View RSS Feed

mubasshar

خدا کے لیے کشکول نہ توڑیے گا

Rate this Entry



اب سارے دلدر دور ہوجائیں گے کیونکہ پنجاب کے قدیم شہر چنیوٹ میں لوہے، تانبے، چاندی اور سونے کے بھاری اور معیاری ذخائر دریافت ہوگئے ہیں۔
شریف برادران اس دریافت پر اتنے خوش ہوئے کہ چنیوٹ پہنچتے ہی امدادی کشکول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے توڑ دینے کا نعرہِ مستانہ لگا دیا۔
وہ تو از قسمِ پرویز رشید اور عطاء الحق قاسمی مدبروں نے عین وقت پر سمجھا لیا کہ میاں صاحب پہلے آئی ایم ایف سے قرضے کی تازہ قسط تو وصول کرلیں۔ پھر بے شک اسی رقم میں سے کچھ پیسوں کا ایک بڑا اور ایک چھوٹا کشکول خرید کر توڑم تاڑی کا شوق پورا کرلیں۔
میں میاں برادران کی اس خوشی میں یہ کہہ کر کھنڈت نہیں ڈالنا چاہتا کہ صرف معدنیات سے نہیں اس کی آمدنی کی مساوی و منصفانہ تقسیم سے ہی کشکول ٹوٹتا ہے۔
بصورتِ دیگر معدنی دولت سمیت کوئی بھی قومی دولت نحوست بن کے ٹوٹتی ہے۔ بی فاختہ دکھ سہتی ہیں اور ان کے انڈے کوے کھاتے ہیں۔
کبھی سوچا کہ معدنی دولت سے سب سے زیادہ مالا مال بلوچستان سب سے غریب کیوں ہے؟
سندھ جو وفاق ِ پاکستان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس وقت سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرتا ہے اور کوئلے کے عظیم ذخائر پر بیٹھا ہے، اس کے 28 میں سے 17 اضلاع خطِ غربت سے نیچے کیوں ہیں؟
نگرپارکر میں گرینائٹ کا پورا کارونجھر پہاڑ کھڑا ہے۔ ذرا اس پہاڑ کی لیز الاٹمنٹ لسٹ تو پڑھیے۔ اگر اس فہرست کے غیر معمولی ناموں میں کوئی ایک معمولی بھی نظر آ جائے تو آج سے میرا نام کازب خان ۔۔۔۔

س
ب سے زیادہ یورنیم جنوبی پنجاب کے جن دو علاقوں (ڈیرہ غازی خان اور راجن پور) سے نکلتا ہے وہی دو علاقے پنجاب کے سب سے پسماندہ اضلاع کیوں ہیں؟
تو کیا زمرد کی کانوں نے سوات کی قسمت بدل دی؟
سب سے زیادہ لوہا پیدا کرنے والا بہار بھارت کا سب سے پسماندہ صوبہ آخر کیوں ہے؟
کیا جنوبی افریقہ کے سب کالوں کو معلوم ہے کہ وہ دنیا کے آدھے ہیروں اور ایک چوتھائی سونے کے مالک ہیں؟
کیا موریطانیہ اور مغربی صحارا میں باکسائیٹ کے سب سے بڑے عالمی ذخائر سے یہاں کے صحرائیوں کو بھی زندگی کی بنیادی سہولتیں مل گئیں۔
نائجر یورنیم کا تیسرا بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے مگر 10 غریب ترین ممالک کی فہرست میں بھی شامل ہے۔
جنوبی سوڈان تیل کے زخائر کے اعتبار سے لیبیا اور نائجیریا کے بعد تیسرا اہم افریقی ملک ہے مگر دوسرا غریب ترین عالمی ملک بھی ہے۔
کتنے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اپنی آمدنی رعایا میں برابر تقسیم کرنے کا نظام وضع کیا۔ قذافی کے لیبیا اور ہیوگو شاویز کے ونیزویلا کے علاوہ تیسرا نام چاہیے۔

جتنی خوشی اس وقت نواز و شہباز کے چہروں پر ہے لگ بھگ اتنی ہی خوشی اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے چہرے پر بھی تھی جب انھوں نے ایک سیاہ آمیزے سے بھری بوتل قومی اسمبلی میں لہراتے ہوئے اعلان کیا ڈھوڈک میں تیل نکل آیا ہے، قسمت بدلنے والی ہے۔
اور پھر انھوں نے مولانا مفتی محمود کو بھی یہ بوتل سنگھائی۔ حیرت ہے معدنی و تاریخی شعور رکھنے والے بھٹو نے بھی یہ ڈرامہ کیا؟
ایک تو ہمارے حکمرانوں کو کشکول توڑنے کا بہت شوق ہے۔ بھٹو کے بعد شوکت عزیز نے ایک دن کشکول توڑنے کا اعلان کیا اور میاں صاحب تو دوسری بار کشکول زمین پر دے مارنا چاہ رہے ہیں۔
کیا مذکورہ کشکول توڑنے یا دفن کرنے سے بہتر یہ نہ ہوگا اگر یہ کشکول کسی ایسے مستحق کو دے دیا جائے جس کے پاس کشکول خریدنے کی بھی سکت نہیں؟

Submit "خدا کے لیے کشکول نہ توڑیے گا" to Digg Submit "خدا کے لیے کشکول نہ توڑیے گا" to del.icio.us Submit "خدا کے لیے کشکول نہ توڑیے گا" to StumbleUpon Submit "خدا کے لیے کشکول نہ توڑیے گا" to Google

Comments

  1. johnleon5000's Avatar
    Nation is strongly need to be awake...