیاجس کے نتائج یہ نکلے کہ آج متحدہ عرب امارات میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد3فیصد رہ گئی ہے اور وہاں سگریٹ پینے والوں کو مستحسن نہیں بلکہ بے زار نگاہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لوگ ایسے گنے چنے افراد کے پاس سے اُٹھ کر چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے تمباکو نوش اپنے آپ کو معاشرے سے جدا حصہ تصور کرنے لگتے ہیں8برسوں بعد حکومت نے اب عوامی مقاماتپر بھی یہ کہہ کر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کردی ہے کہ جوبھی یہ حرکت کرتا ہوا پایا گیا اُس پر بھاری جُرمانہ عائد کیا جائے گایہ وہی معاشرہ ہے جہاںآٹھ برس قبل ایسے حالات تھے اور نہ ہی امکانات لیکن تبدیلی منظم حکمت عملی کے سبب اندر ہی اندر اپنی جڑیں مضبوط کررہی تھیوہاں نہ فطرت سے بغاوت ہوئی اور نہ ہی زور زبردستی کے سہارےمُستعارے گئےایک راستہ متعین ہوا،طریقہ اختیارکیاگیا اور ضابطہ مقررہواجس نے غیر محسوس طو رپرایک ناپسندیدہ عمل کو کسی مزاحمت کے بغیر ہی اُکھاڑ ڈالا
اپنی سوچ مسلط کرکے ہم کسی پر دباؤ تو ڈا ل سکتے ہیں مگر بہاؤ کو اپنے حق میں موڑ نہیں سکتےکسی نے سچ ہی کہا ہے کہ لوگوں کو شکست دینے کی کوشش مت کرو، کوشش یہ کرو کہ اُنہیں جیت سکومیں یہ بات مان ہی نہیں سکتا کہ میرے وطن میں کوئی ایسا بھی ہوسکتا ہے جس کی یہ تمنا نہ ہو کہ آقا کریم ﷺ کی پُرنور شریعت اپنی خوب صورت اداؤں کے ساتھ انسانیت کی بودو باش کرے،ہم جو گِر چکے ہیںاُنہیں پھر سے اپنے پیروں پرکھڑا کرے،احترامِ آدمیت کے گم شدہ تقاضوں کو ہمارے لئے پھر سے ڈھونڈ لائے،ہم جو بٹ کے کٹ رہے ہیں، آقا کی شریعت مطہرہ ہمیں پھر سے جوڑ دےیہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی بھی دِل میں آرزوئے نفاذِ قانون محمدیﷺ نہ ہو،کون سا ایسا قلب ہے جو حکم مصطفی ﷺ کی تعمیل کے لئے بے چین نہ ہو، خدا کی قسم کوئی ایسا نفس میرے رب نے تخلیق ہی نہیں کیا جس کی فطرت اطاعتِ حبیب ﷺ نہ ہواگر کہیں بگاڑ پیدا بھی ہوتا ہے تو وہ اختیار میں ابلیسی وَسوَسوں کے شدید حملوں کا نتیجہ ہوتا ہے جو کبھی مذاہب کوجنم دیتا ہے تو کبھی عقائد کو ورنہ تو مذہب بھی ایک ہے اور عقیدہ بھی واحدکہ جو حضور دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اُس سے رک جاؤیہ حکم رب دے رہا ہے اور رب کی اجازت کے بعد اب حکم رسول دیں گےاب چاہے آپ اِس کا نام آئین رکھیں،قانون کہیں یا شریعتلیکن ہوگا وہی جو اللہ چاہتا ہے اور اللہ تو فقط یہی چاہتا ہے کہ میری رضا سے وہی ہو جو میرا مصطفی چاہتا ہے لہٰذا یہ سوچا ہی نہیں جاسکتا کہ کلمۂ طیبہ کے متوالے کلامِ طبیب و طیب کی تعظیم و تکریم نہ کریںاُسے آنکھوں سے نہ چومیں اور سینے سے نہ لگائیںہمارا تو سب کچھ ہمارے رسول ہیں،اُن سے نگاہ ہٹتی ہی نہیں جو کسی اور کو دیکھیں اور نگاہ بھی کیوں ہٹے کہ وہ اُن کی اَداؤں پر پڑتے ہی آنکھوں کی غلامی سے آزاد ہوجاتی ہے پھر اُس پر اُس آنکھ کا اختیار ہی نہیں ہوتا جو اُس کی مالک ہوتی ہے اور جس کی مرضی کے بغیر وہ اُٹھ بھی نہیں سکتی
بے شک پیغام لازوال ہے، میرے سرکار کی اِک اِک سنت بے مثال ہے اور یقیناً یہ اُن ہی کی اکملیت،اُن ہی کا جمال اور اُن ہی کا کمال ہے دعوت میں کبھی کوئی کمی تھی نا سُقُماحکامات میں کوئی لوچ ہے نا موچقوانین میں کوئی خامی ہے نا جَھولدینے والا جمیللانے والا حَسینچاروں خلفاؓ امینمگرپہاڑوں میں چھپے وہ پتھریلے چہروں والے کتنے بدصورت اور مُضرِ اسلام ہیںجو اپنی خود ساختہ تشریح پر مُصر اور بضد ہیںاِن کی صورتیں اُمیدوں سے خالی اور تمام ہی دعوےجعلی ہیںمیری امی جان مجھ سے کہا کرتی تھیں،بیٹا! دین کی باتیں