وزیر اعظم استعفی دیں ، پارلیمنٹ توڑ یں، قومی یا ٹیکنو کریٹ حکومت بن جائے، یا یہ سب کچھ نہ بھی ہو ، مگر ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ بحران سے کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ میں یہ دعوی اس لئے کر رہا ہوں کہ وزیر اعظم اپنے عہدے پر برقرار رہیں تو اس سے یہ امید نہ رکھیں کہ اس کے بعد ان کے مزاج میں رتی بھر تبدیلی آ جائے گی، اور اگر وہ استعفی دے دیں اور ڈھیر ساری تبدیلیوں کا عمل شروع ہو جائے جن کے نتیجے میں عمران خان تخت نشین ہو جائیں تو وہ نواز شریف سے دو رتی زیادہ ہی آکڑ خاں ثابت ہوں گے ، عمران نہ آسکے، اور قادری اپنا انقلاب لانے میںکامیاب ہو جائے تو سمجھئے کہ نواز اور عمران کی ضد اور ہٹ دھرمی کو جمع کر لیا جائے تو اس کا مظاہرہ اکیلا قادر ی کرے گا۔
کسی نے بچھو کے بچے سے پوچھا کہ کیا تم بھی جوان بچھو کے برابرزہریلے ہو ،اس نے کہا کہ دم پر ہاتھ رکھ کر خود تجربہ کر لو۔
آپ نے الیکشن پوسٹروںمیں عمران کی جتنی تصویریں دیکھی ہوں گی ، ان میں عمران کی نظریں آسمان کی وسعتوں کو چیرتی دکھائی دیتی ہیں۔اسے بولتے دیکھ لیں ، چلتے دیکھ لیں،وہ زمین پر رینگتی ہوئی مخلوق خداکو دیکھنے سے کوئی دلچسپی نہیںلیتا۔جن لوگوںنے اسے بطورکپتان بھگتا ہے ، وہ اس کی رعونت سے اچھی طرح آگاہ ہیں ، جو شخص یہ فقرہ سن کر لطف اٹھاتا ہے کہ بنی گالہ کا محل تو کسی وزیر اعظم کے شایان شان ہے، جو الیکشن مہم پر روانگی کے وقت اپنے بچوں سے یہ کہہ کر رخصت ہوتا ہے کہ اب اگلی ملاقات بطور وزیر اعظم کروں گا۔کسی نے اس کے ضدی مزاج کا منظر نہیں دیکھا تھا تو پچھلے دو ہفتوںمیں وہ الم نشرح ہو کر ہر کسی کے سامنے آ چکا ہے، اس کی ایک ہی رٹ ہے، میںنہ مانوں۔پچھلے ہفتے کے روز حکومت سے اس کے مذاکرات ہوئے، اس میں خصوصی طور پر عبدالحفیظ پیر زادہ کو بلا کر عمران کے فریق نے حکومت کو مطالبات کا ایک مسودہ دیا، طے یہ پایا تھا کہ حکومت اس کا جواب پیر کو دے گی، حکومتی وفد ابھی گھر نہیں پہنچا تھا کہ عمران نے ہجوم کو پیش قدمی کی کال دے دی، قادری نے اس کی پیروی کی اور ساری رات معصوم بچے، بچیاں اور خواتین ربر کی گولیوں اور آنسو گیس کا نشانہ بنتی رہیں، عمران ا ور قادری اپنے کنٹینروںمیں گھس گئے، ایک کی آ ٓنکھیں خراب تھیں، دوسرے کا گلہ اور چھاتی بند ہو گئی۔مذاکرات درمیان میں چھوڑ کر ہجوم کو پولیس کے سامنے کیوں کیا،اس کا جواب شاہ محمود قریشی ایک گھنٹے کی طویل تریں تقریر میں بھی نہیں دے سکے، یہی کچھ ستتر میں بھٹو اور پی این اسے کے مذاکرات کے ساتھ ہوا تھا، کہا جاتا ہے کہ سب کچھ طے ہو گیا مگر درمیان میں کسی نے لنکا ڈھا دی اور معاہدہ تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو گیا، یہاں بھی خوشخبری سنائی جا رہی تھی کہ ملک کا بہت بڑا،عالی دماغ ماہر قانون ایجنڈہ طے کرا رہا ہے، مگر کنٹینروں میں موجود دونوں لیڈروںنے اس ایجنڈے کو ڈائنا مائٹ سے اڑا دیا، ان کا ایک نہیں کئی چہرے ہیں ، منہ میں ایک نہیں کئی زبانیں ہیں ، جیسے ہاتھی کے کھانے کے دانت اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور۔ یہ دونوںلیڈر بھی قوم کو دکھا کچھ رہے تھے اور پلان کچھ بنا رہے تھے۔سجی دکھا کر کھبی مار رہے تھے۔یہ مہارت چودھری برادران کی ہے جو پچھلے کئی دنوں سے غائب ہیں۔ بچوں اور عورتوں کو لہو لہان کروا کر بھی ان کے منصوبے پروان نہیں چڑھ سکے تو یہ قدرت کا کوئی معجزہ ہے۔
