65 ء اور 71 ء کی جنگوں کے بعد ایک بار پھر شہر اقبال سیالکوٹ بھارتی جارحیت کی زد میں ہے۔ اب تک تو پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن اچانک بھارت نے ورکنگ باؤنڈری پر گولہ باری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں 20 ہزار سے زائد شہری ورکنگ باؤنڈری سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ بھارتی فائرنگ سے کمسن بچے بھی شہید ہوئے ہیں اور کئی زخمی بچے اور خواتین ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ درجنوں مکانات کو بھی بھارتی گولہ باری سے نقصان پہنچا ہے۔
65 ء کی پاک بھارت جنگ میں جسے عالمی سطح پر کشمیر کے لئے دوسری جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ بھارت کے فرسٹ آرمڈ ڈویژن نے سیالکوٹ پر حملہ کیا تھا۔ بھارتی اپنے فرسٹ آرمڈ ڈویژن کو فخر ہندوستان کے نام سے پکارتے تھے۔ چونڈہ بھارتی حملہ کا ہدف تھا۔ لیکن پاکستان کے چھٹے آرمڈ ڈویژن نے فخر ہندوستان کا سارا گھمنڈ خاک میں ملا دیا تھا۔ چوندہ میں فخر ہندوستان نے سینکڑوں ٹینک پاکستان کے خلاف جنگ میں جھونک دیئے تھے۔ پاکستان نے نہ صرف اس حملے کو ناکام بنایا بلکہ بھارت اپنے ایک سو ٹینک تباہ کرانے کے بعد پسپا ہوا۔ پاک فوج نے پسپا ہوتی ہوئی بھارتی فوج کا پیچھا کیا اور مار بھگایا۔ بھارت کے سیالکوٹ اور لاہور دونوں شہروں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ اس کے لئے ایک بھیانک خواب بن گیا۔
نریندرا مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ پنگا لینا شروع کر دیا ہے۔ نریندرا مودی نے حال ہی میں واشنگٹن کے دورے میں امریکہ کے ساتھ جو سمجھوتے کئے ہیں ان کے بعد مودی کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ واشنگٹن میں امریکہ اور بھارت دونوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون پر جو مفاہمت کی ہے اس کا مرکز پاکستان کو بنایا ہے۔ دونوں نے مل کر پاکستان میں موجود گروپوں کے خلاف تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
بھارتی وزیر داخلہ ارون جیٹلے جو بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھے ہسپتال سے آنے کے بعد پاکستان کے خلاف بے حد جارحانہ بیان دیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع نے الٹا پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ پاکستانی رینجرز بھارتی علاقہ میں گولہ باری کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر دفاع نے یہ پرانا الزام دہرایا کہ پاکستان ورکنگ باؤنڈری سے دہشت گرد بھارت میں داخل کر رہا ہے ان دہشت گردوں کو کور دینے کے لئے پاکستانی رینجرز اور فوج بھارتی علاقہ میں فائرنگ کرتی ہے۔
نریندرا مودی کے امریکہ یاترا کے بعد تیور بدلے ہوئے لگتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے اور خطے میں امن کا ماحول پیدا کرنے کی پیشکش کا نریندرا مودی نے مثبت جواب نہیں دیا۔ پاکستان کی فوج اس وقت مغربی سرحد کے ساتھ پاکستانی علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے آپریشن کر رہی ہے۔ ممکن ہے کہ بھارت نے یہ سوچا ہو کہ چونکہ پاکستانی فوج کی توجہ اس وقت وزیرستان پر مرکوز ہے اس لئے اس نے موقع غنیمت جان کر ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہو لیکن پاکستان کی دفاعی افواج کی دفاعی منصوبہ بندی میں مشرقی سرحد مغربی سرحد کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس لئے بھارت کو اندازے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔
امریکی محکمہ خارجہ روایتی طور پر یہ بیان دے رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعہ سرحدوں پر موجود کشیدگی کو ختم کرنا چاہئے لیکن کیا واشنگٹن نریندرا مودی کو یہ پیغام نہیں دے سکتا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا ایک اہم حریف ہے جس نے گزشتہ دس سالوں میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ امریکہ نے پاکستان کو اپنا نان نیٹو حریف بھی قرار دے رکھا ہے۔ اسے اپنے اس حریف کو دو سرحدوں سے دباؤ کا جو سامنا ہے اس دباؤ کو ختم کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنا چاہئیں۔ نریندرا مودی کو واشنگٹن کے دورہ سے جو شہہ ملی ہے وہ اس علاقے میں امن کو تہ و بالا کر سکتی ہے۔ مودی چین اور پاکستان کے علاوہ دوسرے ہمسایہ ملکوں پر بھی رعب جمانے کی پالیسی اپنا سکتے ہیں۔ 1965 ء میں تو پاکستان کی فوج بھارتی فوج کے مقابلے میں بہت کمی تھی اور اس کے پاس فوجی سازو سامان بھی کم تھا اس کے باوجود اس نے بھارت کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا اب تو پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیان کے بعد ایک بھارتی مبصر نے بھارتی وزیر دفاع کو خبردار کیا ہے کہ انہیں ذہن میں رکھنا چاہئے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