View RSS Feed

Realpaki

کپتان کے رن آؤٹ ہونے کا خطرہ

Rate this Entry


ایک بال پر دو وکٹیں گرانے کا دعویٰ کرنے والے کپتان صاحب اس وقت خود ایک عجیب مخمصے کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے تو ان کا ایجنڈہ جس پر وہ اپنے سیاست کی بنیاد ڈال کر عمارت کھڑی کر کے الیکشن جیتنے کا منصوبہ بنا رہے تھے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے ہاتھوں میں چلا گیا ، نہ صرف چلا گیا بلکہ ایک لانگ مارچ اور دھرنے کا کامیاب اہتمام کرکے وہ سیاست میں باقاعدہ فریق بن کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے ہیں اور حکومت وقت کے ساتھ انتخابی اصلاحات پر مذاکرات اور معاہدے کر رہے ہیں۔ گویا سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اصل اپوزیشن کا کردار اس وقت ڈاکٹر طاہرالقادری کر رہے ہیں جو اس وقت عمران خان کی طرح پارلیمنٹ سے باہر کی قوت ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد پہنچی تھی اور ایجنڈے سے مطابقت کے باعث امید رکھتی تھی کہ جلد ہی عمران خان بھی اس لانگ مارچ میں شرکت کا فیصلہ کرینگے یا کم از کم اس کی اخلاقی حمایت کا اعلان ہی کرینگے ۔ اگر خان صاحب اس وقت ایسا کر دیتے تو وہ طاہر القادری کے ساتھ برابری کی سطح پر حکومت سے اپنے مطالبات منوا رہے ہوتے اور قومی سیاست پر اور خصوصاً پنجاب میں ن لیگ کو بیک فٹ پر دھکیل دیتے۔لیکن خان صاحب بروقت کوئی واضح فیصلہ نہ کرپائے اور وہ ایجنڈہ جس پر عمران خان برسوں سے کام کر رہے تھے یکدم تنہا ڈاکٹر طاہر القادری کے ہاتھوں میں چلا گیا ۔ عمران خان نے رائیونڈ میں ن لیگ کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی اور خود کو اس گروہ سے الگ رکھا جو خود کو اپوزیشن گروپ کہلواتا ہے حالانکہ ن لیگ آدھے پاکستان پر حکومت کر رہی ہے۔طاہر القادری کے لانگ مارچ اور دھرنے کو غیر جمہوری اور خلاف آئین کہنے والے اسی گروپ نے اب خوداسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا ہے جس میں پہلے خان صاحب نے شرکت کے لئے ہاں اور بعد میں ناں کردی ہے۔ یوں خان صاحب اس وقت طاہر القادری کے ساتھ ہیں اور نہ ہی اس اپوزیشن ٹولے کے ساتھ ہیں۔ ایجنڈہ پہلے ہی قادری صاحب کے ہاتھوں میں ہے ۔تحریک انصاف کے متوقع ووٹرز کی بہت بڑی تعداد تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اگر وہ طاہر القادری کے ایجنڈے کو سمجھ کر اور بر حق جان کر قیادت کی مرضی کے خلاف لانگ مارچ میں جا سکتے ہیں تو عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ اگر اب قادری صاحب کی جماعت الیکشن میں شرکت کا فیصلہ کر لیتی ہے تو تحریک انصاف الیکشن سے پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ اگرچہ عمران خان طاہرالقادری کے ایجنڈے سے کوئی بڑا اختلاف نہیں کرتے لیکن اندیشہ ہائے تحفظات کے باعث وہ واضح فیصلہ کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں مثلاً ان کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 62 ،63 کے غلط استعمال کا اندیشہ ہے اور یہ انتقامی کاروائی کا سبب بن سکتا ہے۔ اول تو ایسا کہنا خود الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار ہے اور اگر ایساہے تو پھر آزاد عدلیہ بھی تو موجود ہے امیدوار جا کر انصاف حاصل کر سکتا ہے لیکن اس اندیشے کا اظہار کر کے آئین کو اصل روح کے مطابق نافذنہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اگر الیکشن کمیشن آرٹیکل 62 ، 63 پر درست طریقے سے عمل نہیں کرا سکتا تو پھر طاہر القادری کے مطالبے کی مخالفت کیوں؟ لاہور میں حکومتی ٹیم کے ساتھ ڈاکٹر طاہرالقادری کے مذاکرات میں الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے معاملے پر ڈیڈلاک پیدا ہوگیا تھا،اب تازہ خبروں کے مطابق طاہرالقادری نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے قانونی ماہرین اورقریبی رفقا ء سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔ ان کے وکلاء کا پینل درخواست تیارکرکے سپریم کورٹ میں دائرکردے گا۔پہلے بھی سپریم کورٹ نے کئی آئینی مسئلوں کے حل میں اپنا آئینی کردار ادا کیا تھا لہٰذا اس تازہ ترین پیش رفت سے میدان سیاست میں کافی ہلچل مچ سکتی ہے۔ یہ کوچہ سیاست ہے کرکٹ کا میدان نہیں، یہاں پھونک پھونک کر قدم اٹھانا اور بر وقت فیصلہ کرنا ہوتا ہے ۔ یہاں فیلڈنگ کپتان کی مرضی سے سیٹ نہیں ہوتی بلکہ سیاست کے کھلاڑی کو دی ہوئی کنڈیشنز میں بیٹنگ کرنا ہوتی ہے۔ اس طرح کے فیصلے کرنے کا مطلب ایسا ہی ہے جیسے بیٹسمین رن لینے کے لئے کریز سے باہر ہو اور فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ رن لوں یا نہ لوں۔ ایسی صورتحال میں اس کھلاڑی کے رن آؤٹ ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے؟

Submit "کپتان کے رن آؤٹ ہونے کا خطرہ" to Digg Submit "کپتان کے رن آؤٹ ہونے کا خطرہ" to del.icio.us Submit "کپتان کے رن آؤٹ ہونے کا خطرہ" to StumbleUpon Submit "کپتان کے رن آؤٹ ہونے کا خطرہ" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments