View RSS Feed

Fawad Afzal

JangColumn: "Muzakraat: Season 2...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#

Rate this Entry
Quote Originally Posted by Fawad Afzal View Post
کیا ہوئیں وہ ساری بڑی بڑی باتیں؟یہ یکدم جنگ بندی کی دانش عقل کی کون سی رگ کی مالش کے بعد ذہن میں سمائی؟ کدھر گئیں وہ ہیکڑیاں؟ کچھ یاد بھی ہے کہ یک ماہی بنواس لینے سے قبل کیا کچھ فرمایا تھا آپ نے؟ وہ اُصولی مؤقف کہاں گیا کہ امن مذاکرات آئین کے بجائے قرآن و سنت کے مطابق ہونے چاہئیں...اور یہ کہ فوجی آپریشن کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہیں اور یہ بھی کہ حکومت نے ڈالروں کے لئے آپریشن شروع کیا ہے اب فائر بندی کا اعلان اُنہیں کرنا ہوگا...بھئی ہمیں تو آپ مسلمان سمجھتے ہی نہیں اور ہمیں بھی پروا نہیں کہ آپ سمجھیں یا نہ سمجھیں بس اللہ اور اُس کا رسول ﷺ ہم سے راضی ہوجائیں،اِس کے سوا ربِ کعبہ کی قسم کچھ اور نہیں چاہئے...لیکن ...آپ تو پکے مسلمان ہیں،بعض علماء تو آپ کو اسلام کا سچا مجاہد بھی قرار دیتے ہیں ، پھر یہ حیلے، بہانے، یوٹرن، بات سے پھرنا،یوں ہی پلٹ جانا، یہ آپ کو زیب تو نہیں دیتا!یا تو دعوؤں سے پہلے بازوؤں میں دم ماپ لیتے یا پھر چپ ہی سادھ لیتے...غیر اسلامی دستاویزکے تحت مکالمے کے لئے تو آپ تیار تھے نہیں مگر غیر اسلامی طریقے سے جنگ بندی آپ نے فوراً کر دی...اور بھیا! معذرت کیساتھ یہ نہ کہئے کہ علماء کی اپیل پر ہم نے یہ قدم اُٹھایا ہے... کیونکہ ... علماء تو گزشتہ کئی برسوں سے بالعموم اور کئی ہفتوں سے بالخصوص اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے نام پر ہتھیار پھینکنے اور جنگ روکنے کی التجائیں کررہے تھے جن میں وہ نیک سیرت حضرت مولانا شیر علی شاہ صاحب بھی شامل ہیں جو سب ہی کے لئے لائق احترام و تعظیم ہیں...اُن کے خُلوص کی ایک جھلک آج بھی میرے دل کے ایک گوشے میں محفو ظ ہے۔ یہ غالباً 2008ء کی بات ہے جب میں وزارت اور اپنی سیاسی جماعت دونوں ہی کو تیاگ چکا تھااور اِسی دوران کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں مجلسِ صوتُ الاسلام کے زیراہتمام یوم فاروقِ اعظمؓ کی ایک روح پرور محفل کا انعقاد ہوا اور وہاں میری تقریر سننے کے بعد اُنہوں نے اشک بار آنکھوں سے مجھ جیسے جاہل کے لئے یہ دعا فرمائی کہ یااللہ! اِس کے دل میں اِس محبت کو ہمیشہ زندہ اور اِسے اپنی راہ میں لگائے رکھنا اور مجلس والوں سے کہا کہ اِس تقریر کو عام کر دیا جائے کیونکہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ پر اِس سے اچھی گفتگو میں نے نہیں سنی۔
