View RSS Feed

Fawad Afzal

JangColumn: "Fouj Kion Janab...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#

Rate this Entry
Quote Originally Posted by Fawad Afzal View Post
JangColumn: "Fouj Kion Janab...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#فوج کیوں جناب؟...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامرلیاقت حسینhttp://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=178477فوج کیوں جناب؟...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامرلیاقت حسین SMS: #ALH (space) message & send to 8001aamirliaquat@janggroup.com.pkآپ بادشاہ ہیں جناب! چاہیں تو ناشتہ فرمائیے اور چاہیں توعشائیے اُڑائیے...آپ کو کون پوچھنے والا ہے ، کمیٹیوں کی بھی پانچوں انگلیاں گھی اور سر وزیرستان میں ہے مگر اللہ کے واسطے فوج کو اِس عمل سے دور رکھیے!!...ارے بھئی فوج کیوں؟کس لیے؟اور کس بنا پر؟...مذاکرات کرنا توآپ ہی کا کام ہے سرکار!شرائط سننا، ماننا یا نامنظور کرنا یہ تو آپ کے اختیارات ہیں...آپ خود حکومت ہیں،اقتدار آپ کیمنشا کے گِرد پھیرے لگاتا ہے ، فیصلے کرنا بھی آپ ہی کو زیب دتیا ہے، شان و شوکت آپ کو ہر صبح سلام کرتی ہے،مرتبے بھی آپ ہی کے بَلند ہیں،پھر یہ فوج کہاں سے آگئی؟... ذرا تحقیق تو کیجئے کہ مذاکرات کے اِس مشکوک عمل میں پاکستان کی مسلح افواج کوشامل کرنے کی آگ کس دشمن نے لگائی ہے جناب؟...فوج کاکام سرحدوں کی حفاظت کرناہے، پاکستان کے فطری اور نظریاتی دشمنوں پر کڑی نگاہ رکھنا ہے ...فوج حالتِ جنگ میں لڑتی ہے اور حالتِ امن میں جنگ کی مشقیں کرتی ہے ...فوج میز کے اُس طرف بیٹھ کر اِس طرف والوں کے مطالبات کی شاہد نہیں بنا کرتی...اِس کا کام ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ کر اپنے آپ کو دھروانا نہیں ہے....یہ اپنے جوانوں اور عام شہریوں کے قاتلوں کی جانب سے پیش کردہ شرطوں پر سر ہلانے کے لئے نہیں بنائی گئی...بہادری اِس کا سرمایہ،شجاعت اِس کا یقین اور نشانِ حیدر اِس کا اثاثہ ہے... لہٰذا یہ توقع ہی عبث ہے کہ پاکستان کی قابلِ فخر فوج گلے کاٹنے اور نعشوں کا مثلہ کرنے والوں کے ساتھ مانڈوالی کے لئے کسی مشترکہ مذاکراتی مقام پر اُن سے یاروں کی طرح گھل مِل جائے گی...گفتگو، مکالمے اور مذاکرے دراصل سیاست دانوں یا اُن کے نامزد کردہ اراکین کا کام ہے ...تاریخ میں کہیں ایسا ہوا اور نہ ہی کوئی مثال موجود ہے جہاں محافظوں نے نقب لگانے والوں سے پُرسکون ماحول میںشرائط طے کی ہوں...یہ ذمے داری تویقینا اُن کی ہے جنہیں اتمامِ حجت کا ذوق اور خبروں میں رہنے کا حد درجہ شوق ہے...یہ تو آپ ہی پر منحصر ہے کہ ٹانگ کھنچوائیے یا تصویرلیکن برائے مہربانی صرف آپ!ہمارے سپاہیوں کو اگر اِس سے دُور ہی رکھیں تو بڑی مہربانی ہوگی...ویسے بھی فوج کاکا مسیاست تو ہے نہیں!اگر وہ سیاسی ہوجائے تب بھی یارانِ اسمبلیوں کوچین نہیں اور حد یہ ہے کہ سیاسی کاموں میں اُسے گھسیٹے بنا آرام بھی نہیں...میجر شبیر شریف شہید اور راجہ عزیز بھٹی شہید کے خاندان کے سپُوت کو حفاظتِ سلطنت کا کام کرنے دیجیے اور آپ اپنا کامکیے جائیے...