عمران اور قادر ی کا مزاج کیا ہے ،کیسا نہیں ہے ، اس سے فی الوقت قوم اور ملک کو بڑا فرق نہیں پڑتا، وہ کبھی اقتدار میں آئیں گے تو ان سے نبٹنے کا کوئی طریقہ نکال ہی لیا جائے گا ، یا ان کے غیظ و غضب کے سامنے عوام ڈھیر ہو جائیں گے، یہ سب بعد کی باتیں ہیں مگر سر دست قوم کے لئے بڑی مصیبت وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے مزاج کی وجہ سے نازل ہوئی ہے۔یہ مزاج شاہانہ ہے، ساری پارلیمنٹ جمہوریت بچانے کے لئے سینہ تانے کھڑی ہے، مگرجمہوریت کہیںہو تو اسے بچایا جائے، یہاں تو رعونت ہے، جس کا تحفظ کیا جارہاہے۔اس رعونت کا شکوہ دو دنوںمیں پارلیمنٹ میں ہر مقرر نے کیا ہے۔ ایک دوست کو اس کی بیگم نے کہا کہ جتنی جلی کٹی وزیر اعظم کو سننا پڑیں ، اس پر انہیں کہنا چاہئے تھا کہ بھاڑ میںجائے آپ کی یہ طعنہ آمیز حمائت، میں اسمبلی توڑ رہا ہوں، استعفی دے کر گھر جا رہا ہوں ۔مگر یہ کہنے کے لئے بہت دلیری چاہئے۔ اعتزاز احسن نے صحیح کہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم آپ کو اپنی حمائت کا یقین دلاتے رہیں اورا ٓپ استعفے دے کر چلتے بنیں، وزیر داخلہ نے ان کی تصحیح کرنے کی کوشش کی مگر یہ تصحیح نہیں تھی ، تصدیق تھی، وزیر اعظم کو صدر اسحق نے گھر بھیجا یا وہ خود گئے،ا س سے کیا فرق پڑتا ہے، حکومت تو وہ چھوڑ کر آ ئے۔ اپنے کہے پر عمل نہ کر سکے۔
وزیر اعظم بہت سی تقریریں سن رہے ہیں، شاید ایک کان سے سنتے ہیں، دوسرے سے نکال دیتے ہیں، انہوںنے ابھی تک اپنے ذاتی رویئے میں ،اپنی گورننس میں ذرہ بھر تبدیلی کا تاثر نہیں دیا۔ لوگ خوش ہوئے تھے کہ چلو وہ پارلیمنٹ میں تو آئے مگر شاہ محمود قریشی کی تقریر کی باری آئی تو وہ ایوان سے چلے گئے، یہ ہے ان کی جمہوریت، یہ ہے تحمل اور بردباری۔وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ وزیر اعظم نے ماڈل ٹائون سانحہ میں وزیر اعلی کی نامزدگی کے باوجود ان سے استعفی نہیں لیا، کسی ممبر پارلیمنٹ نے یہ نہیںکہا کہ وزیر اعلی استعفی نہ دیں سوائے میرے جس نے لکھا کہ میں وزیر اعلی کا استعفی کوریئر سے لے کر پھاڑ دوں گا۔ وزیر اعظم نے تو اپنے چھوٹے بھائی سے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ اپنے بیٹے حمزہ سے صوبہ چلانے کے اختیارات واپس لیں، وزیر اعظم نے اپنی بیٹی کو ایک سو ارب کی قومی امانت کی بندر بانٹ سے بھی الگ کرنے کا اعلان ابھی تک نہیں کیا ، تو پھر ہم کس تبدیلی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔
تبدیلی ان لوگوں کو ضرورمحسوس ہو رہی ہوگی جو پچھلے چند ہفتوںمیں کروڑ پتی ہو گئے، اب تو الٹی گنگا بہہ نکلی ہے ، بجائے اس کے کہ حکومت کی تبدیلی کے لئے کوئی تجاویز دیں، کہا یہ جا رہا ہے کہ آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ کو قبل ا ز وقت غیر فعال کرنے کے لئے ان کی جگہ کوئی نیا جرنیل مقرر کر دیا جائے۔کیا انوکھا مطالبہ ہے کہ جو فریق اس جھگڑے میں دور دور تک نظر نہیں ٓآتا، اس کی تبدیلی کے مطالبے کئے جا رہے ہین، میڈیا کے ایک حصے میں یہ ضرور چھپ رہا ہے کہ جنرل پاشا دھرنے کا اسکرپٹ لکھ رہے ہیں۔ جنرل پاشا اگر یہ کام کر بھی رہے ہیں تو ان کاآئی ا یس آئی سے کیا لینا دینا ، جیسے مشرف کا اب فوج سے کیا لینا دینا ہے۔ پاشا اس وقت متحدہ عرب امارات کے سیکورٹی ایڈوائزر ہیںاور یہ ملک براہ راست امریکی نگرانی میں ہے۔ اور امریکہ کہہ رہاہے کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ کھڑا ہے۔
ہرلڑائی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔اور ان ا صولوں کی پاسداری وہی کر سکتا ہے جو وقت کے ساتھ اپنے ا ٓپ کو تبدیل کر سکتا ہے، جس شخص میں اقتدار یا دولت ملنے کے بعد رعونت آ جائے ، اس نے لڑائی کیا کرنی ہے، وہ تو صرف دیوار سے اپنا سر پھوڑتا ہے۔ سو پھوڑتا رہے، تبدیلی کا خواب چکنا چور کرتا رہے۔