برادرم احسان اللہ وقاص نے یہ انکشاف کر کے میرے ذہن کو گڈمڈا دیا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھی سیلاب کی تباہ کاریوں نے حشر ڈھایا ہوا ہے جہاں اب تک پانچ سو کے قریب انسانی جانیں سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر ضائع ہو چکی ہیں اور ان کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی ان نعشوں کو درختوں کے ساتھ باندھ دیا ہے تاکہ انہیں سیلابی ریلوں کے ساتھ بہہ جانے سے بچایا اور سیلاب تھمنے کے بعد دفنایا جا سکے۔ ہمیں سیلاب کی تباہ کاریوں میں اس لئے بھارت کا ہاتھ ملوث نظر آتا ہے کہ وہ مون سون کی بارشوں سے سیلاب کی شکل اختیار کرنے والا سارا پانی ہماری جانب چھوڑ دیتا ہے نتیجتاً ہمارے علاقوں میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور پھر ہماری بدنظمی کے باعث قیامت بن کر ٹوٹنے والے یہ سیلابی ریلے انسانوں، ڈھور ڈنگر، چرند پرند اور فصلوں سمیت سب کچھ بہا کر لے جاتے ہیں چنانچہ ہمارے ہاں سیلاب سے جانی اور مالی نقصان کسی شمار قطار میں نہیں رہتا۔ گذشتہ روز ملتان شہر میں ریسکیو ٹیم کی ایک کشتی پانی کے تیز بہائو کے باعث اُلٹنے سے دُلہا سمیت 17 باراتی اور ایک نائب صوبیدار شہید ہوا تو اس سانحہ پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔ الخدمت فائونڈیشن کے احسان اللہ وقاص اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر نعیم صاحب کالم نگاروں اور اینکر خواتین و حضرات کے ساتھ ایک نشست میں ملک پر نازل شدہ المیوں کا ہمہ پہلو جائز لے رہے تھے۔ الخدمت فائونڈیشن کے سرپرست سابق ضلع ناظم کراچی نعمت اللہ صاحب کی علالت کے باعث عدم موجودگی پر آئی ڈی پیز اور سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کے لئے الخدمت فائونڈیشن کی اب تک کی خدمات سے آگاہ کرنے کا فریضہ فائونڈیشن کے نائب صدر احسان اللہ وقاص نے سرانجام دیا جبکہ نعیم الرحمان صاحب ملکی اور قومی حالات و معاملات کا ہمہ پہلو جائزہ لیتے رہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی سیلاب کی تباہ کاریوں کا تذکرہ ہوا تو بھارت کے ساتھ پانی کے تنازعہ پر ہمیں اپنا کیس کمزور پڑتا محسوس ہوا۔ یہ حقیقت تو اپنی جگہ درست ہے کہ سیلاب کے وقت بھارت دریائے جہلم (نیلم) اور دریائے چناب کو اُچھلنے سے روکنے کے لئے ان کا سارا فالتو پانی ہماری جانب چھوڑ دیتا ہے جس کے لئے کبھی وہ ہمیں پیشگی اطلاع دے دیتا ہے اور کبھی اس کی بھی زحمت نہیں کرتا جیسے اب کی بار اس نے کیا ہے، باقی تباہ کاریوں کا اہتمام ہم اپنی بے تدبیریوں سے خود کر لیتے ہیں جو گذشتہ چھ دہائیوں سے ہم جاری رکھے ہوئے ہیں کہ کسی بڑے ڈیم کی تعمیر کے لئے قومی احساس کا کوندا تک مفادات کے اسیر ہمارے سیاستدانوں کے دلوں میں کبھی لپکتا ہی نہیں۔ بھارت نے ہمارے کوتاہ قامت انہی سیاسی قائدین کی مفاد پرستیوں سے فائدہ اٹھایا اور سندھ طاس معاہدے کے ہمارے حصے کے فوائد بھی اپنے آنگن میں بھر لئے، ہم مقررہ میعاد کے اندر کسی بھی دریا پر کوئی ڈیم تعمیر نہ کر سکے تو بھارت نے اپنے تمام دریائوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کر کے ان پر ڈیمز کے انبار لگا لئے، چنانچہ وہ ہمارے جیسے توانائی کے بحران سے بھی بچ گیا اور اب سیلاب کے طوفانی ریلے بھی ان ڈیمز کو بھر کر اپنا جوش ٹھنڈا کر لیتے ہیں، مقبوضہ کشمیر چونکہ ان دریائوں کے پاٹ میں موجود ہے اس لئے دریائوں کا پانی کناروں سے باہر اُچھلتا ہوا اس مقبوضہ وادی کا حشر نشر کر دیتا ہے مگر یہ ساری تباہ کاریاں اس ایک علاقے تک ہی محدود رہتی ہیں،باقی سارا بھارت ڈیمز کی وجہ سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے برعکس ہماری جانب سیلابی ریلے بڑھتے ہیں تو ڈھلوان ہونے کے باعث بھی اور پھر اپنے آگے کوئی رکاوٹ نہ پا کر بھی سیلابی ریلا حشر اُٹھاتا شمالی، وسطی اور جنوبی پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لیتا سندھ کی ٹیل تک اپنی تباہ کاریوں کی نشانیاں چھوڑ جاتا ہے۔ 2010ء کا سیلاب تو ملک گیر تھا جس نے خیبر پی کے اور بلوچستان کو بھی ڈبو دیا تھا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ ایک تو ہمارے ’’باتدبیروں‘‘ کی کرم فرمائیوں نے سیلابی ریلوں کے بلا روک ٹوک انتہا کر دینے کا خود ہی بندوبست کر رکھا ہے پھر بدنظمی ایسی ہے کہ وافر امدادی سامان اور عطیات موجود ہونے کے باوجود ان کی ’’حق بحقدار رسید‘‘ کے تصور کے تحت مناسب تقسیم ہی نہیں ہو پاتی، چنانچہ کچھ متاثرین مالا مال ہو جاتے ہیں اور بیشتر متاثرین امداد کے انتظار میں ہفتے ہفتے فاقہ کشی اور جان لیوا بیماریوں میں گزار دیتے ہیں۔ احسان اللہ وقاص اسی بات کا رونا رو رہے تھے اور برطانیہ کی مثال پیش کر رہے تھے کہ وہاں ایسی کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مینجمنٹ کا ایک مرکزی ادارہ بنایا گیا ہے جو امدادی کاموں کے لئے کام کرنے والی این جی اوز اور فلاحی تنظیموں کی رجسٹریشن کر کے انہیں گائیڈ کرتا ہے کہ کس نے کس علاقے میں کیا امدادی کام کرنا ہے چنانچہ ہر شخص کی مطلوبہ معاونت وقت پر ہی ہوتی رہتی ہے، ہمارے ہاں کہنے کو تو ’’ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل‘‘ کے نام سے ایک ادارہ وفاقی سطح پر موجود ہے مگر کسی صوبے میں اس کا وجود تک نہیں اور پھر امدادی سامان کی ترسیل و تقسیم کے معاملہ میں بدنظمی اور ہیر پھیر کی جتنی داستانیں اس ادارے کے ساتھ منسوب ہیں اس کے باعث یہ ادارہ اپنی اہمیت و افادیت کے علاوہ اپنا اعتماد بھی کھو چکا ہے۔ وقاص صاحب کا بھی یہی تجسّس تھا کہ ہم ایسا کوئی بااعتماد مرکزی ادارہ کیوں قائم نہیں کر سکتے جو سیلاب یا زلزلے کے موقع پر امدادی کاموں کے لئے آنے والی تمام این جی اوز اور فلاحی تنظیموں کی باقاعدہ رجسٹریشن کر کے انہیں امدادی کاموں کی گائیڈ لائن دے اور پھر ان امدادی کاموں کی نگرانی کرے۔ وقاص صاحب نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کے معاملہ میں الخدمت فائونڈیشن کے علاوہ جماعت الدعوۃ کی فلاحی تنظیم کی خدمات کا بھی اعتراف کیا اور فوجی بھائیوں کی خدمات کو بھی سراہا اور پھر سیلاب سے متاثرہ وسطی اور جنوبی پنجاب کے تمام علاقوں کی تفصیل بتاتے ہوئے سیلاب زدگان کو درپیش مصائب کا بھی دردِ دل کے ساتھ تذکرہ کیا۔ ان کی رائے میں اس وقت سیلاب زدگان کو سب سے زیادہ ضرورت حفاظتی کشتیوں، خیموں، پہننے والے کپڑوں اور تیار شدہ کھانے کی ہے۔ ان کے بقول انتظامیہ کی جانب سے فوٹو سیشن کے لئے مختص کئے گئے سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ نہ کچھ امدادی سامان پہنچا دیا جاتا ہے مگر بیشتر علاقے ایسے ہیں جہاں کوئی ذی روح امدادی سامان کا ایک قطرہ بھی لے کر نہیں پہنچ پایا، چنانچہ ان علاقوں میں سیلاب زدگان کی بے چارگی اور کسمپرسی بدترین انسانی آلام میں ڈھل رہی ہے جن کے بچے اور لاغر بزرگ بھوک پیاس سے مر رہے ہیں اور پھر موسم کی ناہمواری انہیں سنگین جسمانی عارضوں میں مبتلا کر رہی ہے نتیجتاً اموات بھی بڑھ رہی ہیں اور زندوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں، چونکہ امدادی کاموں کے لئے آنے والی تنظیموں کو ان علاقوں کی خبر ہی نہیں ہو پاتی اس لئے وہ بھی محض فوٹو سیشن والے علاقوں میں کارروائیاں ڈال کر واپس چلی جاتی ہیں۔ الخدمت فائونڈیشن نے حکومتی اور انتظامی مشینری کی اس بے تدبیری پر کف افسوس ملتے اب خود مرکزی سطح کا ایک ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل قائم کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اگر ریاست و حکومت کی ذمہ داریوں کے متقاضی ایسے کام نجی اداروں نے ہی سنبھالنا شروع کر دئیے تو پھر حکومتوں کے کرنے کا کیا کام باقی رہ جائے گا، یہ صورت حال تو حکمرانوں کے لئے باضابطہ طور پر لمحہ فکریہ ہونی چاہئے کہ ان کی بے تدبیریاں ان کے حق حکمرانی کو ہی کہیں دوسری جانب منتقل نہ کر دیں۔ مجھے مجیب الرحمان شامی صاحب کی یہ تجویز بھی بہت بھائی کہ اگر ہر گھر صرف آٹھ ’’مِسّی روٹیاں‘‘ یا قیمے اور آلو والے آٹھ نان سیلاب زدگان کے لئے تیار کر لے تو سیلاب زدگان کا خوراک کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے بشرطیکہ یہ روٹیاں جمع اور سیلاب زدہ علاقے تک پہنچانے کے لئے مرکزی حیثیت والا ایک ادارہ موجود ہو۔ قدرتی آفات بلاشبہ قوموں کے لئے آزمائش ہوتی ہیں جن سے عہدہ برآ ہو کر ہی کوئی قوم اپنے زندہ رہنے کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے نہ دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کی، فتور اور قصور صرف نیت کا ہے، ہم سب اپنا فائدہ سوچتے ہیں تو کبھی ملک اور اس میں بسنے والی مخلوقِ خدا کے فائدے کا بھی سوچ لیں، ہمیں کسی کا دست نگر ہونے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