وہی معنی خیز مسکراہٹ، وہی بات سے بات بنانے کی عادت، وہی اعتماد میں ڈوبی طراوت، وہی طنز اور مزاح کی لذت، وہی سادگی میں ڈوبی بناوٹ۔ یہ ہیں زرداری صاحب۔ پریس کانفرنس میں یوں آئے جیسے کوئی فاتح سومنات آتا ہے۔ یوں مسکرا کر اہل بزم کو دیکھا....
تیری آرزو سے کم تر تیری تاب سے زیادہ!
الفاظ کا ہیر پھیر، آنکھ بھی شیر، دل بھی دلیر، بھائی کس بات کا سیدھا جواب ملا؟ جواب ہے کس کے پاس، بڑے سے بڑا، اور چھوٹے سے بڑا جو بھی آتا ہے ایک ہی بات دہراتا ہے رویہ نرم رکھیں تشدد سے گریز کریں، مفاہمت سے معاملات طے کریں، سیاسی بصیرت سے کام لیں۔
کیا یہ میاں بیوی کا جھگڑا ہے؟ میاں بیوی کے جھگڑے میں اکثر بیوی کو جھکنا پڑتا ہے۔ بات چیت کے دوران ذرا سا رو کر بچہ ماں کہہ دے تو بیوی پگھل جاتی ہے کمپرو مائز پر آمادہ ہو جاتی ہے۔
یہاں دونوں جانب ماں کا دل نہیں ہے۔
مطالبہ بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ مطالبات کی گردان جاری ہے۔
انبوہ تھکنے کا نام نہیں لے رہا۔ موسم گرج برس کر تھک گیا ہے۔
پارلیمنٹ نے چیخ چیخ کر دنیا کو بتا دیا ہے۔ کہ ہم ایک ہیں ہم نیک ہیں۔ اور پرائم منسٹر کے ساتھ ہیں۔ نہ ہم ڈوبیں گے نہ تم کو ڈوبنے دیں گے۔ پارلیمنٹ کے اندر پہلی بار الاﺅنسز سے زیادہ الفاظ خرچ ہوئے۔
نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات!
مولا کرم کرے تیری ذات!
جھگڑا شروع کہاں سے ہوا اور پہنچا کہاں پر....: سب جانتے ہیں سرا پکڑنے کی کوشش کوئی نہیں کر رہا سارے ہنر مند، سارے مقرر ایک ہی بات کی جگالی کر رہے ہیں۔
سیاسی حل تلاش کر کے لائیں۔
سیاسی حل بھی کوئی باریک ناکے والی سوئی ہے۔ کہ دن دہاڑے بھی ڈھونڈھی نہیں جا رہی۔ اسی لئے تو مسئلہ کشمیر ابھی تک حل نہیں ہوا۔ کہ آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ڈائیلاگ نہیں ہو سکتا 25 اگست کو انڈیا نے پھر ڈائیلاگ کے لئے آنا تھا۔ سنا ہے پھر لیت و لعل میں پڑ گئے ہیں۔ نئی حکومت نئے ڈائیلاگ کا چکمہ دے رہی تھی مگر کارندے وہی پرانے تھے جو ڈائیلاگ میں ماہر ہوتے ہیں۔ تصفیہ کشمیرکے لئے تشریف لاتے ہیں۔ مسکراتے ہوئے ملتے ہیں۔ تصویریں بنواتے ہیں حال احوال پوچھتے ہیں پاکستان کے موسم کا جائزہ لیتے ہیں۔ اسلام آباد کے خوابناک ماحول کی تعریف کرتے ہیں فائیو سٹار ہوٹلوں میں دعوتیں کھاتے ہیں۔ قہقہے لگاتے ہیں۔ شاپنگ کرتے ہیں اور پھر دوبارہ آنے کے لئے لوٹ جاتے ہیں نہ کوئی کشمیری رہنما ان کے درمیان بیٹھتا ہے نہ کسی کو بٹھانے پر رضا مند ہوتے ہیں نہ کوئی ساٹھ سالوں سے درد کی بھٹی میں سلگتے کشمیریوں کا دکھ درد بیان کر سکتا ہے نہ ان کے قصور کی بات کرتا ہے مگر ڈائیلاگ کئی سالوں سے جاری ہے۔ بلکہ ڈائیلاگ دونوں طرف آ اور جا رہے ہیں ابھی ابھی ان کے دفتر خارجہ نے کہہ دیا ہے کہ امریکہ میں کشمیر سے متعلق ڈائیلاگ والی میٹنگ وزرائے خارجہ کے درمیان نہیں ہوگی۔
کوئی پوچھے کیا اس سے پہلے کوئی ڈائیلاگ والی فلم نتیجہ خیز ہوئی ہے؟
سوشل فلموں میں ڈائیلاگ فلم کی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ سیاست میں ڈائیلاگ تعطل کو دور کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔
مگر ڈائیلاگ دونوں طرف سے مان لینے اور منوانے کے ارادے پر بنائے جاتے ہیں۔
اب دھرنے والوں سے ڈائیلاگ کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ دیکھیں کہاں تک پہنچے؟ دونوں دھرنوں نے اپنے مطالبات سڑکوں پر رکھ دیئے ہیں۔ دوسرے ان سڑکوں کو کنٹینرز سے روندنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں بات چلے تو کیونکر؟
پھر دیکھتے دیکھتے ایسا ہن برسا کہ ہوائی لوگ ہوا کا رخ دیکھنے لگے۔ حق میں بات کرنے والے نا حق نا حق کی گردان کرنے لگے۔ سارا ملک الگنی پر لٹک گیا۔ لوگو: اتنا تو سوچو اتنے دن تک اس حبس کی ماری شدید گرمی میں آرام دہ گھروں سے دور سڑکوں اور کنٹینروں میں زندگی بسر کرنا بہت بڑی اذیت ہے چار دن کوئی اپنے کسی عزیز کے گھر چلا جائے تو اپنے گھر کی راحتیں اسے واپس لے آتی ہیں۔ بزرگ، جوان، نوجوان، عورتیں اور بچے ذرا سوچیںکہ یہ کیا جذبہ ہے۔ سو ہزار نقص نکالے جائیں ترانوں اور عورتوں میں، مگر کیا اس طرح سڑکوں پر قیام کوئی آسان اور آرام دہ بات ہے۔
بالآخر تجربے اور مشورے کے لئے جناب آصف علی زرداری سابق صدر کو بلوایا گیا زیرک ہیں۔ معاملہ فہم ہیں سب سے بڑی بات اپنا پانچ سالہ دور کامیابی سے پورا کر گئے ہیں۔
انہوں نے فرمایا ہم کسی فرد واحد کے ساتھ نہیں ہیں۔ الگ الگ کر کے دیکھو تو فرد واحد کئی ہیں اور جھگڑا فرد واحد ہی سے شروع ہو چکا ہے۔ فرد واحد کے ساتھ ہی باقی افراد ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ہوں یا سڑکوں پر ہوں۔
سیاست میں جتنے بھی فرد واحد تھے وہ فرداً فرداً ان سے ملنے گئے اور ان سب کا عندیہ معلوم کیا۔ ہر فرد واحد کا انداز وہی تھا یعنی....
جو نہیں کہیں تو نہیں رہے
کسی التجا پہ بھی ہاں نہ ہو!
پریس کانفرنس میں زرداری صاحب سیدھے سادے سوالات کا جواب گول مول دیتے رہے۔ یہ ان کی سیاسی بصیرت کا ثبوت ہے۔ نمک کسی کا نہیں کھایا کھانا بھی اپنا اپنے ساتھ لائے۔ اور ذائقہ بھی اپنے جوابوں کا اپنے مزاج کے مطابق رکھا۔ کچھ ماضی کی تلخیاں بھی انہیں یاد آئیں، کچھ دوستوں کی دھمکیاں بھی ذہن میں آئیں۔ وقت کے ہاتھ میں سب سے بڑا میزان ہے۔
اور وقت سب سے بڑا عادل ہے، آدمی کو چاہئیے کہ وقت سے ڈر کر رہے ارے نادانو! کیا سوال پر سوال کئے جا رہے ہو کوئی جواب سیدھا آیا؟ سچی بات ہے یہیں تو زرداری صاحب کا وہ جواب سب سے اچھا لگا جو انہوں نے پنجابی زبان میں اخبار نویسوں کو دیا۔ کہ کیا میں صدارت کا امیدوار نہیں ہو سکتا؟ بس یہی ایک حل ہے۔ جو انہوں نے مزاحیہ انداز میں نہایت سادگی سے بتا دیا، آگے غور کرنا آپ کا فرض ہے۔ ہمیں ان کی باتیں سن کر ایک بہت پرانا فلمی گیت یاد آیا ہے....
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
باتیں جو زباں تک آ نہ سکیں
آنکھوں نے کہیں آنکھوں نے سنیں
کچھ مچلے کچھ بے چین ہوئے
کچھ ارماں دل میں رہ بھی گئے