پاکستانی سیاست میں پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی نےگو بابا گو کا نعرہ اس وقت متعارف کرایا جب اس وقت کے صدر غلام اسحق خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لئے آئے پھر یہ نعرہ مختلف ادوار میں حکمرانوں کے ناموں کی مناسبت سے لگتا رہا گذشتہ دور حکومت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) گو زرداری گو کے نعرے لگاتی رہی لیکن جب آصف علی زرداری کے دور صدارت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہو ئی تو مسلم لیگ(ن)نہ صرف یہ نعرہ ہی بھول گئی بلکہ آصف علی زرداری کی صدارت کے بقیہ 8ماہ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ باہم شیرو شکرہو گئیں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آصف علی زرداری کو باعزت طریقے سے ایوان صدر سے رخصت کر کے اچھی مثال قائم کی جب اگست2014ء کو پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک اپنے سیاسی لشکر کے ساتھ دارالحکومت اسلام آباد پر حملہ آور ہوئیں تو نعرے کی نوعیت ہی تبدیل ہو گئی عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے عوام کو گو نواز گو کا نیا نعرہ دیا ممکن ہے اس نوعیت کے نعرے میں نواز شریف مخالف عناصر کے لئے کوئی کشش ہو لیکن عام آدمی کو اس نعرے سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں اس نعرے کو نواز شریف مخالف انجوائے توکر رہے ہیں لیکن یہ نعرہ مقبول عام نہیں ہو سکا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے14ماہ میں تمام تر کمزوریوں کے باوجود وزیراعظم محمدنوازشریف مقبولیت کی نچلی سطح پر نہیں پہنچے کہ ان کے خلاف پنجاب کے میدانوں میں گو نوا زگو کے نعرے کو قبولیت حاصل ہو کیونکہ اس وقت بھی نواز شریف ملک کے مقبول ترین سیاست دان ہیں۔ عمران خان کے جلسوں میں سکرپٹ کے مطابق گو نواز گو نعرے لگوائے جاتے ہیں جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری ترنم سے یہ نعرہ لگوا کر اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں وزیر اعظم محمد نواز شریف لندن اور نیویارک گئے تو وہاں بھی اس نعرے نے ان کا تعاقب کیا اسی طرح جب وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سیلاب زدگان کی داد رسی کے لئے کسی علاقے میں گئے تو وہاں کرائے کے نعرہ بازوں کی خدمات مستعار لی گئیں اگر کسی جگہ پرکوئی نعرہ نہ بھی لگا تو مخصوص ٹی وی چینلوں نے فرمائشی پروگرام کے تحت نعرے لگوا دئیے اس صورت حال نے یقیناًدونوں بھائیوں کو زچ کر دیا ہے لیکن نواز شریف اس قدرغیر مقبول ہوئے ہیں کہ اب ان کے لئے باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے اور نہ ہی ان کے سیاسی مخالفین اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ نواز شریف کوئی جلسہ بھی نہ کر سکیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو جوابی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے رائے ونڈ میں عید الاضحیٰ کی نماز کی ادائیگی کے بعد وزیر اعظم محمد نواز شریف کی موجودگی میںکارکنوں نے گو عمران گو کے نعرے لگانا شروع کئے تو وزیر اعظم نے انہیں نعرے لگوانے سے روک دیا اس کے باوجود مشتعل کارکن کبھی نواز شریف و شہباز شریف کے جلسوں اور کبھی مخدوم جاوید ہاشمی کی انتخابی مہم میں گو عمران گو کے نعرے لگانے سے بازنہیں آتے خواجہ سعد رفیق نے عمرا ن کی سیاسی ناکامیوں پررو عمران رو کا نعرہ ایجاد کر لیا ہے سر دست حکومت نے عمران خان اور ڈاکٹرطاہر القادری کے جلسہ جلسہ کھیل اور عمران خاں و ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف نعرے بازی کا جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے حکومت یہ سمجھتی ہے کہ حکومت کی طرف سے برداشت کا مظاہرہ کرنے سے سیاسی ٹمپریچر میں کمی آئے گی وزیر اعظم محمد نواز شریف پچھلے دو ماہ سے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی شعلہ بیانی کا جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں شاہراہ دستور پر بلوائیوں کا قبضہ ایک گھنٹے کے اندر ختم کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود طاقت کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی پچھلے دنوں میں نے ان سے سیلاب سے متاثرہ علاقے کے دورے کے دوران استفسار کیا کہ دھرنے والوں کو کس طرح اٹھائیں گے تو انہوں نے کہا کہ جب انہوںنے ریڈز ون کی طرف پیش قدمی کی تو اس وقت طاقت استعمال نہیں کی اب مٹھی بھر لوگ رہ گئے ہیں خود ہی تھک ہار کر چلے جائیں گے اس بات کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف میںکس حد تک برداشت پائی جاتی ہے؟ عمران خان ،نواز شریف کے بعد ملک کے دوسرے مقبول لیڈر ہیں نوجوان نسل کی اکثریت ان کی طرف متوجہ ہوئی ہے لیکن انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں جو لب ولہجہ اختیار کیا ہے وہ ان کے شایان شان نہیں وہ نواز شریف،مولانا فضل الرحمن اور دیگر رہنمائوں کے بارے میں جو زبان استعمال کر تے ہیں یقیناً اس سے ان کے کارکن تو اس سے خوش ہوتے ہوں گے لیکن جس پڑھے لکھے اور آسودہ حال طبقہ نے ان کو ووٹ دیا ہے وہ ان کی تضادات پر مبنی سیاست کی وجہ سے ان سے مایوس ہو گئے ہیں عمران خان کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں محض الزام تراشی کی سیاست سے وہ لوگوں کے دلوں میں مقام پیدا نہیں کر سکتے وہ خیبر پختونخوا میں گڈ گورنس سے اپنے صوبے کو ماڈل کے طور پر پیش کر سکتے تھے لیکن خیبر پختونخواحکومت کا سربراہ پچھلے دو ماہ سے شاہراہ دستور پر دھرنے میں بیٹھا ہے ہر شب عمران خان کے جلسہ کے سامعین کا انتظام کرنے میں مصروف رہتا ہے عمران خان نے اپنی جماعت کے ارکان سے قومی وسندھ و بلوچستان اسمبلیوں میں استعفے تو دلوا دئیے ہیں لیکن پرویز خٹک نے خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد دلوا کر استعفوں کی نوبت ہی نہیں آنے دی دلچسپ امر یہ ہے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق تحریک انصاف کے مستعفی ہونے والوں کے استعفوں کے انتظار میں سارادن اپنے دفتر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن وہ اپنے استعفوں کی تصدیق کے لئے سپیکر آفس کا رخ نہیں کررہے عمران خان موجودہ قومی اسمبلی کو جعلی بھی قرار دیتے ہیں اور اس کی رکنیت کو بھی ختم کرانے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے بدقسمتی سے عمران خان کو غلط فہمی ہو گئی ہے کہ وہ ذالفقار علی بھٹو کی طرح مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اس لئے وہ کسی کو خاطر میں نہیں لا رہے پاکستان میں صدارتی نظام نہیں پارلیمانی نظام ہے جس جماعت کے پاس منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچنے والوں کی اکثریت ہوگی وہی جماعت انتخابی معرکہ مارے گی بصورت دیگر 76لاکھ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود 34نشستیں ہی حاصل کر سکے گی گو نواز گو کے نعرے میں ان کے کارکنوں میں کشش پائی جاتی ہے تو مسلم لیگی کارکن بھی گو عمران گو کے نعرے لگا کر اپنے غصے کا اظہار کرسکتے ہیں لیکن نعرے بازی کی سیاست بالآ خر تصادم کی طرف لے جاتی ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اب تک سمجھ داری کا ثبوت دیا ہے کہ سیاسی ماحول میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے ورنہ مولانا فضل الرحمن تو شاہراہ دستور پر قبضہ ختم کرانے کے لئے اپنے دینی مدارس کے طلبا کو اسلام آباد آنے کی کال دینے کی اجازت مانگتے رہے لیکن وزیر اعظم انہیں صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے رہے اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں عمران خان نے بڑے جلسے منعقد کر کے اپنے سیاسی مخالفین پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے وہ اپنے جلسوں کی رونق بڑھانے کے لئے تمام ہتکھنڈے بھی ا ستعمال کر رہے ہیں لیکن وہ جلسوں کی حاضری کو1968ء اور 1977ء کی تحریک میں تبدیل کر سکے وہ جلسوں میں رونق میلہ تو لگا دیتے ہیں لیکن اس حاضری کو سیاسی قوت نہیں بنا سکے جو نواز شریف حکومت کا اقتدار ختم کر سکے سکرپٹ رائٹر نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لا کھڑا کر کے ان کے لئے باعزت واپسی کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا کچھ حاصل کئے بغیر ان کی اسلام آباد سے واپسی سیاسی خود کشی ہے اس لئے دونوں نے دھرنے کو جلسہ جلسہ کے کھیل میں تبدیل کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے آنے والے دنوں میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی گونواز گوکی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس سوال کا جواب مل جائے گا۔