آجکل پولیو کے قطرے پیمرا سے بڑی سرخی بن گئی ہے۔ اس کی وضاحت ہم شروع میں ہی کر دیں۔ ابھی تک کسی مقتدر ہستی نے اس بات کی تشریح نہیں کی کہ سفر پر جانے سے پہلے پولیو کے قطرے پینا ہر مسافر کے لئے کیوں ضروری ہے۔ کیا ایک سال کے بچے سے لے کر ایک سو سال کے بزرگ تک یہ عمل ضروری ہے۔ ان مسافروں میں وہ بالغ بھی شامل ہیں جن کو چالیس پچاس سال پہلے باقاعدہ پولیو کا پورا کورس کروایا گیا تھا۔ اگرچہ ان کی مائوں نے سرٹیفکیٹ بنوا کر نہیں سنبھالے تھے کیونکہ ہمارے یہاں 1965ء سے بعض ہسپتالوں میں یہ مہم شروع ہو گئی تھی۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ائر پورٹ پر مسافروں کی قطاریں بن جاتی ہیں اور وہی دھکم پیل شروع ہو جاتی ہے۔ شنید ہے کہ کئی مسافروں کی فلائٹس نکل جاتی ہیں اور وہ بچارے سرٹیفکیٹ کے انتظار میں قطاروں میں لگے رہتے ہیں۔ کیا اس کے لئے کوئی متبادل بندوبست نہیں ہو سکتا کہ مسافر اپنی سہولت کے مطابق ایک دن پہلے اس مقام سے پولیو کے قطرے پی کر سرٹیفکیٹ بآسانی حاصل کر لیں۔ آخر ہم ہر مسئلے کو ناقص ہاتھوں میں دے کر سہولت کو زحمت کیوں بنا دیتے ہیں۔
یکایک پولیو کے قطروں سے ہمیں پیمرا کے حالیہ فیصلے کا خیال آ گیا ہے، پہلے تو بآواز پیمرا کو خود مختار ادارہ بنایا جاتا رہا بعد ازاں کسی مصلحت کے تحت اس میں سے خودی نکال لی گئی اور مختاری کا اذن دے دیا گیا۔ جس مختاری میں خودی نہیں ہوتی اس کے فیصلوں میں منصفی نہیں ہوتی یعنی ؎
ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
بات ایک چینل کی نہیں ہے بات بھیڑ چال کی ہے۔ جب قانون سازی کی جاتی ہے تو صرف ایک مجرم پیش نظر نہیں ہوتا۔ تمام بنی نوع انسان کی فطرت اور جبلت پیش نظر ہوتی ہے۔ قتل کے لئے قصاص بھی ہے اور دیت بھی --- اس کے باوجود ہر قتل کا فیصلہ دیت اور قصاص پر نہیں ہوتا۔ ایک تو جرم وہ ہے جس میں فردِ واحد کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ دوسرا جرم وہ ہے جس میں پوری ملت کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ چند اداروں کا نقصان پوری قوم کا نقصان ہوتا ہے۔ کوئی غلطی ایک دن ہو جائے تو سہواً ہوتی ہے لیکن اگر کوئی غطلی یا قانون شکنی سالوں تک ہوتی رہے، ہزار ہا دنوں تک پھیلائی جاتی رہے تو وہ قصداً ہوتی ہے، اس کے پیچھے جو مقصد ہے اس کو سامنے لایا جائے۔ چینل کے معاملے میں شک کا فائدہ ملزم کو نہیں جاتا۔
ٹی وی پر کوئی صاحب کیا خوب کہہ رہے تھے کہ جیو کے تکبّر اور غرور میں سرمو فرق نہیں آیا۔ تکبّر ہمیشہ دولت کا ہوتا ہے۔ پوری تاریخ شدادوں اور چنگیزوں سے بھری پڑی ہے۔ شداد نے اپنے لئے جو جنت تعمیر کی تھی ابھی ایک پائوں اسکی دہلیز میں رکھا تھا کہ روح قبض ہو گی۔ کس بے وقوفوں کی جنت میں رہتے ہیں یہ لوگ جو غیر ملکی ایجنڈے پر ملک کے اندر کام کرتے نظر آتے ہیں، جو سمجھتے ہیں دولت کے ہاتھ لمبے ہیں اور قانون کی گرفت کوتاہ ہے۔ آج پیمرا کو غیر جانبدار ہو کر فیصلہ کرنا ہو گا کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں بعض پرائیویٹ چینل جیو کے رستے پر چلنے کے لئے پَر تول رہے ہیں۔ آج ساری معافیاں تلافیاں ہو گئیں تو آئندہ زمانوں میں اسے مثال بنا کر کئی اور چینلوں کو بھی چھوٹ دینی پڑے گی۔
سورۃ الاعراف کے رکوع نمبر 33 میں درج ہے بے حیائی ظاہر یا خفیہ گناہ کے زمرے میں آئے گی۔
جن انڈین فلموں کے اشتہار دکھائے جا رہے ہیں ان میں فحاشی کی انتہا ہوتی ہے۔ معصوم لڑکیاں، کمسن بچے، ورکنگ کلاس کے ان پڑھ لڑکے لڑکیاں، دکانوں پر کام کرنے والے دیہاتی لڑکے اور ہزاروں ایسے لوگ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بازار سے فلموں کی وڈیو خرید کر دیکھ لیں گے، تو کتنے دیکھیں گے اور کیسے اہتمام کریں گے جبکہ یہ سب تو کھلے عام سڑکوں پر دکھایا جا رہا ہے۔ ہمارا ایک لباس ہے، آپ اس لباس سے باہر ہونا چاہتے ہیں۔ جب ضیاالحق نے کہا تھا کہ انائونسر سروں پر دوپٹے رکھا کریں، ایک طبقے کو بہت غصہ آیا تھا۔ اب لڑکیوں نے ٹی وی پر دوپٹے اتار دئیے ہیں اور آدھی شلوار پہن رہی ہیں تو گھر بیٹھے طبقے کو غصہ آ رہا ہے۔ ساری فیشن کی ترویج اور زبان و بیان کا ابلاغ ٹیلی ویژن سے ہوتا ہے۔ فیشن کرنا معیوب نہیں مگر عریانی، غلط زبان، غلط بیان کس کھاتے میں جا رہے ہیں۔
اپنی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرنا، اپنے اکابرین کا مذاق اڑانا، حکومتی اداروں کو بدنام کرنا، مشاہیر کی کردار کشی کرنا، قائداعظم اور علامہ اقبال کے لطیفے بنانا، اخلاق باختہ غیر ملکی ڈرامے پیش کرنا، جس میں سگے چچا اور بھتیجی کا عشق چلتا دکھانا، یہ کس معاشرے میں ہوتا ہے۔ اگر ہمارے ملک میں پیسہ لے کر ایسے کام ہوتے ہیں تو بلاشبہ ترکی میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ترک بادشاہوں کی کردار کشی کر کے ڈرامے بناتے ہیں اور بیچتے ہیں۔
کسی زمانے میں پاکستانی ٹی وی پر انگریزی فلمیں دکھائی جاتی تھیں مگر ان فلموں میں بھی ایسی فحاشی نہیں ہوتی تھی جو انڈین فلموں میں آجکل ہوتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں ٹی وی پر بیٹھنے والے ملک توڑنے کی باتیں نہیں کر سکتے۔ ایسی باتیں کرنے کی صرف پاکستان میں ہی اجازت ہے۔ یہی میڈیا اگر چاہتا تو سارے صوبوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر متفق کر سکتا تھا۔ میڈیا پر جو اشتہارات چلتے ہیں خصوصاً موبائل فونوں کے، ان کی بھی سنسر شپ ہونی چاہئے۔ اتنے زیادہ ٹی وی چینلز ہیں اور بجلی کی شدید کمی ہے تو ان کے لئے بھی ٹائمنگ ہونی چاہئے۔
قارئین! گزشتہ ہفتے ہم نے ہمدرد شوریٰ میں ذرائع ابلاغ کی ذمہ داریوں پر ایک مذاکرہ کروایا تھا۔ محولہ بالا تمام آراء ہمارے معزز اراکین کی ہیں جو ہم نے دیانتداری سے آپ کے آگے رکھ دی ہیں۔ یوں سمجھئے یہ سول سوسائٹی کی رائے ہے۔ آخر میں پیمرا سے درخواست ہے کہ وہ تمام چینلز کے لئے پولیو کے قطرے مہیا کرے تاکہ آئندہ کسی کو لڑکھڑانے کی مہلت نہ مل سکے۔