کون پوچھ رہا ہے ؟کس کو تجسس ہے؟ اجی یہاں کسی کو کوئی اُلجھن ہے نہ فکر!!کیونکہ اب ہم سہمے ہوؤں کے پاس وہ دماغ ہی کہاں رہا جو کبھی درد کو محسوس بھی کیا کرتا تھا...جسم و روح پر زخموں کے اِتنے نشانات ہیں کہ رَگوں اور چوٹوں میں تمیز ہی نہیں ہوپاتی...شرکِ جَلی اِتنا واضح ہے کہ شرکِ خفیکی تو باری ہی نہیں آتی...یہاں تو سب کے دَم فناہیں، خوف کا راج اور دہشت کا غلبہ ہے ، اپنے آپ ہی سے کوئی اپنی شکایت کیا کرے؟جھاڑ پونچھ برابر ہوچکی ،ستیاناس تو پہلے ہی تھا پَر اب تو سوا ستیاناس کی تیاریاں بھی زوروشور سے جاری ہیں...تصدیق کرنے والے اچانک ایسے تَصَّدُق ہوئے کہ جو اصل تَصَّدُق ہیںوہی محوِ حیرت ہیں کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟...اور تصرف اُن کے پاس ہے جنھیں خیانت میں کمال مہارت حاصل ہے...ایسے میں مسلح افواج کو پُرانی مُلاقاتوں میں شامل کرنے کی کوشش کرناکسی پَر پنچ سے کم نہیں...بُرا نہ مانیے گامگر یہ گورکھ دھندااُن ہی پر اچھا لگتا ہے جوطالبان کو امن کی تلاش میں اپنا ساتھی گردانتے ہیں...غضب خدا کا ذرا بیانات تو ملاحظہ فرمائیے،اُنہیں پارٹنر اِن پیس قرار دیا جارہا ہے جنھوں نے انسانوں کو Piecesمیں پھینک کر فخر سے اپنی ویڈیوز بنوائیں...ابھی توہماری افواج نے ہتھیار اُٹھائے ہی تھے کہ حکومت نے ہتھیار ڈال دیے...واہ صاحب واہ !کیا حکمتِ عملی ہے، کیا بالغ النظری ہے ،ماشاء اللہ!!!...سو گزارش ہے جناب! کہ ترنگ سے بات چیت کیجئے،دُھن سے سردُھنیے، سرگرمی سے گرمی نکالئے، محبت سے پینگیں بڑھائیے، اپنی تمام آرزوؤں اور تمناؤں کو عرفانی رنگ میں رنگے جائیے اور جنھیں رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہئے اُن سے پہاڑوں میں جاکر مل بھی آئیے مگرخدا کے لئے اِس طرح پچاس ہزار انسانی نعشوں کا تماشا نہ بنائیے!!!...یہ درست ہے کہ یہاں قصاص مانگنے والے خاموش اور دیت کی درست نیت سے انجان سب ہی خوف زدہ ہیں لیکن اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اُنہیں اپنا دوست مان لیا جائے جنہوں نے اپنوںہی کاگوشت اُتار کر ہڈیاں پھینکی ہوں...ہم سب چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو،سب ہی کا جی سکون کا متمنی ہے اورکسی کی بھی یہ خواہش نہیں کہ گفتگو کو ذرا سی بھیزک پہنچے...مگر... وہ اصلاًچالاک تو ہمیں عیال داری میں پھنسا کر اپنی پھولی ہوئیںسانسیں بحال کرنا چاہتے ہیں،مارتے بھاگتے چونکہ تھک گئے ہیں اِسی لئے مذاکرات کی میز پر کچھ دیررُک کر سستانا چاہتے ہیں...مثل مشہور ہے کہ عیاں راچہ بیان کہ ظاہر اور اعلانیہ چیز کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ...پھر آپ پر حق واضح کیوں نہیں ہورہا؟میں تو حیران ہوں کہ آپ کی مُتَخیلہ، مُتَصَّوِرہ، مُحَرِّکہ او ر مُمّیِزہ قوتوں کو ہو کیا گیا ہے؟ مشرف صاحب کے معاملے میں تو ساری حِسیںبرابر چل رہی ہیں یہاں آکر Pauseکا بٹن کون دبادیتا ہے؟ اجی حضور!کس بد نصیب دُکان سے سودا لینے چلے ہیں جہاں نہ تَرازو ہیں نہ باٹ...یہاں قوم کے کلیجوں پر گھونسے پڑ رہے ہیںاور آ پ اپنے فطری رفیقوںکو کلیجے کا ٹکڑا اور پارۂ دل بنانے پر تُلے ہوئے ہیں...