افسوس ! کہ آپ نے تو اِس بزرگ ہستی کی جانب سے بار بار کی جانے والی اپیلوں پر بھی کان نہیں دھرا اور اب جب کہ شکست قریب نظر آرہی تھی،ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے اور فرار کے تمام راستے مسدود ہوچکے تھے تو آپ نےجنگ بندی کا پَتّہ پھینک دیا...سچے مسلمان کو یہ زیبا نہیں کہ اِدھر اُدھر سے بہانے تراش کر جہاد سے واپس پلٹنے کی راہیں تلاش کرے...یا پھر صاف صاف کہئے کہ پاک فضائیہ کے حملوں کے باعث آپ کا شدید نقصان ہورہاہے جس نے آپ کو مجبور کردیا ہے کہ سانس لینے کا وقفہ مانگ لیا جائے اور چونکہ جنگ کے دوران یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی فریق کسی دوسرے فریق کی ایسی کوئی بھی خواہش پوری کرے لہٰذا یکطرفہ سیز فائر ہی اِس کا بہترین حل تھا جو آپ نے اختیار کرلیا...یقیناً ازسرنو اپنے آپ کو منظم کرنے کے لئے ایک مہینہ کافی ہے ،بلاشبہ30دن اتنے ہیں کہ آپ پھر سے تازہ دَم ہوکر پاکستان سے بِھڑ جائیں اور اِس کے لئے جواز تلاش کرنا مشکل نہیں ہوگا...کہہ دیا جائے گا ہم نے تو چاہا تھا مگر بات نہیں بن سکی ،حکومت کا رویہ غیر لچکدار اور جارحانہ تھا، فوج اور حکومت ایک صفحے پر نہیں تھے ،ہماری طرف سے امن کی خواہش کے باوجود دوسری جانب سے نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا یا یوں کہ امن کی خواہش کو ہماری کمزوری سمجھا گیا، شریعت کے نفاذ سے انکار کردیاگیا وغیرہ وغیرہ !!
آپ کے حامی علماء تو آپ سے پوچھیں گے نہیں لیکن علمائے حق کو آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہئے کہ جب آئین ہی کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بالآخر مذاکرات پر آمادگی اختیار کرنا تھی تو یہ بڑبڑانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی کہ پاکستانی آئین میں ایک شق بھی اسلامی نہیں ہے اور اِسی وجہ سے ہم اِس کو نہیں مانتے...اب کس کو مانتے ہو بھائی؟اور اب یہ سمجھ کہاں سے آئی؟...سچ تو یہ ہے کہ انجانا خوف سامنے تھا،قوم یکسو ہو کر اپنی افواج کے پیچھے کھڑی تھی،کامیاب فضائی حملوں نے کمر توڑنا شروع کردی تھی کہ اچانک جہاد کا نام لینے والوں نے بلکہ یوں کہوں تو زیادہ مناسب ہوگا کہ جہاد جیسے عظیم فریضے کو بدنام کرنے والوں نے پیٹھ دکھادی،پسپائی اختیار کرلی،گھٹنے ٹیک دیئے ...ذبح کرنے والوں کے دل یکایک نرم ہوگئے... جنونیوں کو ایک لمحے میں ہی امن سے پیار ہوگیا،وہ آئین جو کل تک بوسیدہ،بے کار اور غیر اسلامی تھا نہ جانے راتوں رات مقدس، پاکیزہ اور اسلامی کیسے بن گیا؟
سب ڈھونگ ہے صاحب!کچھ پَل کے لئے سانس لینے کا ایک بہانہ ہے، انسانی گردنوں سے فٹ بال کھیل کر احسنِ تقویم کی گستاخی کرنے والوں سے خیر کی توقع عبث ہے...اِن کے اِس حال کو چال ہی سمجھا جائے توبہتر ہوگا، اُمیدیں نہ باندھی جائیں،سپنے نہ دیکھے جائیں،اطمینان کے گھر پر اب بھی تالا لگا ہوا ہے جس کی چابی صرف اور صرف قانون کی حکمرانی ہے جس کے قیام کے بغیر امن کی تمام کوششیں اُدھوری اور اپاہج ہی کہلائیں گی...کچھ یار دوست آج مجھ سے ناراض بھی ہوں گے اور شاید سیخ پا ہو کر توازن کھو بیٹھیں اور اول فول اقوال کی نئی کتاب مارکیٹ میں لے آئیں...مگر...میں افواجِ پاکستان کی ہمت کو پست کرنے والوں میں سے نہیں...دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا جو پاکستان میں ہونے جارہا ہے...دشمن نے پہلے جنگ کی حامی بھری،اپنے خلاف آپریشن کے شاندار نتیجوں سے خبردار رہنے کا عندیہ دیا، باقاعدہ لڑنے کا اعلان کیا۔
