بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کا تصور انتہائی شاندار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مسلمانانِ ہند کے نجات دہندہ کا کردار ادا کرنے کے لئے منتخب کیا۔ ان کی مومنانہ فراست دوراندیشی اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے کی طاقت کے طفیل ہمیں انگریزوں کی غلامی اور ہندوئوں کے امکانی تسلط سے نجات حاصل ہوئی۔ اپنے احسانات کی بدولت وہ آج بھی ہمارے دلوں پر اُسی طرح راج کرتے ہیں جس طرح جدوجہدِ آزادی کے دوران کرتے تھے۔ بے شک! برصغیر کے مسلمانوں کی خوش بختی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قائداعظم جیسا زیرک رہنما عطا فرمایا۔
قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کو حضور پاکؐ کا روحانی فیضان قرار دیا تھا۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریمؐ کے نام پر حاصل کردہ اس مملکت کی ہم نے کتنی قدر کی۔ قائداعظم کی اس میراث کا کتنا تحفظ کیا۔ انصاف کی نظر سے دیکھیں تو ہمارا دامن مجرمانہ غفلتوں اور کوتاہیوں سے بھرا پڑا ہے۔ بانیٔ پاکستان نے برصغیر کے مختلف علاقوں میں ایک ہجوم کی مانند موجود مسلمانوں کو ایک قوم کی صورت مجتمع کردیا تھا۔ انہیں اپنے لئے ایک الگ مملکت حاصل کرنے کا اعلیٰ و ارفع مقصد عطا کیا تھا اور اسے حاصل کرنے کی خاطر ایک واضح راہ کا تعین کیا تھا۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت میں ہم دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت قائم کرنے کی جدوجہد میں تو سرخرو ہوگئے تاہم ان کے داعیٔ اجل کو لبیک کہتے ہی ہم نے خود کو پھر سے صوبائی لسانی مسلکی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرلیا۔ آج ان تعصبات اور کدورتوں نے ہمارے قومی وجود پر ناسور کی شکل اختیار کرلی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کو ہم سے بچھڑے 66برس بیت چکے۔ اس دوران اپنوں کی کوتاہیوں اور دشمنوں کی چیرہ دستیوں کے باعث پاکستان دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ہونے کے شرف سے محروم ہوگیا۔ ایک کی بجائے دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ اسلام دشمن قوتیں اب باقی ماندہ پاکستان کی وحدت اور سلامتی کے درپے ہیں۔ اندریں حالات پاکستانی قوم کی کیفیت پُل صراط پر کھڑے اس شخص کی مانند ہے جس کی ذرا سی گھبراہٹ اور لڑکھڑاہٹ اسے ناقابل تصور مصائب سے دوچار کرسکتی ہے۔ اسے ایک طرف تاریخ کے بدترین سیلاب کی قہرسامانیوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف دہشت گردی اور بے امنی کے عفریت اپنی خوں آشامیوں کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عوام اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت بابائے قوم کے قول مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا کو وظیفۂ حیات بنالے۔ یوں بھی تلخیٔ دوراں سے گھبرانا مسلمانوںکے شایانِ شان نہیں ہے۔ اس امر کی باز گشت نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں قائداعظم کی 66ویں برسی پر منعقدہ خصوصی نشست میں بھی سنائی دی۔ نشست کی صدارت تحریک پاکستان کے نامور کارکن سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ نے کی۔ اس موقع پر تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین کرنل(ر)ڈاکٹر جمشید احمد ترین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے صدر محترم مجیب الرحمن شامی جسٹس(ر)آفتاب فرخ بیگم مہناز رفیع پروفیسر ڈاکٹر پروین خان میجر جنرل(ر)راحت لطیف کرنل(ر)اکرام اللہ خان علامہ احمد علی قصوری بیگم بشریٰ رحمن مولانا محمد شفیع جوش اور پروفیسر مسرت کلانچوی بھی موجود تھے۔ نشست کے آغاز سے قبل قائداعظم محمد علی جناح کی روح کے ایصال ثواب کے لئے محفل قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔
محترم محمد رفیق تارڑ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ قائداعظم کبھی کسی مقتدر شخصیت سے مرعوب نہ ہوتے تھے۔ اپنے کرّوفر کے لئے مشہور انگریز وائسرائوں سے بھی ہمیشہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ اُنہوں نے کہا کہ یک جہتی ایثار اور قربانی کے اوصاف تحریک پاکستان کا طرۂ امتیاز تھے مگر آج کل یہ مفقود ہوتے جارہے ہیں۔ نشست میں موجود طلبا و طالبات کی کثیر تعداد کو مخاطب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہماری اُمیدیں اب آپ سے وابستہ ہیں۔ آپ حصولِ علم کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ آپ کے اسلاف نے علم کی طاقت سے ہی دنیا پر حکمرانی کی تھی۔ محترم مجیب الرحمن شامی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ قائداعظم کی پہلی برسی ہے جس میں ہم جناب ڈاکٹر مجید نظامی کے بغیر شریک ہیں۔ وہ صحیح معنوں میں قائداعظم کے جانثار سپاہی تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم بالخصوص نسل نو کو قائداعظم کی حیات و خدمات کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ ان کے نقش قدم پر چلنے کے لئے ان کی سوچ اور کردار سے آگہی ضروری ہے۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے بخوبی نبھائے۔