بعض حکومتی حلقے اور تجزیہ کار ڈی چوک کے دھرنوں اور ان سے پیدا ہونے والے کشیدہ سیاسی ماحول کے ڈانڈے (آئی ایس آئی) کے موجودہ سربراہ اور بعض سینئر فوجی افسروں سے ملاتے رہے ہیں۔ ان حلقوں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جب وہ سینئر فوجی آفیسر اور آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ ریٹائر ہو جائیں گے جو موجودہ حالات کے ذمہ دار ہیں تو دھرنے دینے والے بوریا بستر لپیٹ کر گھروں کو چلے جائیں گے اور حالات معمول پر آجائیں گے۔ پیر کے روز ان فوجی افسران کی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے جن کو بعض سیاسی حلقے اور تجزیہ کار موجودہ سیاسی بحران کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے۔ تحریک انصاف کے راہنما عمران خان نے پیر کی رات جمعہ کے روز لاہور میں جلسہ عام کرنے کا اعلان کیا ہے اتوار کے روز انہوں نے کراچی میں ایک بڑے جلسہ سے خطاب کیا۔ خان صاحب اعلان کر رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم کا استعفٰی آنے تک اپنی تحریک ختم نہیں کریں گے۔ علامہ طاہر القادری نے پیر کی رات اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انقلاب کی لہر کو پانچ دنوں میں طوفان بنانے کا فیصلہ کریں گے ۔ عمران خان اور طاہر القادری دونوں اپنی اپنی تحریک کو جاری رکھنے کا اعلان کر رہے ہیں جبکہ ان کے مخالفین کا خیال ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کا کھیل اب ختم ہو گیا ہے حکومت بھی اب اعصابی دباؤ سے نکلتی محسوس ہو رہی ہے۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) جسے ماضی میں اس کی حریف جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے مقابلے میں فوج کی حمایت حاصل رہی ہے جب اقتدار میں آتی ہے فوج کے ساتھ اس کی کھٹ پٹ شروع ہو جاتی ہے ۔ اگست 1990 ء میں جب بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے ڈس مس کیا اور اسمبلیوں کو تحلیل کیا تو پاکستان مسلم لیگ (ن) 1990 کے انتخابات میں کامیاب ہوئی نوازشریف وزیراعظم بنے لیکن کچھ عرصہ بعد وزیراعظم اور فوج کے سربراہ کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو گیا ۔ یہ بگاڑ 1990 کی خلیج کی جنگ میں پاکستان کی فوج بھیجنے کے معاملے پر شروع ہوا اور اس کے بعد یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے صدر غلام اسحاق خان سے درخواست کرکے نئے چیف آف آرمی سٹاف کی نامزدگی کا اعلان کرا دیا۔ جنرل آصف نواز جنجوعہ جنرل اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے کئی ہفتے پہلے فوج کے نئے چیف آف آرمی سٹاف نامزد ہو گئے تھے۔ اس نامزدگی کا مقصد جنرل اسلم بیگ کے پر کاٹنا تھا جب نئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف نواز نے اپنا منصب سنبھالا تو ان کے بھی وزیراعظم کے ساتھ تعلقات نارمل نہ رہ سکے۔ جنرل آصف نواز کی 1992 میں اچانک وفات سے پہلے فوج کی طرف سے کراچی اور اندرون سندھ میں آپریشن پر نوازشریف حکومت اور فوجی قیادت میں غلط فہمی انتہا پر پہنچ گئی تھی۔ عام خیال یہ تھا کہ جنرل آصف نواز کی اچانک موت نہ ہوتی تو وہ ملک میں مارشل لاء لگانے کی تیاری کر چکے تھے۔ جنرل آصف نواز کے بعد جب صدر غلام اسحاق خان نے جنرل وحید کاکڑ کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا تو وزیراعظم نوازشریف کی جنرل وحید کاکڑ سے بھی اَن بن ہو گئی۔ جنرل کاکڑ نے 1992ء کے آخر میں شروع ہونے والے بحران کے خاتمے کے لئے صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نوازشریف دونوں سے استعفیٰ لے لیا اور نئے انتخابات کا اعلان ہوا۔
نوے کی دہائی میں نوازشریف اور بینظیر دونوں کی حکومتوں سے فوجی قیادت شاکی ر ہی لیکن اب اکیسویں صدی میں حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ 2008ء کے بعد فوج نے اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے کئی ایسے مواقع پیدا کئے جب فوج کے لئے ٹیک اوور بڑا آسان تھا لیکن فوج نے ایسا نہیں کیا۔ فوج اب بھی اسی پالیسی کو فالو کر رہی ہے۔ عمران خان کے آزادی مارچ اور علامہ قادری کے انقلاب مارچ کو حکومت اور اپوزیشن دونوں نے انجیئرڈ قرار دیا۔ وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ملاقاتوں کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے رہنماؤں نے اس تاثر کو تقویت دی کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دیئے جانے والے دھرنوں کے پیچھے جمہوریت کا بوریا بستر گول کر کے اقتدار غیر منتخب عناصر کے حوالے کرنے کے منصوبے کے مصنفین کا تعلق اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر سے ہے۔ جن عناصر کی طرف اشار کیا جا رہا تھا وہ بھی اب گھر چلے جائیں گے۔ اب تو حالات معمول پر آجانا چاہئیں۔ لیکن اس بات کی کیا گارنٹی ہے حالات نارمل ہوں گے حالات کو نارمل بنانے کے لئے حکومت کو اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لے کر اصلاح کرنا ہو گی اور اپنی طرز حکمرانی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ موجودہ سیاسی بحران کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں الیکشن کمیشن اور کئی اداروںکو اپنی اصلاح کرنے کا موقع مل گیا ہے اس موقع سے فائدہ اٹھانا سب کے مفاد میں ہے۔