آپ کا کیا خیال ہے یونہی سب ٹھیک ہوجائے گا؟کھڑے کھیت کا صحیح تخمینہ لگانے میں آپ کیا کامیاب ہوجائیں گے؟بھیا جان! پورب جاؤ یا پچھم، وہی کرم کے لکّھن...یہ جیسے ہیں،ویسے ہی رہیں گے،کچھ دن مزید آپ کے ساتھ کھیلیں گے اور پھر اپنے پُرانے کاموں پر لگ جائیں گے...بہتر ہے کہ قو م کو کھل کر بتادیجیے کہ یہ کیا مانگ رہے ہیں؟ اور جو اِن کی مانگ ہے وہ اگر آپ اِنہیں دینے میں بااختیار ہیں تو دے کر جان چھڑا لیجئے...شریعت اِن کا مطالبہ نہیں اور آئین اِن کی ضد نہیں،یہ تو ساکھ قائم رکھنے کے اِن کے عجیب سہارے ہیں،حقیقتاًجو وہ چاہتے ہیں وہ دے دیجئے اور مذاکرت کا فائنل جیت لیجیے...ویسے سنا ہے ناشتہ بڑا پُرتکلف تھا، انواع و اقسام کے پکوان سجائے گئے تھے،انڈے،پراٹھے اور پائے بھی کھلائے گئے تھے... یہ الگ بات ہے کہ ایک روز پہلے وزیراعظم صاحب کے اپنے ہی شہر میںایک ماں نے بھوک سے بلکتے اپنے دونوں بچوں کو صرف اِس لئے قتل کردیا تھا کیونکہ اُس کے پاس اُنہیں دودھ پلانے کے لئے پھوٹی کوڑی تک نہ تھی،حاکم وقت نے ا س سانحے کا نوٹس لیا اور نہ ہی طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی نے شرعی توجہ دلائی مگرمیاں صاحب نے ایک دن پہلے Menuضرور چیک کیا تھا کہمہمانانِ گِرامیکو ناشتے میں کیا پیش کیا جائے...ملک کی افواج پیش کرنے کا اِرادہ تو یقیناً کامیاب نہیں ہوسکا اور یہ اقدام خطرناک بھی ثابت ہوسکتا تھا اِسی لیے لہجوں میں دھیما پَن واضح ہوگیا ہے، تھکا ہوا اندازبے چارگی کا اعلان کررہا ہے،کسی نے دائیں طرف بیٹھ کر اورآنکھوں میں آنکھیں ڈال کرشاید گنگنادیا تھا کہ دھیرے دھیرے آ بادل دھیرے دھیرے ، میرا بلبل سو رہا ہے،شور نہ مچا...اور بس ! دو منٹ میںسب کچھ بدل گیا، ہمارے قابلِ احترام بادشاہ یاشہنشاہ نے آہستگی سے ناشتہ اُڑانے والوں سے کہاسنئے!میں کوشش کروں گا کہ آپریشن کی نوبت نہ آئے...حالانکہ دو دِن پہلے اِن کی کوشش کچھ اور تھی...دعا ہے کہ اللہ سلامت رکھے اُنہیں جو کوششوں کو صرف ایک ملاقات ہی میں درست کرادیتے ہیں اور پوری چوکڑی کوسمجھا دیتے ہیں کہ قوم کیا چاہتی ہے !!!! ہر دلعزیز ٹی وی میزبان اور معروف مذہبی اسکالر و کالم نگار ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے کالم لائوڈ اسپیکر پر اپنی رائے کا اظہار بذریعہ ایس ایم ایس کیجئے۔۔ آپ کی رائے نہ صرف آن لائن بلکہ جنگ کے ادارتی صفحہ پر بھی شائع کی جائے گی۔SMS: #ALH (space) message & send to 8001aamirliaquat@janggroup.com.pkwww.aamirliaquat. com, Twitter: @AamirLiaquat

Submit "JangColumn: "Fouj Kion Janab...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#" to Digg Submit "JangColumn: "Fouj Kion Janab...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#" to del.icio.us Submit "JangColumn: "Fouj Kion Janab...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#" to StumbleUpon Submit "JangColumn: "Fouj Kion Janab...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat#" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments