کیامیر ا تازہ کالم بے وقت کی راگنی ہے۔
ملک میں خطرناک خبریں گشت کر رہی ہیں ، کراچی میں ایک میراج طیارہ حادثے کا شکار ہو گیاہے اور کراچی ہی کے ایک سابق رہائشی الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کی بریکنگ نیوز چل رہی ہے۔آرمی چیف چین چلے گئے ہیں اور ان کی روانگی سے قبل پنجاب کے وزیر اعلی نے ایک بار پھر ان سے ملاقات کی ہے۔ کوئی یہ راز کھولے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو اضافی طور پر وزیر دفاع یا وزیراعظم کے فرائض کب سونپے گئے۔
یہ ایسے واقعات ہیں جو پاکستان کے لئے سونامی ثابت ہو سکتے ہیں۔عمران خان کا سونامی پہلے ہی ٹھاٹھیںمار رہا ہے اور ان کی طوفانی لہروں پر ڈاکٹرطاہر القادری بھی پھنکار رہے ہیں، چودھری شجاعت بھی سونامی کے بھنور میں اٹکے ہوئے ہیں۔مگر حیرت کی بات ہے کہ حکمران ن لیگ مکمل طور پر مطمئن اور شاد کام ہے

وزیر خزانہ اسحق ڈار اقتصادی سروے پیش کر چکے ، ان کی پیشانی سے کوئی پشیمانی نہیں جھلکتی۔ ان کے بقول ملک میں دس کروڑ شہری خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور فی کس قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ چکا ہے، پھر بھی وزیر خزانہ کے لہجے میں سرور اور مستی کی جھلک نمایاں ہے ۔ یہ کسی معجزے اور نادیدہ ،غیبی طاقت کی پشت پناہی کا اثر ہے۔
بجٹ بھی آ چکا اور جو لوگ بجٹ کی سختیوں کے گرداب سے بچ گئے، میں ان ہی کے لئے تازہ کالم لکھ رہا ہوں۔
صدر کی تقریر ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے، اسے پارلیمنٹ سے مشترکہ خطاب بھی کہا جاتا ہے مگر ملک میںپہلی بار ایسا ہوا کہ یہ خطاب صرف قومی اسمبلی کے ارکان کے سامنے کیا گیا، اس میں سینیٹ موجود نہیں تھی، بس اس کے حکومتی ارکان موجود تھے، پیپلز پارٹی، ق لیگ، اے این پی اور بی این پی عوامی کے ارکان سینیٹ نے صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کیا۔ اس طرح یہ خطاب عملی طور پر پارلیمنٹ کے سامنے نہیں ہوا۔لیکن اس سے صد رکو کیا فرق پڑتا ہے۔
صدر نے تقریر کرنا تھی اور کر دی۔ یہ تقریر معانی اور مطالب کے لحاظ سے ایک عمیق سمندر ہے، اورکوئی مشاق غوطہ خور پاتال سے علم وحکمت کے موتی تلاش کر سکتا ہے۔ویسے تو یہ تقریر اردو میں تھی اور بے حد سلیس زبان میں۔اسے سمجھنے میں کسی مشکل کاسامنا نہیں ہونا چاہئے مگر آپ مجھے بتائیں کہ جب صدر نے یہ کہا کہ میڈیا پرپابندی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔تو کیا وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میڈیا کا کوئی حصہ آئی ایس آئی چیف پر الزام تراشی کے لئے مکمل طور پر آزاد ہے اور اسے مسلح افواج پر دشنام طرازی کا حق حاصل ہے۔ ظاہر ہے صدر مملکت ایسانہیں کہہ سکتے تھے لیکن اگر ان کامطلب یہی تھاتو اس کے لئے گو ل مول زبان استعمال کرنا ان کی مجبوری تھی۔باقی آپ کی مرضی جو بھی مطلب نکالتے رہیں۔
صدر نے ایک پتے کی بات اور بھی کی کہ ریاستی ادارے سیاسی پسند اور نا پسند چھوڑیں، قانون کے مطابق چلیں۔اس فقرے میں گہرا فلسفہ پوشیدہ ہے اور سچی بات یہ ہے کہ میں فلسفے کا کبھی طالب علم نہیں رہا۔ مجھے تو یہ سمجھ آئی ہے کہ اگر کسی ریاستی ادارے کو ن لیگ کی حکومت ناپسند ہے تووہ قانون کی تابعداری کرے اور ناپسند حکومت کی بھی اطاعت اختیار کرے۔اوراگلا سوال یہ ہے کہ کونسا ریاستی ادارہ ہے جو سیاسی پسند اور ناپسند کے تحت چلتا ہے۔ میرا ذہن واقعی کند ہے اور میں اس کا کوئی مطلب سمجھنے سے عاری ہوں۔اگراس فقرے کو تقریر کے ایک اور فقرے سے ملاکر پڑھاجائے تو کچھ کچھ مطلب واضح ہو جاتا ہے۔اور یہ فقرہ یوں ہے کہ شخصیات پر اداروں کو فوقیت دی جائے۔ میں شرارت کے موڈ میںنہیں مگر صدر کو واضح تو کرنا چایئے تھا کہ ان کا اشارہ کس شخصیت کی طرف ہے۔
صدر نے عقلمندی کی ایک بات ا ورکی ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں ،اس لئے ہم نے طالبان سے مذاکرات کا راستہ چنا۔اس سے پتہ چلا کہ مذاکرات کا عمل در اصل صدر کے ذہن رسا کی پیدا وار ہے۔ظاہر ہے وہ حکومت وقت کو کوئی ہدائت کریں گے تواس کی اطاعت لازمی ہے، حکومت نے اس حکم نامے کو بجا لاتے ہوئے ایک امن کمیٹی بنائی ، پھر دوسری امن کمیٹی بنائی، کوئی بات نہ بنی، اب صدر یہ فرما دیں کہ آگے کیا کرنا ہے ، کوئی تیسری کمیٹی بنانی ہے یا یہ کام صدر اپنے ذمے لینا چاہتے ہیں، فاٹا کا علاقہ براہ راست صدر کے ماتحت ہے، اس لئے وہ اپنے ہاتھوں نیکی کما سکتے ہیں۔ اور انہیں یہ نیکی کر گزرنی چاہئے۔اگر ان کا دل چاہے تو کسی وقت اپنی زیر کمان مسلح افواج کی مرضی بھی معلوم کرلیںکیونکہ جمہوریت میں سارے فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں۔
صدر نے جمہوریت کی ایک تعریف خود بھی کی ہے کہ جمہوریت کشیدگی اور محاذا ٓرائی کا نام نہیں۔میرا خیال ہے کہ یہاں ان کے مخاطب عمرا ن خان ہیں جو زور شور سے سونامی برپا کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ایک کے بعد، ایک شہر کی تسخیر ۔حکومت کے پائوں کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے اور صدر چونکہ اسی حکومت کے ممنون ہیں، اس لئے وہ اس کے مفاد پر ضرب لگتے دیکھ نہیں سکتے۔خود وزیر اعظم بھی ہر پبلک جلسے میں یہ سوال پوچھتے ہیں کہ بعض عناصر کو میٹرو ٹرین اور میٹرو بس کے منصوبے کیوںناپسند ہیں، وہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیوںنہیں چاہتے۔
کوئی عوام سے بھی پوچھے کہ انہیں کیا چاہئے، میٹرو بس اور میٹرو ٹرین یا دو وقت کی روٹی، کاشغر تجارتی کوریڈور یا تپ دق کا علاج۔ بھارت سے کھلی تجارت یا بچے کی تعلیم۔کشمیر اور اس کے دریائوں کا پانی یا مادھوری ڈکشٹ کا رقص۔طالبان سے مذاکرات یا تھانیداراور پٹواری کے جبرسے نجات۔آئے روز چیف منسٹر پنجاب کی آرمی چیف سے ملاقاتیں یا لاہور کے قلب میں ایک خاتون کو ہلاکت سے بچانے کے لئے گڈ گورننس۔ان سوالوں کا جواب آپ سب کے علم میں ہے۔ میں اپنی طرف سے کوئی جواب تھوپنا نہیںچاہتا۔
بجٹ آ چکا۔ عوام کو پیسنے میں کوئی کسر باقی رہ گئی تو حکومت کے ہاتھ میں منی بجٹ کا ہتھیار موجود ہے۔سستی روٹی کے نعرے لگانے والوںنے عوام کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھیننے کی کوشش کی۔پھر بھی صدر مملکت ممنون حسین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس حکومت کو سو میں سے سو نمبردے ڈالے۔ حکومت کو شاباش دینے پر شاباش جناب صدر۔
یہ خطاب مدتوں نہیںبھلایا جا سکے گا اور اس کے نت نئے معانی نکالے جاتے رہیں گے، آسان اور زود فہم معانی۔میڈیا آزاد رہے گا، شخصیات پر اداروں کو فوقیت دی جاتی رہے گی۔