صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں پولیو جیسے مہلک مرض کے خاتمے کے لیے اب علماء اور مذہبی رہنماؤں کی خدمات *اصل کر لی گئی ہیں۔ آج پشاور میں کوئی سات سو علماء اور مختلف مدارس سے وابستہ افراد نے ایک کانفرنس میں کہا ہے کہ اس مرض کے خاتمے کے لیے وہ اب ان علاقوں تک بھی آواز پہنچائیں گے جہاں پہلے رسائی *اصل نہیں تھی۔

یہ کانفرنس یونیسف اور قومی ادارہ برائے ت*قیق اور ترقی کے زیر انتظام منعقد کی گئی جس میں مذہبی رہنماؤں کے علاوہ مختلف دینی مدارس کے طالب علموں نے بھی شرکت کی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں چند ماہ کے دوران پولیو کے تقریباً اکیس مریضوں کی تشخیص ہوچکی ہے جو ماہرین کے مطابق ایک تشویشناک صورت*ال ہے۔ یہ مریض لکی مروت ، نوشہرہ، سوات ، پشاور اور بونیر کے علاوہ خیبر ایجنسی میں خاص طور پر باڑہ کے علاقے سے سامنے آئے ہیں ۔

یونیسف کے ص*ت اور غذا کے شعبے کے سربراہ م*مد سی سے نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں علم ہے کہ پاکستان خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں لوگ علماء اور مذہبی رہنماؤں کی بات سنتے ہیں اس لیے اب ان لوگوں تک رسائی کے لیے علماء اور مذہبی رہنماؤں کی خدمات *اصل کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ جب تک علما اور دینی رہنماء ان کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نہیں چلیں گے تب تک ان علاقوں سے پولیو کو مکمل ختم کرنا بہت مشکل ہوگا۔

م*مد سی سے کے مطابق شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے تمام لوگوں سے بات چیت کی جا رہی ہے اور اس کے لیے نہ صرف علماء بلکہ شدت پسندوں اور پاکستانی فوج سے بھی کہا گیا ہے تاکہ پولیو کے خاتمے کے لیے قائم ٹیموں کو مختلف علاقوں تک رسائی *اصل ہو سکے اور یہ ان کی ایک نئی *کمت عملی ہے۔

قومی ادارہ برائے ت*قیق اور ترقی کے علاقائی سربراہ ت*سین اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے ایسے علاقے تھے جہاں م*کمہ ص*ت کی ٹیمیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے نہیں جا سکتے تھے لیکن اب ان علماء کے تعاون سے ان علاقوں تک رسائی *اصل ہو جائے گی۔

ماضی میں مذہبی رہنما اور بیشتر دیہی علاقوں میں یہ موقف پایا جاتا تھا کہ پولیس سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے نقصان پہنچتا ہے۔ اس کانفرنس میں مذہبی رہنماؤں نے بتایا ہے کہ صورت*ال کافی *د تک واض* ہوچکی ہے۔

مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدال*ق نے کہا ہے کہ اس کانفرنس سے بہت کچھ واض* ہوا ہے اور اب پولیو کے خاتمے میں وہ اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو شبہ ہے کہ یہ قطرے پینے سے کمزوری واقع ہوتی ہے اور کچھ شبہات اب بھی ہیں اس کے لیے انہیں لیبارٹری کی رپورٹ درکار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں رسایی کے لیے علماء کے پاس طریقے ہیں اور اس پر وہ ضرور کوشش کریں گے۔



Source: BBC