شہریوں اور فوجیوں پرچھپ کر بزدلانہ حملے کئے، اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے انتہائی مقدس و محترم ناموں کو اپنی لڑائی میں معاذ اللہ استعمال کیا اور جب شکست سامنے نظر آنے لگی تو مذاکرات کا سفید پرچم لہرادیا۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلے اِنہیں مکمل زیر کیا جاتا ،ہتھیار چھین کر اِنہیں نہتاکرنے کے بعد اِن سے قانون کی شرائط پر گفتگو کی جاتی اور پھر قوم کے سامنے اِن کی اپیل، حکومت کی رائے اور قوم سے سوال رکھا جاتا...ممکن ہے کہ ہزاروں پیاروں کی نعشوں کو سپردِ خاک کرنے والی قوم اِنہیں معاف بھی کردیتی لیکن یہاں تو یہ موقع آنے سے پہلے ہی موقع پرستی نے جگہ بنالی...اب عوام تیار رہیں...کَل سے پھرایک نیا ڈرامہ شروع ہونے جارہا ہے جسے اگر مذاکرات سیزن2کا نام دیا جائے تو کہنے اور سننے میں یقیناً اچھا لگے گا...حالانکہ سیزن2کا انحصار ہی سیزن 1کی کامیابی پر ہوتا ہے مگر چونکہ یہاں سارے طریقے ہی عجیب ہیں اِس لئے سیزن2کی آمد بھی کوئی اچنبھا نہیں!پھر سے ٹیبلیں سجیں گی،نئی شرطیں اور طولانی غرضیں سامنے آئیں گی...وقتاً فوقتاً خوش خبریوں کی گھنٹیاں بھی ایک مخصوص عرصے کے لئے سماعتوں میں عرفانی رَس ضرور گھولیں گی اور شاید گھلتے مٹتے عوام کچھ دیر کے لئے خوش بھی ہوجائیں مگر گول مال1کی کامیابی کے بعد گول مال2بنائی ہی اِسی لئے جارہی ہے تاکہ جلد ہی گول مال3کی تیاری شروع کی جاسکے۔
میاں صاحب سے جو توقعات وابستہ تھیں الحمدللہ اُنہوں نے ویسا ہی کردکھایا ہے اور چوہدری نثار صاحب کے تو کہنے ہی کیا ہیں،اُنہوں نے لفظ نثار کی خوب لاج رکھی ہے،اِس کی لُغوی،لفظی اور معنوی شرح کو اُنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کردکھایا ہے ...مجھے تو یہ خوشبو دوستانہ کرکٹ میچ کی دعوت سے ہی آگئی تھی...تو پھر سلام اُن جوانوں پر اور آفرین اُن شہریوں پر جو خاموشی سے اپنے وطن پر نثار ہورہے ہیں اورسلامِ عظیم اُن پہلے سے نثاروں پر جو اِک لفظ کہے بنا ہی ٹی ٹی پی پر نثار ہوگئے!!!

ہر دلعزیز ٹی وی میزبان اور معروف مذہبی اسکالر و کالم نگار ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے کالم لائوڈ اسپیکر پر اپنی رائے کا اظہار بذریعہ ایس ایم ایس کیجئے۔۔ آپ کی رائے نہ صرف آن لائن بلکہ جنگ کے ادارتی صفحہ پر بھی شائع کی جائے گی۔
SMS: #ALH (space) message & send to 8001
aamirliaquat@janggroup.com.pk
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat







Submit "JangColumn: "Muzakraat: Season 2...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#" to Digg Submit "JangColumn: "Muzakraat: Season 2...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#" to del.icio.us Submit "JangColumn: "Muzakraat: Season 2...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#" to StumbleUpon Submit "JangColumn: "Muzakraat: Season 2...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments