محسوس تو یہی ہوتا ہے کہ ہم کسی جنگل کے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کوئی قاعدہ قانون، دستور، اخلاقیات موجود ہے نہ کسی ریاستی ادارے کے تقدس کی کسی کو پاسداری ہے۔ ہر کوئی اپنی من مانی میں آزاد ہے اور بے سروپا الزام تراشی فیش بنا لی گئی ہے کیونکہ اس پر جوابدی اور سزا کا کوئی خوف ہی برقرار نہیں رہا۔ مجھے عمران خان اور طاہرالقادری کی سیاست سے کوئی بیر نہیں مگر ان دونوں حضرات کی جانب سے گذشتہ دو ہفتے سے جو دھما چوکڑی مچائی جا رہی ہے اس سے پوری قوم کا امن و سکون غارت ہو رہا ہے۔ عقل دنگ ہے اور ذہن ماﺅف ہیں۔ غیریقینی ایسی ہے کہ کسی کو اگلے پل کی بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یا تو ریاست کا کوئی وجود ہی نہیں یا ہر ذمہ دار نے ہر ایک کو ریاست اور ریاستی اتھارٹی کے بخئے ادھیڑنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ یہ سارے کمالات شاید ہمارے ہی معاشرے میں ممکن ہیں کہ یہاں کسی کی پگڑی اور دستار محفوظ ہے، نہ من مانیوں کی پکڑ کرنے والا کوئی قانون اور ادارہ موثر نظر آتا ہے۔ تو کیا ہم اپنی بربادیوں کے گڑھے خود ہی کھودنے میں لگے ہیں۔ اگر یہ بے ہنگم اور بے ہودہ کلچر نئے پاکستان کا نقشہ ہے تو بھائی صاحب جن کے لئے آپ ایسا نیا پاکستان بنانے کی تمنا رکھتے ہیں۔ ان سے پوچھ بھی تو لیں کہ انہیں ایسے پاکستان کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ پاکستان تو دنیا کے نقشہ پر یقیناً وہی ہے ملک خداداد ہے جسے اقبال کے خواب کی تعبیر کرتے ہوئے قائداعظم نے برصغیر کے استحصال زدہ پسماندہ مسلمانوں کی اقتصادی حالت کی بہتری اور ان کی مذہبی آزادی کے لئے تعمیر کیا تھا مگر نئے پاکستان کا جو نقشہ دھرنا قائدین کی زبان و بیان اور مادر آزاد کلچر کے ذریعے گذشتہ بارہ روز سے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے شاہراہ دستور پر راتوں کو رنگین بناتے ہوئے دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے ایسے پاکستان کی نہ پاکستان بنانے والوں کو تمنا تھی نہ ان کی نسلوں کو ضرورت ہے جن کے لئے قیام پاکستان کا تصور اجاگر ہوا تھا۔
میں نے اپنی 38سالہ صحافتی زندگی میں سیاست کے بہت سے رنگ دیکھے ہیں۔ اپوزیشن کی بہت سی تحریکوں کے تخریبی جلوں کا مشاہدہ کیا ہوا ہے اور ایسی تحریکوں کو کچلنے کے لئے حکمرانوں کے ہتھکنڈوں کو دیکھا ہی نہیں، بھگتا بھی ہوا ہے۔ بھٹو کی سول آمریت کے خلاف پی این اے کی 9ستارہ تحریک، جنرل ضیاءکے ننگے مارشل لا میں ایم آر ڈی کی صبر آزما تحریک۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی سول حکمرانی کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد آئی جے آئی کے جلوے، نواز شریف کی پہلی سول حکمرانی کے خلاف پی ڈی اے کی شریفانہ تحریک۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو کی دوسری سول حکمرانی کے خلاف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی کرم فرمائیاں۔ پھر میاں نواز شریف کے دوسرے دور کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک فرنٹ (پی ڈی ایف) اور پاکستان عوامی اتحاد جو ان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد اے آر ڈی (الائنس فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی) میں تبدیل ہوا اور میاں نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) بھی اس اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنی جس نے مشرف کی جرنیلی آمریت کو شریفانہ انداز میں چیلنج کئے رکھا۔ اس دور میں اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر میثاق جمہوریت طے ہوا جس کا پھر اے پی ڈی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر مردہ خراب کیا گیا۔ یہ سب میرے مشاہدات کا حصہ ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری پاکستان عوامی اتحاد اور عمران خان اے پی ڈی ایم کا حصہ بنے تھے جبکہ اس سے پہلے پرتشدد تحریکوں کا خونیں رنگ پی این اے اور ایم آر ڈی کی تحریکوں میں نظر آتا تھا۔ اگر بھٹو کی سول آمریت کے ہتھکنڈے عمران خان اور طاہرالقادری کو بھگتنا پڑتے تو انہیں لگ پتہ جاتا کہ دو دو ہفتوں تک دھرنے دے کر دھماچوکڑی کیسے مچائی جاتی ہے۔ جنرل ضیا کے مارشل میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جس بے جگری کے ساتھ لاٹھی، گولی، کوڑے قلعہ بندی برداشت کی انقلاب مارچ اور آزادی مارچ والوں کے ہے جمالو فیم ورکر اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پی این اے کی تحریک کے دوران میں نے خود بھٹو حکومت کا تشدد اور قید بھگتی اس لئے مجھے بخوبی علم ہے کہ حکومتی ریاستی تشدد کا کیا رنگ ڈھنگ ہوتا ہے۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں جس طرح کارکنوں کو سیدھے گولی کا نشانہ بنایا جاتا تھا، ماڈل ٹان منہاج القرآن کا سانحہ اس کی محض ایک جھلک ہے مگر اب کی بار کا اپوزیشن کا چلن تو نرالا ہی نظر آتا ہے کہ حقیقی پارلیمانی اپوزیشن حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا جوڑے بیٹھی ہے اور عوام کی نمائندگی سے عاری الگ الگ ڈفلی والی اپوزیشن جو ہر قسم کے قاعدے قانون سے بے نیاز اور بے دھڑک ہو کر فسادی سیاست کو پروان چڑھا رہی ہے، تہس نہس کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ عمران خان للکارے مارتے ہیں تو طاہرالقادری چنگھاڑتے نظر آتے ہیں جنہوں نے ہر ادارے اور ہر شخصیت پر بلاثبوت الزام تراشی اپنا شغل بنا رکھا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے سابق چیف جسٹس حضرات اور موجودہ ججوں تک کے بخئے ادھیڑتے ہوئے ذرہ بھی خوف محسوس نہیں کرتے۔ الیکشن کمشن کو تو انہوں نے بے جان کھلونا سمجھ کر توڑنا، مروڑنا، ادھیڑنا شروع کر رکھا ہے۔ وزیراعظم کے منصب کی جانب دید لحاظ والا ان کا کوئی خانہ نظر ہی نہیں آتا۔ وفاقی سیکرٹریوں اور آئی جی پولیس تک کو لتاڑتے ہوئے انہیں ریاستی اتھارٹی کی کسی عملداری کا کوئی خوف بھی محسوس نہیں ہوتا۔ بدمست ہاتھی کی طرح وہ جگالی کرتے، دھاڑیں مارتے ہر کھیت کھلیان کو اپنی دستبرد میں لاتے روندتے چلے جا رہے ہیں۔ ریاست کو اپاہج بنانے والے احکامات صادر فرما رہے ہیں اور ساری حکومتی ریاستی اتھارٹی ان کے سامنے بھیگی بلی بنی بیٹھی نظر آتی ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ جس عمران خان کی زندگی کا بیشتر حصہ مغربی تہذیب میں بسر ہوا ہے اور دنیا بھر میں گھومتے ہوئے جس عمران خان نے تہذیبوں کی شائستگی کا مشاہدہ کیا ہوا ہے تو یہ جنگلی پن ان میں کہاں سے در آیا ہے۔ کیا دھماچوکڑی والا یہ وصف انہیں پیدائشی طور پر ودیعت ہوا ہے یا یہ کسی باتدبیر کی جانب سے انہیں کی گئی مالش کا شاخسانہ ہے۔ علامہ طاہرالقادری تو خیر سے حجروں کی ابتدائی تربیت سے ہی اتنے مشاق ہو گئے ہیں کہ بستہ ب کے چھٹے ہوئے بدمعاش بھی ان سے پناہ مانگ سکتے ہیں۔ کیا محض اس برتے پر کہ یہ دونوں دھرنا باز اپنے ساتھ ورغلا کر لائی گئی خواتین اور بچوں کو ڈھال بنائے بیٹھے ہیں، انہیں جنگل کا معاشرہ بنانے کی کھلی چھوٹ دی جاتی رہے گی۔ گذشتہ روز ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مہذب خاتون نے فون کر کے مجھے جھنجھوڑ دیا۔ یہ خاتون پانچ سال تک برطانیہ میں مقیم رہی ہیں اور وہیں سے پی ایچ ڈی کرکے ملک کی خدمت کے جذبے کے تحت وطن واپس لوٹی ہیں مگر وہ دھرنا بازوں کی سیاست کے چلن سے روہانسی ہو رہی تھیں۔ وہ میڈیا سے بھی اس حوالے سے شاکی ہیں کہ عمران کے دھرنے میں رات کی رنگینیوں میں ورغلا کر لائی گئی بچیوں کے ساتھ جس بداخلاقی کے سرعام نظارے ہو رہے ہیں میڈیا نے دانستہ طور پر اس کی جانب آنکھ بند کر رکھی ہے جبکہ طاہرالقادری منہاج یونیورسٹی میں داخل تمام بچیوں کو ان کے والدین کی مرضی کے بغیر زبردستی اپنے لانگ مارچ اور دھرنے میں لے آئے ہیں جن کے ساتھ وہاں کیا بیت رہی ہے اور اس بیتی ہوئی کی بنیاد پر انہیں مستقبل کی کن کٹھنائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کا اندازہ دھرنا باز لیڈران کو تو نہیں ان بچیوں کے والدین کو ضرور ہے جس کے باعث وہ سر پیٹتے نظر آتے ہیں۔ خاتون کا کرب یہ تھا کہ وہ برطانیہ میں مسلم تہذیب و ثقافت کے طعنے سنا کرتی تھیں جبکہ اسلام آباد کی دھرنا سیاست میں دیس کی بچیوں کے ساتھ سرعام زیادتی کی شکل میں اسی مسلم کلچر کی جو بھد اڑائی جا رہی ہے اس پر مادر پدر آزاد مغربی کلچر بھی شرماتا نظر آتا ہے۔ پھر کیا سب کے ضمیر مر چکے ہیں، سب کی غیرت کی سٹی گم ہو گئی ہے؟ سب نے جنگل کے معاشرے پر صاد کر لیا ہے؟ خدارا کوئی تو ہو جو سیاست کے نام پر پھیلائی جانے والی اس بدتہذیبی کے آگے بند باندھے، کوئی تو ہو جو ہرایک کی پگڑی بلاثبوت اچھالنے کے شتر بے مہار کلچر کو مزید پھیلنے سے روک دے۔ اگر زبان درازی اور دست درازی کا یہ سلسلہ ریاستی اتھارٹی کے زور پر بھی نہ رک سکا تو پھر گلیوں بازاروں تک میں بے حیائی والی قیامت کی نشانیاں ہمارے معاشرے پر صادق ٹھہریں گی۔ کہیں نیا پاکستان قیامت کی ان نشانیوں کو حقیقت بنانے کیلئے تو تشکیل نہیں دیا جا رہا ؟ خدا خیر کرے
اب تو جینا بھی ہوا دشوار الہٰی خیر ہو
کس قیامت کے ہیں یہ آثار الہٰی خیر ہو