تاریخ انسانی گواہ ہے کہ مختلف ادوارمیں مذہبی شخصیات، فلاسفر، سائنسدانوں اوراہل قلم ودانش نے مختلف امورپر نت نئے نظریات وخیالات پیش کئے۔ ان افکاروخیالات سے لائبریریاںبھری پڑی ہیں اوراسقدرموادموجودہے کہ بسااوقات بعض افرادکے ذہن میںیہ خیال بھی جنم لینے لگتاہے کہ شائدانسان نے زندگی کے ہرشعبہ سے متعلق ہرسوال کافکری اورنظریاتی جواب تلاش کرلیاہے تاہم یہی انسان کی بھول ہے۔جہاں انسان کے ذہن میں یہ خیال جنم لینے لگتاہے کہ وہ علم کی تکمیل کرچکاہے وہیں سے وہ راستہ بھٹک کر منزل سے دورہٹتاچلاجاتاہے اوربھول بھلیوں کی وادیوں میں کھوجاتاہے کیونکہ علم لامحدودہےعلم کی کوئی حدمقررنہیںہوتی۔ انسان نہیں سوچتاکہ اس وقت وہ جس نتیجے پر پہنچاہے اس کے پیش نظر اسے سوچ وبچار کا عمل سرے سے تر ک کر دینا چاہئے یا اپنی اصلا ح کر کے یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ علم کی تکمیل آخری سانس تک نہیں ہوپاتی ۔
ایک جانب علم ہے جولامحدودہے جبکہ دوسری جانب انسانی طاقت ہے جس کی واضح طورپرایک حدہے۔ لامحدودطاقت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔جوانسان فیصلے کرتے وقت عقل ودانش، بشری کمزوری اورتاریخ انسانی کونظراندازکرکے طاقت یاکسی بھی زعم میں فیصلے کرتے ہیںوہ اپنی دانست میںان فیصلوں کودرست سمجھتے ہیں اوریہ نہیں سوچتے کہ اس کے نتائج آگے چل کرکیا ہوں گے۔جب امریکہ اور اس کے حلیف ممالک نے مشترکہ طو ر پروسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں) (WMD یعنی (Weapons of Mass Destruction) تلاش کرنے کی آڑ میں عراق پر یلغار کرنے کافیصلہ کیاحالانکہ WMD تلا ش کرنے والی پوری دنیاکی ٹیمیں اپنے اپنے ممالک اوربین الاقوامی تھنک ٹینکس کو یہ رپورٹ دے چکی تھیں کہ انہوں نے عراق کا چپہ چپہ چھان مارا ہے لیکن انہیں کوئی وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیار Weapons of Mass Destruction) (سرے سے نظر ہی نہیں آئے ۔ اس کے باوجود امریکہ او راس کے حلیفوںنے جب عراق پر یلغار کا فیصلہ کر ہی لیاتواس پر میں سوچ و بچار میں مبتلا رہنے لگاحتیٰ کہ اس کیفیت میں کچھ دن تحریک کے روز مرہ کے کاموں سے بھی اپنے آپ کو علیحدہ کر کے گھر میںبیٹھ کر اسی بات پر غور وفکر کر تا رہا کہ یہ کیا ہونے جارہا ہے ؟کیوں ہورہاہے ؟ اور جو ہورہا ہے اس کا انجام کار کیا ہوگا ؟پھرمیں ہمت کر کے آفس آیا اور انہی موضوعات پر لیکچراور بحث ومباحثے شروع کر دیئے۔اس دوران میرے منہ سے بے اختیار یہ جملہ نکلا اگر امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو یہ تاریخ میں کی جانے والی بڑی غلطیوں میںسے ایک بہت بڑی غلطی ہوگی ۔کیونکہ سوویت یونین اور امریکہ کی سردجنگ میں سوویت یونین کو شکست دینے کے بعد امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا تھا او رفطرت انسانی کے تحت بے پناہ طاقت، انسان کی مثبت سوچ کی صلاحیت کومفلوج کردیتی ہے اوراسے ایک خیالاتی دنیامیںلے جاتی ہے جس کاحقیقت کی دنیا اوراس کی سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
Absolute power paralyses positive thinking power and leads a person into illusion, illusionary way of thinking and even some time a person comes under hallucinatory condition.
جہاں تک ہماری معلومات او رکامل یقین اورعلم کا تعلق ہے تو تمام تر طاقتوں کا سر چشمہ اللہ کی ذات ہے اور اسی ذات کوہم قادر مطلق absolute power) (مانتے ہیں ۔سپرپاور تو دو یا دوسے زائد ہوسکتی ہیں لیکن میری نظر میںقادرمطلق(absolute power) ایک سے زائد نہیں ہوسکتی ۔میں تحریک کی بنیاد رکھنے کے بعد ابتداء ہی سے مختلف موضوعات پر فکری نشستیں کیا کرتا تھا ۔میں نے سوویت یونین اورامریکہ کی سردجنگ کے دوران خوب اچھی طرح بھانپ لیا تھا کہ اس کا اختتام جنگ پر ہوگا اور اس کے اثرات صرف خطے ہی پرمرتب نہیں ہوں گے بلکہ خطے کے ارد گرد کے علاقے اورپوری دنیا بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیںرہ سکے گی۔ آج میرے تجزیات او رخدشات درست ثابت ہورہے ہیں ۔
اسی طرح جب میں نے عراق او رامریکہ کے درمیان ہونے والی رسہ کشی کاجائز ہ لیا توغوروفکرکے بعد تواتر کے ساتھ انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میںان گنت لیکچر زدیئے جن میں میں نے کھل کر کہا کہ کوئی جواز ملے یا نہ ملے، کوئی ثبوت ملے یا نہ ملے ، امریکہ اوراس کے حلیفوںنے فیصلہ کرلیا ہے کہ عراق پر حملہ کرنا ہے اور صرف حملہ ہی نہیں کرنا بلکہ عراق کی اہم تنصیبات سے لیکر پورے عراق پر قبضہ بھی کرنا ہے ۔ایک ارب سے زائدافرادپرمشتمل ملت اسلامیہ اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے چوٹی کے مفتیان کرام یہ مناظر دیکھ کر اس عمل کو یعنی امریکہ او راس کے حلیفوں کے ناجائز عمل کو دیکھ کرکچھ نہیںکریںگے۔ عرب لیگ اوراوآئی سی یعنی آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز حسب روایت دو چاراجلاسوں کے اسٹیج ڈرامے کرکے خانہ پوری کرے گی۔ سو اس نے ایسا ہی کیا۔
میری فکری نشستوں میں شرکت کرنے والے ساتھیوں کو یاد ہوگا یا ان کے پاس تحریری طور پر رقم ہوگا کہ میں نے یہ بھی نشاندہی کی تھی کہ یہ جنگ دھیر ے دھیرے تمام مسلم ممالک میں پھیلے گی اور وہاں کی حکومتوں کا تختہ الٹا جائے گا جو خاکم بدہن تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔اس حوالے سے الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکے ریکارڈپرمیرے بیانات موجود ہیں۔ اس وقت میرا مذاق اڑانے والوں نے میرا بہت مذاق اڑایا لیکن میں نے ان پر توجہ دینے کے بجائے اپنے کام پر توجہ جاری رکھی ۔آج عراق ،شام ،مصر، لیبیا ، تیونس ،فلسطین،لبنان، اردن، صومالیہ، نائیجیریا،افغانستان اوریمن میںجوصورتحال ہے اور وہاں جس طرح خانہ جنگی ہوئی وہ سب کے سامنے ہے اوراس میں ہمارے لئے بہت سا سبق موجود ہے۔ ان ممالک کی صورتحال نے میرے خدشات کودرست ثابت کیا اور آج مجھے یہ جان کرخوشی ہوئی کہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے عراق میں امریکہ کی جنگ کی غلطی کو ببانگ دہل یہ کہہ کر تسلیم کر لیا کہ عراق جنگ امریکہ کی سنگین غلطی تھی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔
پوری دنیاپر اپناتسلط قائم کرنے کی سوچ کے نتیجہ میں اب تک لاکھوں انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں،لاکھوں دربدراورتباہ وبربادہیں، جگہ جگہ انسانی المیے جنم لے رہے ہیں، دنیاکااربوں کھربوں کانقصان ہوچکاہے لیکن بدقسمتی سے اس تباہی وبربادی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیاگیا اورآج بھی دنیاپر اپناتسلط قائم رکھنے کے لئے جوکچھ کیاجارہاہے اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
اسی طرح جب میں نے پاکستان کے عوام خصوصاًکراچی کے باسیوں کے سامنے ان خدشات کااظہارکیاتھا، ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار کیا تھاکہ آپ سب لوگ ہوش میں آجائیں ورنہ طالبان پورے پاکستان اورکراچی پرقبضہ کرلیںگے تو اس وقت بھی مذاق اڑانے والوں نے اپنی اپنی بیٹھکوں میں میرامذاق اڑایا اور شام کورچنے بسنے والی محفلوں میں میرامذاق اڑایا ۔ میں ان سب باتوں کو سنتا رہا اورطیش اورغصہ میں آنے کے بجائے اپنے پیش کئے ہوئے تجزیوں پر قائم رہا آج وہی لوگ جو میری ان باتوں کامذاق اڑایا کرتے تھے وہ آج میرے ساتھیوں اورمجھ سے پوچھتے ہیں کہ الطاف بھائی اب تو یہ زہرپھیل چکاہے، اب اس سے بچا کیسے جائے؟
دوسری طرف ایک طبقہ طالبان کاحامی وناصر تھا جس نے اپنی جانیں بچانے کیلئے طالبان کی سرکوبی کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا اور طالبان کو پورے ملک میں پھیلنے ، زیادہ سے زیادہ طاقت جمع کرنے، منظم کرنے اورتربیت حاصل کرنے کاموقع فراہم کیاتو اس کا انجام بھی پاکستان کے بچے بچے نے دیکھ لیا ہے۔ پاکستان کے بڑے بڑے سلامتی کے ادارے جہاں پرندہ بھی پرنہیں مارسکتا وہاں طالبان یلغارکرنے میں کامیاب رہے،ملک کامعاشی طورپر اربوںکھربوں کانقصان ہوا، ہزاروںجانوں کازیاں ہوا، ہزارہا پاکستانی زخمی ہوئے، لاچار ہوئے، معذورہوئے، دربدرہوئے۔بالآخراب مسلح افواج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیاہے ، اللہ اسے کامیاب کرے۔کاش آج سے دس سال قبل نہ سہی توآٹھ سال قبل ہی سہی،چھ سال قبل ہی سہی یاکم از کم پانچ سال قبل ہی سہی میری باتوں پر عمل کرلیاجاتاتواتنے برسوں میں ملک کاجوناقابل تلافی نقصان ہواہے ،شائد وہ نہ ہوتا۔ بہرحال دیرآیددرست آیداب اس وقت مسلح افواج جذبہ ایمانی کے تحت بہادرجرنیلوں کی قیادت میں طالبان دہشت گردوں کے خلاف صف آراء ہیں توایک ایک سچے پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ فوج کی مخالفت کرنے کے بجائے آگے بڑھکر زبانی نہیںبلکہ عملی طورپر فوج کا ساتھ دے، پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو،انشاء اللہ، اب طالبان سے بھی پاکستان کوہمیشہ ہمیشہ کیلئے پاک کرایا جاسکتا ہے ۔ یہی وقت ہے ،جوکچھ کرناہے ہمیں ابھی کرناہے ورنہ دیرکردی تو خاکم بدہن پچھتاوے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