#LoudSpeaker "Altaf Bhai, Altaf Bhai Hain...!" by @AamirLiaquat
SMS: #ALH (space) message & send to 8001
aamirliaquat@janggroup.com.pk
یہ بات بہرحال کسی بھی قسم کے شک و شبے سے بالاتر ہے کہ جناب الطاف حسین کے چاہنے والوں کی تعداد درجنوں،سیکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے اور برطانیہ میں اُن کی گرفتاری کے بعد اُن کے عقیدت مندوں میں جس اضطراب،بے چینی یا تکلیف نے جنم لیا تھاوہ یقیناً فطری تھا اور اِس پر کسی کو آٹھ بجے والی ایک گھنٹے کی دکان لگا کرحیران نہیں ہونا چاہئے تھاایم کیو ایم یا الطاف بھائی کی سیاست اور اِس کے طریقۂ کار سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے (یہ اور بات ہے کہ وہ خود اِس اختلاف کو پسند نہیں فرماتے) مگر اُن کی مقبولیت اور اپنے کارکنوں پر اُن کی گرفت سے انکار کسی طور ممکن نہیں ہےجب سے اُنہیں برطانوی حکام نے اپنی حراست میں لیا ہے تب سے کئی خاموش زبانوں کو زبان ملی ہے اور بعض چینلز پر جَلے کَٹے تبصروں نے لاتعداد مخالفین کے دل میں برسوں سے جلتی آتشِ فارس کو مزید توانائی بھی فراہم کی ہے۔
میں بھی کسی زمانے میں ایم کیو ایم کا حصہ ہوا کرتا تھا بلکہ ایک اہم ترین حصہ تھا،الطاف بھائی کی مہربانی اور ایم کیوایم کے کارکنان کی انتھک محنت کی بدولتNA 249سے منتخب ہوا اور پھر رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے ایمان داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیئے، مشرف صاحب کی نگاہِ ناز مجھ پر جا ٹھہری تو الطاف بھائی کی اجازت سے وزیر مملکت برائے مذہبی امور کے منصب پر بھی فائز ہوااِس دوران میں نے اُنہیں بہت قریب سے دیکھا اور کئی اہم معاملات میں اُن کا شریک کار بھی رہااپنی جماعت اور کارکنان سے اُن کی محبت کو چاہے جو الفاظ دے دیجئے لیکن اُس پیار کا احاطہ مشکل ہے جو اُن کے اور اُن کے کارکنان کے درمیان مدتوں سے قائم ہے اور جس پر کوئی موسم اثر انداز ہی نہیں ہوتایہ ایک عجیب رشتہ ہے جس پر کبھی حالات نے دباؤ ڈالا اور نہ ہی فاصلوں نے دوریاں پیدا کیںگو کہ ایم کیوایم اور اُس کی رابطہ کمیٹی نے میرے ساتھ انتہائی ناروا،غیر اخلاقی اور بغض و عداوت پر مبنی سلوک کو نفرت کا روپ دے کر مجھے بارہا دردسے دو چار کیاکسی کی ترقی سے جلن اور پسندیدگی کی چبھن اکثر انسانوں کی راتوں کی نیند تک چھین لیتی ہے اور پھر ویسے بھی یہ تو ایک اٹل حقیقت ہے کہ آج تک کچھ لوگوں کی انا کبھی فنا ہی نہ ہوسکی اور احساسِ عدم تحفظ نے اُنہیں ہمیشہ اپنی قید میں جکڑے رکھا اُنہیں اندر سے میں کھاتی ہے اور باہر سے یہ دوسروں کو کھاتے ہیںابھی چند ماہ پہلے بھی مفتی محمد نعیم سے میرے ایک اختلاف کی بنا پر ایم کیوایم کی علماء کمیٹی نے پرانے رشتے کا لحاظ کئے بغیر میری ذات کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا اور بڑی دیر تک مختلف چینلز پر نکتہ چینی نشر ہوتی رہی مگر میں ہمیشہ کی طرح خاموش رہا جس کی بنیادی وجہ الطاف بھائی کے ساتھ بِتائے ہوئے وہ یادگار دن تھے جب میں نے اُن سے سوائے محبت کے اور کچھ نہیں پایاہر ایک کی ذاتی زندگی اُتار چڑھاؤ اور مدوجزر کے درمیان ہی ہچکولے کھاتی ہے اور میں ایسے پودنوں کو ہمیشہ ہی چھوٹا سمجھتا ہوں جو کسی کی ذاتی حیات میں گھس کر اپنے حاسدانہ نظریات کے لئے آبِ حیات تلاش کرتے ہیںمجھے الطاف بھائی کی نجی زندگی سے نہ کل کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی آج متجسس ہوںوہ ایک بڑے لیڈر تھے اور اِس گرفتاری کے بعد بھی رہیں گے اِس میں دوسری رائے صرف اُس ہی کی ہو سکتی ہے جو اِس مقام تک پہنچنے سے قاصر اور پیدائشی شاطر ہو۔
اور پھر ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب میرے پاس دو ہی راستے تھےیا تو میں نبی کریم ﷺ کی ناموس و حرمت کو بھلا کر جھنڈے والی گاڑی سے مزید دو برس تک رومانس کرتا رہتا یا پھر روزِ حشر نبی کریم ﷺ کے جھنڈے تلے گناہ گاروں کے درمیان کہیں اپنی جگہ بنا لیتالہٰذا میں نے اُسی راستے کو چنا جس کی جانب عشق نے اِشارہ کیا،عقیدت نے آواز دی اور نجات نے سینے سے لگایا چنانچہ میں نے ختم نبوت اور رُشدی کے معاملے پر ایم کیو ایم کو خیرباد کہہ دیا اور ہمارے راستے جدا ہوگئےبہت سے لوگوں کیلئے یہ ایک حیرت انگیز بات تھی اور آج بھی ہے کہ ایم کیوایم چھوڑنے کے بعد تو کوئی زندہ ہی نہیں رہتا پھر یہ عامر لیاقت صاحب کیسے زندہ ہیں؟ میر ے خیال میں ایسے سوالات کے جوابات اِس لئے دیئے ہی نہیں جاسکتے کہ یہ تو کبھی سوالات تھے ہی نہیں! سوال تو یہ بنتا ہے کہ کیا نبی کی ناموس کی خاطر اقتدار کو ٹھوکر مارنے والا سایۂ عاطفت اور مولا کی حفاظت میں نہیں رہتا؟ اگر اِس کا جواب ہاں ہے جو کہ ہونا بھی چاہئے تو پھر باقی ہر سوال ایک اختراع کے سوا کچھ نہیںمجھے تو کل بھی یقین تھا اور آج بھی ایمان ہے کہ جن کے لئے کچھ چھوڑا جاتا ہے وہ پھر اپنے غلاموں کو تنہا نہیں چھوڑتے!!!خیر یہ ایک الگ بحث ہے اور اِس کا موضوع سے قطعاً تعلق نہیں مگر یہ سب کچھ لکھا اِس لئے کہ آج الطاف بھائی کے لئے احتراماً اور تعظیماً میں اگر چند لفظ لکھ دوں تو کوئی اِسے لّلو چپّو نہ سمجھے اور بس حقیقت کا اِدراک کرےمیرے یا مجھ جیسے دیگر افراد کے اختلافات اپنی جگہ مگر الطاف بھائی کے چاہنے والوں کے دھرنوں سے کسی کو پریشان نہیں ہونا چاہئے تھا،وہ پاکستان کے لیڈر ہیں، برطانیہ کے نہیں لہٰذا اُن کے پیروکار بڑی تعداد میں پاکستان ہی میں نکلتے اور نِکلے کیونکہ یہ اُن کا جمہوری حق ہے قانون کیا فیصلہ کرتا ہے؟ حقائق کس بلا کا روپ دھار کر سامنے آتے ہیں ؟ اور صورتِ حال کِس نہج پر پہنچ سکتی ہے؟ یہ تمام باتیں بعد کی ہیں، پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ایم کیو ایم میں ٹوٹ پھوٹ کی لام قاف مارنے والے ابھی جانتے ہی نہیں ہیں کہ اِس تحریک کی تنظیمی بنیاد کس قدر مضبوط ہے اور اِسے توڑنے کے لئے پلان بھی جب تک الطاف بھائی سے نہیں بنوایا جائے گا یہ جماعت ختم نہیں ہوسکتیتجزیہ نگاروں کو ایک فکر یہ بھی کھائے جارہی ہے کہ ایم کیوایم کے قائد نے کسی Successorیا ولی عہد کا اعلان نہیں کیا اِسی لئے آج قیادت کہیں نظر نہیں آرہیٹھنڈے اسٹوڈیو میں سوٹ پہن کر ،ٹائی لگا کر اور میک اپ کی پفنگ کے بعد کوئی بھی بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے یہ میں بھی جانتا ہوں کیونکہ عرصے سے اِسی دھندے میں ہوںمگر کامیاب اور مقبول اینکر وہی ہوتے ہیں جو سچائی سے منہ موڑنے کے بجائے اُس کا سامنا کرتے ہیں اور سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ ایم کیوایم کو تو شاید کسی متبادل قیادت کی ضرورت ہوسکتی ہے مگر ایم کیوایم سے وابستہ کارکنان کسی متبادل قیادت کو تسلیم کرنے کے لئے کبھی تیار ہی نہیں ہوں گےاُن کے والہانہ تنظیمی نعروں میں سے ایک نعرہ یہ بھی ہے کہ ہم نہ ہوں ہمارے بعد،الطاف الطافاِس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُنہیں آج بھی صرف الطاف حسین ہی چاہئیں اور آنے والے کل بھی وہ کسی ایسے ہی کو چاہیں گے اور مانیں گے جو صرف الطاف ہواور یہ بھی اُسی صورت میں ممکن ہے جب خدانخواستہ الطاف بھائی کی صحت اِس حد تک خراب ہو جائے کہ کسی کو آگے لانے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ بچے اور جس کا فی الحال دُور دُور تک کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ الحمدللہ اُن کے تمام ٹیسٹ تسلی بخش ہیں۔
لہٰذا میرا مشورہ اُن سب ہی کے لئے ہے جو اپنی خواہشوں کو خبر اور خوابوں کو تعبیر بنانا چاہتے ہیں کہ ابھی ابتدا ہے اور احتیاط لازم ہے، کسی کی دل آزاری نامناسب اور بغلیں بجانا غیر اخلاقی ہے، محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر جب کراچی میں سیکڑوں گاڑیاں نذرِ آتش ہوئیں،معمولاتِ زندگی تباہ ہوگئے۔، لوگ پیدل اپنے گھروں کو پہنچے،بینک اور عزتیں تک لُٹ گئیں تو یہ شہر تو کہلاتا ہی الطاف حسین کا ہے
لکھتے ہوئے بُرا لگتا ہے مگر حقیقتاً بہت کچھ جَل سکتا تھا اور کافی کچھ برباد ہوجاتا لیکن ایم کیوایم کی قیادت کی بُردباری، معاملہ فہمی اور قانونی معاملات کو قانونی طریقوں سے نمٹنے کی حکمتِ عملی نے کراچی کو ایک بڑی خونریزی سے محفوظ رکھا برطانیہ نے کیا کرنا ہے یہ برطانیہ ہی جانے مگر مجھے الطاف بھائی سے آخری ملاقات آج بھی یاد ہے جو 2006ء دسمبر میں انتہائی خوش گوار ماحول میں ہوئی تھی، ڈاکٹر عمران فاروق بھی اُس موقع پر موجود تھے، الطاف بھائی مجھے سمجھا رہے تھے کہتم جو باتیں کرتے ہواُس سے تحریک پر اثر پڑتا ہے اور تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے الطاف بھائی بھی یہیں رہتے ہیںجواباً میں نے انتہائی ادب سے صرف اِتنا کہا تھابھائی! گوروں پر بھروسہ نہیں کیجئے جب یہ اپنی گوری ڈیانا کے نہیں ہوسکے تو ہم تو کبھی اِن کے غلام ہوا کرتے تھے اور یہ ہم پر راج فرماتے تھے،پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ ہمارے ہوجائیں!!!!