کرنے والوں کے اِردگِرد نورانی ہالے ہوتے ہیں،دل خود بخود اُن کی جانب کھنچتا ہے ،اُن کے چہروں کی رونق ہی کچھ اور ہوتی ہے ،لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ اُن کا شیوہ اور دعوت میں نرمی اُن کا وتیرہ ہوتی ہے وہ جب کچھ کہتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ کہتے رہیں،اُن کے نصائح عجز کا مظہر ہوتے ہیں،تمہیں یہ جب نظر آئیں اِن کی صحبت میں ضرور بیٹھنا، یہ اپنوں کے لئے نرم اور اغیار کے لئے سخت ہوتے ہیں مگر اِس کے باوجود اِن کی سختی میں بے رحمی نہیں ہوتی کیونکہ وہ سختی بھی احکاماتِ سیدِ عالَمﷺ کے عین مطابق ہوتی ہے جس میں تُرشی،تُند خوئی اور تکبرکا گزر ہی ممکن نہیں
سوچتا ہوں یہ وہ تو نہیں کہ جن کے بارے میں امی بتایا کرتی تھیں؟؟؟اِنہیں دیکھ کر پیار نہیں خوف آتا ہے،امی کے مطابق تو اِنہیںایسا ہونا چاہیے تھا کہ مجاہدینِ اسلام پر نگاہ پڑتے ہی رگوں میں دوڑتا لہو مچلنے لگے اور جی چاہے کہ اُن سے جہاد کی باتیں کریں،اُن سے مل کر خود بھی یہی اِرادہ کریں مگر اِنہیں دیکھ کر تو بچا بچایا خون بھی برف کی مانند جم جاتا ہے روح کانپ اُٹھتی ہےکسی مذبح خانے سے بھاگے ہوئے اِن قصائیوں کے خنجر جب انسانوں کی گردَنوں پر چلتے ہیں تو چشمِ تصور میں خیال آتا ہے کہ شیطان کے قہقہوں سے دھرتی کس تکلیف سے گونج رہی ہوگی،وہ اپنی اولادوں سے چیخ چیخ کہ کہہ رہا ہوگا یہی تھا وہ انسان جسے سجدہ کرنے سے میں نے انکار کردیاتھامگر افسوس کہ ابلیس رجیم ہے اور یہ گمراہ بے وقوفقرآن نے تو پہلے ہی ایسے خون آشاموں کو انسان کہنے سے ہی منع فرمادیا ہے اور کتابِ بلاغت میں اِنہیں چوپایوں سے بھی بدترقرار دیا ہے
اور پھر خشک عقلوں والے یہ بنجر لوگ جب اپنے عقائد کی اُجاڑ زمین پر اپنی ہی سمجھ کا چھڑکاؤ کرتے ہیں توپہلے ہی سے سیم زدہ دھرتی پر خاردار جھاڑیوں کے سوا کچھ اورکیسے اُگ سکتاہے نعشوں کے میناروں پر کھڑے ہوکرانسانی قد اونچا نہیں ہوسکتا کیونکہ اُس کے پیروں کے نیچے بھی انسان ہی پڑا ہوا ہے یہ پستی کی وہ دشوار گزار گھاٹیاں ہیں جن سے گزرا نہیں جاتا بلکہ پیدا کرنے والا اِن میں پھینک دیا کرتا ہے اگر دامن محمد ﷺ سے وابستگی ہوتی تو نرمی اِن کی روحوں کو اپنا مسکن بناتی،دلوں کا زنگ بہہ جاتا اور یہ بتدریج شریعت رائج کرنے میں کامیاب ہوجاتے کیونکہ شریعت اللہ کی چاہت ہے اور چاہت کا چاہت ہی سے پرچار کیا جاتا ہے تاکہ سب اِس چاہت کو چاہنے لگیں اور چاہنے کی یہ ادا میرے رب کو اِس قدر بھائے کہ وہ بس یہی چاہے کہ اُس کا ہر بندہ حبیب کی قیادت میں جنت کو جائے!!!!
ہر دلعزیز ٹی وی میزبان اور معروف مذہبی اسکالر و کالم نگار ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے کالم لائوڈ اسپیکر پر اپنی رائے کا اظہار بذریعہ ایس ایم ایس کیجئے۔۔ آپ کی رائے نہ صرف آن لائن بلکہ جنگ کے ادارتی صفحہ پر بھی شائع کی جائے گی۔
SMS: #ALH (space) message & send to 8001
aamirliaquat@janggroup.com.pk
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat





Submit "#JangColumn: "Haseen Mustafa SAWW Ka Khoobsoorat Islam...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat" to Digg Submit "#JangColumn: "Haseen Mustafa SAWW Ka Khoobsoorat Islam...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat" to del.icio.us Submit "#JangColumn: "Haseen Mustafa SAWW Ka Khoobsoorat Islam...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat" to StumbleUpon Submit "#JangColumn: "Haseen Mustafa SAWW Ka Khoobsoorat Islam...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments