View RSS Feed

Fawad Afzal

#JangColumn "Wo Jamid Nahi Ho Sakta Kion Kay HAMIR MIR Hai...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat

Rate this Entry
Quote Originally Posted by Fawad Afzal View Post
#JangColumn "Wo Jamid Nahi Ho Sakta Kion Kay HAMIR MIR Hai...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat
SMS: #ALH (space) message & send to 8001
aamirliaquat@janggroup.com.pk
وہ بہادر تو ہے لیکن اِتنا بہادر ہوگا یہ میں نہیں جانتا تھا،ایک وقت تھا کہ ہمارے تعلقات سرد وگرم رہتے تھے لیکن کچھ برسوں سے ہمارے اِردگِرد اُلفت و محبت نے ایک ایسی اونچی دیوار کھینچ دی تھی کہ غلط فہمیوں کو جھانکنے کی ہمت تک نہ تھیمیں اکثر اُسے محتاط رہنے کا مشورہ دیتا تو وارث میر کا وارث اور میرا گبھرو حامد میر شرارتی آنکھوں اور خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ کو یہ کہہ کر لاجواب کردیتا کہحضورِ والا! پہلے آپ احتیاط فرما لیجئے اُس کے بعد نصیحت کیجئے گا،ویسے بھی نصیحت کرنا اُنہی کو زیب دیتاہے جو پہلے خود اپنے کہے پر عمل کریں اور میں جواباً لفظوں کے چناؤکی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھ کر خاموش ہوجاتا تھااُس کی لاتعداد اچھی عادتوں میں سے ایک بُری عادت لگی لپٹی کے بغیر سچ کہنے کا جنون تھا،اِس ملک میں جہاں ہم سب ہی سہمے سہمے رہتے ہیں وہاں حق بات کہنا جُرم ہی تو ہے اور میرے اِس دوست کو یہ جُرم کرنے کا بار بار شوق تھا بلکہ یوں کہئے کہ وہ اِس میں بے پناہ لذت محسوس کرتا تھامیں اُس کے پروگرام میں اِن12برسوں کے دوران تین یا چار مرتبہ ہی مدعو تھا کیونکہ ہم دونوں ہی کا مسئلہ سچ ہے لہٰذا بہتر یہی تھا کہ ہم باہمی طور پر ہی یہ طے کر لیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ کم کم بیٹھا کریں ورنہ دو سچ کسی ایک کے لئے برداشت کرنا مشکل ہو جائیں گے چند دن قبل ہم نے دبئی میں اکٹھے کچھ وقت گزارا اور اِس دوران اُس کے تیور ہی بدلے ہوئے تھے، بات بات پر مرنے کی باتیں کر رہا تھا اور جب میں اُسے روکنے کی کوشش کرتا تو مجھ سےکہتا ڈاکٹر صاحب! لڑتے لڑتے مروں گا،ڈرتے ڈرتے نہیں اور تم بھی ایسے ہی مرو گے یہ تم بھی اندر سے جانتے ہو! اور میں ایک بار پھر خاموش ہوجاتاوہ رات یقیناً برادرم سلیم صافی اور محترم انصار عباسی کو یاد ہوگی جب ہم چاروں اکٹھے ایک اجلاس سے فارغ ہونے کے بعد رات گئے دبئی کے معروف حاجی علی جوس سینٹر میں جوس پینے گئے تھے،وہاں بھی اِس کا لب و لہجہ سخت اور ناراضی سے بھرپور تھامیں نے ازراہِ تفنن ماحول بدلنے کے لئےیوں ہی کہاکہ بھائی لوگو! میں تو ریٹنگ میں بھی نمبر ون ہوں اور طالبان کی ہٹ لسٹ میں بھی نمبر ون لہٰذا اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میرے گھر والوں کا خیال رکھنا اور اپنے اِس بھائی کے لئے یہ ضرور کہہ دینا کہ اُس نے حق پر جان دی اور خوارج کے معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کیاانصار عباسی بھائی کا چونکہ ایک اپنا نقطہ نظر ہے اور یہی ہماری محبتوں کی بنیاد ہے کہ ہم اختلاف کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے پیار بھی بہت کرتے ہیں،وہ شاید خوارج والی بات سے متفق نہیں تھے مگر میرے لئے بہت فکرمند تھے اور سلیم صافی بھیا کا تو بس نہیں چلتا کہ مجھے کہیں سنبھال کر اور چھپا کے رکھ دیں تاکہ کوئی میری گرد بھی نہ پا سکے۔البتہ حامد میر مجھے گہری نظروں سے تکتا رہا پھر ہونٹوں کو بھینچا ،کرسی سے ٹیک لگائی اور ایک گہری سانس کے ساتھ کہا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ بھی ریکارڈ کرا دیجئے! میں نے حیرت سے سوال کیا کہ کیا ریکارڈ کرادوں؟تو وہ ایک دم سیدھا ہوکر بیٹھا اور کہنے لگااپنے قاتلوں کے نام ریکارڈ کرادو!!میں نے تو یہ کام کر دیا ہے ،اسلام آباد میں اپنی پوری ٹیم کے سامنے ایک ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو اِس کی ذمہ داری فلاں فلاں پر ہوگی اور وہ ویڈیو میں نے ایک محفوظ مقام پر رکھوا دی ہے تاکہ میرے مرنے کے بعد دنیا کو حقیقت کا علم ہو جائے کہ مجھے مارنے والے کون تھے۔
ہم تینوں نے ہی مختلف جذبات کے ساتھ اُسے چند لمحوں تک دیکھا،یقیناً میں نہیں جانتا کہ اوروں کے دل میں اُس وقت کیا تھا اور وہ اُس سے کیا کہنا چاہتے تھے مگر میں نے اِس بات پر اُس سے خفگی کا اظہار کیا اور مصر رہا کہ جذبات میں آکر ایسی کوئی حرکت نہیں کرو اور یہ فضول باتیں چھوڑو، اللہ تمہارا سایا ناہید بھابھی اور بچوں پر سلامت رکھے، تمہیں ایک لمحے کے لئے بھی اُن کا خیال نہیں آتا تو جو اِس قسم کی بے تُکی باتیں کرتے ہوجواباً وہ مزید جلال میں آگیا اور مجھ سے یوں گویا ہوا کہ یا تو آپ کچھ نہیں جانتے یا نہ جاننے کی ایکٹنگ کر رہے ہیں، کیا آپ کو نہیں معلوم کہ میرے اور آپ کے دشمن مشترکہ ہیں لیکن شاید آپ کو اِس کا اِدراک نہیں ہے اور اگر اِدراک ہے تو مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، خیر لسٹ کے مطابق پہلے تو آپ ہی جائیں گے نا! پھر میرا نمبر ہے تو خدا کے واسطے اپنے لئے بھی سوچ لو اور مجھے اُلٹے سیدھے مشورے نہیں دو اُس کا لہجہ یک دم جارحانہ سا ہو گیا تھا اور مجھے بھی اندازہ ہوچلا تھا کہ شیر سے زیادہ بحث بے کار ہے یہ اپنے راستے سے پیچھے ہٹنے والا نہیں،اگر دو قدم پیچھے ہٹا بھی تو ڈر کر نہیں بلکہ دشمن پر جھپٹ پڑنے کے لئےلیکن شاید اوروں کی طرح مجھے بھی فکر اُس کے اپنوں کی تھی اِسی لئے میں اُس کی سچی باتوں کی طرف زیادہ دھیان نہیں دے رہا تھا،کفن سے آشنائی اور کافور سے محبت ہم جیسوں کا دماغ خراب کرہی دیتی ہے ،حق پر رہتے ہوئے مرنے کا بھی ایک عجیب نشہ ہے، شاید لوگوں کی نگاہوں میں ہم ایک پیشہ ور صحافی یا اینکر ہوں مگر اِنہی لوگوں کی ترجمانی کا صلہ کبھی نہ کبھی کسی اندھی گولی کی شکل میں مل ہی جایا کرتاہے اور شاید یہی ہمارا اصل معاوضہ بھی ہوتاہے جو ہمیں ہمارے مالکان نہیں بلکہ اصل مالک کی طرف سے شہادت کی صورت عطا ہوتا ہےبہرحال باتوں باتوں میں اُس نے بھابھی صاحبہ سے اپنی بے پناہ محبت کا بھی اظہار کیا اور کہتا رہا کہ میری بیوی بہت تقوے والی اور پرہیزگار ہے اور اُس نے قدم قدم پر میرا ساتھ دیا ہے،اللہ اُسے میرا صدمہ جھیلنے کی توفیق عطا فرمائےاور میں ہمیشہ کی طرح پھر وہی نصیحتیں دہرانے لگتا جن پر عمل کرنے کی بقول اُس کے پہلے مجھے ضرورت تھی۔
رات گئے تینوں کو اُن کے ہوٹل پہنچایا اور پھر اپنے گھر کی راہ لی، اُس کے بعد کئی دنوں تک اُس سے ملاقات نہیں ہوئی، ٹیلیفون پر اکثر بات ہو جاتی تھی یا پھر مختصر پیغامات کا تبادلہ کبھی وہ کوئی چٹکلہ بھیجتا تو کبھی میں کوئی واقعہاِس دوران وہ دو تین بار خصوصی نشریات کے لئے کراچی بھی آیا لیکن دبئی میں ہونے کی وجہ سے میری اُس سے ملاقات نہیں ہو سکیوہ یہ بھی کہا کرتا تھا کہ ڈاکٹرصاحب! نہ جانے جیو کی انتظامیہ مجھے کراچی کیوں بلا لیتی ہے کیونکہ یہاں میرے دشمنوں کی تعداد زیادہ ہےاور پھر19اپریل کی شام 4:45پر وہی ہوا جس کا ڈر تھاباخبر دہشت گردوں نے میرے حامد میر کو قریب سے تین گولیاں ماریں مگر یہ سخت جان اِتنی آسانی سے قاتلوں کی جان نہیں چھوڑے گا، یہ بات حملہ آور جان ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ بزدلوں کو بہادروں سے انجانا خوف ہمیشہ لاحق رہتا ہے مجھے جیسے ہی اطلاع ملی،میں سب کام چھوڑ چھاڑ،انعام گھر ملتوی کر کے اسپتال جا پہنچالبوں پر یاسلام کا ورد، آنکھوں میں آنسو اور رب سے اُس کی زندگی کی التجائیں، بس ایک یہی سرمایہ تھا جو اسپتال پہنچنے تک اور پھر آپریشن کی کامیابی تک میرے ساتھ رہاآپریشن تھیٹر میں جاتے ہوئے ایک بار اُس نے آنکھیں کھولیں اور جیسے ہی مجھے دیکھا تو اُس کی چشم نم نے دو قطروں کے ساتھ گویا شکریہ ادا کیا اور شدید درد میں مبتلا ہونے کے باوجود میرا ہاتھ سختی سے تھام لیاجی نہیں چاہتا تھا کہ اُس کا ہاتھ چھوڑوں مگر دوست کی زندگی کے لئے آپریشن ضروری اور یہ جدائی یقینی تھیاُس کے اسٹریچر کو تھیٹر میں پتھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ جاتا ہوا دیکھتا رہا اور پھر وہیں جم کر رہ گیاعجیب دھڑکے اور انجانے خوف ہلائے دے رہے تھے مگر بچانے والے پر یقین ایمان متزلزل ہونے سے بچا لیتااُس وقت میرا بس ایک ہی کام تھا کہ سب کو تسلیاں دیتا رہوں، کبھی عامر میر کو تو کبھی بھابھی صاحبہ کو جنگ انتظامیہ کے اہل ترین افراد کی آنکھوں میں آنسوؤں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے اورنہ پوچھئے کہ ان کی حالت کیا تھی ؟وہ گفتگو کم اور روہانسے زیادہ تھےلیکن دل یا سلام کی تسبیح سے غافل نہیں تھا،بے شک اللہ کے کلام اور اُس کے ناموں میں بڑی برکت ہے ،پوری قوم دعاؤں میں مصروف ہو گئی، علمائے کرام، مساجد، امام بارگاہیں،اقلیتوں کی عبادت گاہیںکون سی ایسی جگہ تھی جہاں سے حامد میر کی سلامتی کے لئے بارگاہِ ایزدی میں آوازیں بلند نہیں ہورہی تھیںاور پھر وہ خوشگوار لمحہ بھی آن پہنچا جب ڈاکٹر صاحبان کے پینل نے یہ خوش خبری سنادی کہ آپ کے حامد میر کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ۔
بس سجدہ ٔشکر ادا کرتے ہوئے رب نے یہی خیال دل میں ڈالا کہ حامد،جامد نہیں!ہمارے فضل سے اب بھی حامد ہے!!!


Submit "#JangColumn "Wo Jamid Nahi Ho Sakta Kion Kay HAMIR MIR Hai...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat" to Digg Submit "#JangColumn "Wo Jamid Nahi Ho Sakta Kion Kay HAMIR MIR Hai...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat" to del.icio.us Submit "#JangColumn "Wo Jamid Nahi Ho Sakta Kion Kay HAMIR MIR Hai...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat" to StumbleUpon Submit "#JangColumn "Wo Jamid Nahi Ho Sakta Kion Kay HAMIR MIR Hai...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments