شری رحمن
وہ دل جلی دھوبن میرے پاس آکر بیٹھ گئی اور رونے لگی۔
میں نے پوچھا کیا ہوا؟
کہنے لگی بھٹو صاحب نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا؟۔
ہیں ؟ یہ بھٹو صاحب نے کونسا وعدہ تیرے ساتھ کیا تھا؟ میں اور بھی حیران ہوئی۔
جب الیکشن ہو رہے تھے تو انہوں نے ہمارے علاقے میں بہت بڑا جلسہ کیا تھا۔ سارے غریب اس جلسے میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ انہوں نے سب سے وعدے کئے تھے جس کو جو چاہئے میں دوں گا۔ میں نے بھی رو رو کر کہا تھا مائی باپ مجھے سونے کے کنگن پہننے کی بڑی حسرت ہے۔ میرا دھوبی شوہرتو مجھے بمشکل روٹی ہی دیتا ہے۔آپ میری یہ حسرت پوری کر دیں مگر اب تین سال ہو گئے ان کی حکومت کو مجھے میرے کنگن نہیں ملے
میں نے اس کے شوہر کو بلا کر سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو سمجھائے۔ ایسی باتیں ممکن نہیں ہوتیں۔اس نے کہا باجی جی میں اسے روز سمجھاتا ہوں مگر کوئی بات اس کی کوڑھ مت میں آتی نہیں۔
یہ 1972ء کا زمانہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت طلسماتی تھی۔ انہوں نے نچلے طبقے اور مزدور طبقے کو جھنجوڑ کر جگا دیا تھا۔ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے میں بڑی کشش تھی۔ حتیٰ کہ دھوبن جیسی غریب عورتیں بھی اپنے آگے خواہشوں کا ڈھیر لگا بیٹھی تھیں۔ ممکن ہے کسی ورکر نے اسے یونہی تسلی دیدی ہو مگر وہ جب بھی میرے ہاں آتی سونے کے کنگنوں کا رونا ضرور روتی۔
اگرچہ روٹی کپڑا اور مکان ایک نعرہ ہی رہا مگر محنت کش طبقہ بھٹو صاحب کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ یہ محرومیوں کا مارا ہوا طبقہ تھا اور آج تک کسی نے اس کے ساتھ اس قسم کی محبتوں کا اظہار نہیں کیا تھا۔
یہ اور بات ہے پایۂ تخت سنبھانے کے بعد جناب ذوالفقار بھٹو صاحب کو پارلیمنٹ کے اندر جاگیرداروں وڈیرووں سرداروں اور سیاسی خاندانوں کی ضرورت ہی محسوس ہوئی۔
تب سے لیکر اب تک غریب کی بگڑی کیوں نہ بن سکی۔ یہ ایک طویل بحث ہے۔ ہم اس میں الجھنا نہیں چاہتے مگر اتنا ضرور ہوا کہ غریبوں کو اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس ہو گیا۔ ہر لیڈر اپنے جلسوں میں غریبوں کو لبھانے والی باتیں کرنے لگا اور ان کی تقدیر بدلنے کی باتیں کرنے لگا۔
بھٹو صاحب کے بعد بیداری کا نعرہ لیکر اب عمران خان اٹھے ہیں۔ عمران خان نے متوسط طبقے اور نچلے متوسط طبقے کو جگایا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کے اندر کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اپنی عورتوں کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں۔ خواتین جدید فیشن بھی کرتی ہیں اور قدیم روایات کا بھرم بھی رکھتی ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کے اندر خو کفالتی کی اکڑ فو بھی ہوتی ہے اور ڈگریوں کا غرور بھی یہ طبقہ الیکشن کے دنوں میں چھٹیاں گزارنے چلا جاتا تھا یا جس روز پولنگ ہوتی تھی مرد کلب میں جا بیٹھتے تھے اور عورتیں ٹی وی لگا کے فلمیں دیکھتی تھیں یا سلائیاں اور چلغوزے اٹھا کر آتش دان کے آگے جا بیٹھتی تھیں۔ سوائے ان چند لوگوں کے جن کے دوست یا محلے دار انہیں ووٹ ڈالنے پر مجبور کرکے لے جاتے تھے۔
پولنگ کے روز جدید کالونیوں میں رہائش پذیر ان کھاتے پیتے لوگوں کے گھروں میں جا کر میں نے خود انہیں باہر نکالنے کی کوشش کی تھی مگر انہوں نے مجھے صاف کہہ دیا تھا کہ ایسے لُچے لفنگوں اور کرپٹ لوگوں کو ہم کیوں ووٹ دیں۔ انہوں نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟ میں بہت کہتی تھی آپ کا ووٹ کوئی اور بھگت جائے گا تو وہ کہتے تھے ہماری بلا سے عمران خان نے اس طبقے کو باہر نکالا ہے۔ ان کو ووٹ کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ خاص طور سے خواتین اور نوجوان بہت پُرجوش ہوکر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ کھاتا پیتا اور تعلیم یافتہ طبقہ منافق نہیں ہوتا۔ جس طرح ان کا رہن سہن اور معاشرت ہے اس طرح اسی وضع قطع میں یہ باہر نکل آئے ہیں۔ عورتوں کے ملبوسات سنگھار اور فیشن پر بہت طنز کیا گیا جو غیر ضروری تھا۔ عمران خان کے سوا اس طبقے کو کوئی اپیل نہیں کر سکا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان برسراقتدار آکر اس طبقے کے خوابوں کو تعبیر عطا کرے گا یا بھٹو صاحب کی طرح اپنے طبقے کو مایوس کرے گا۔ ہمارے ہاں عام طورپر راستہ بہت گرمجوشی سے طے کیا جاتا تھا مگر منزل پر پہنچنے میں گھوڑا بے حال ہو جاتا ہے۔ پھر اسے وہی تھکے ہوئے بیور کریٹ برتے ہوئے سیاسی وڈیرے اور استعمال شدہ اہل قلم درکار ہوتے ہیں۔
عمران خان کو ابھی نچلے طبقے کو مسخر کرنا ہے اور پسماندہ علاقوں کی طرف رخ کرنا ہے۔
دوسری نئی رسم جو عمران خان نے اپنے جلسوں میں شروع کی وہ ترانے اور ان پر بھنگڑا یا ہلچل ہے ماحول گرمانے کیلئے سلوگن نعرے اور ترانے کام آتے ہیں پارٹی کے جھنڈوں کے علاوہ چہروں پر پارٹی سلوگن کے ٹیٹو بنوانا اور مختلف طریقوں سے پارٹی یا لیڈر کیلئے عقیدت کا اظہار کرنا اسی کے جلسوں میں شروع ہوا۔
پھر تمام سیاسی پارٹیوں میں یہی عمل دہرایا جانے لگا۔ ترانے رقص بھنگڑا ڈھول اور ٹیٹو گویا عمرن خان کی اس طرح کی سیاست کو پسند کیا گیا۔ سارے سیاسی جلسوں کا پیٹرن یہی بن گیاحتیٰ کہ بلاول بھٹو کے 18 اکتوبر والے جلسے میں ہو بہو اس کی نقل اتاری گئی اگر یہ طریق کار بہت مقبول ہوگیا تو مذہبی جماعتوں کو بیٹھ کر سوچنا پڑے گا کہ وہ اپنے جلوسں کو جمانے کیلئے اور کئی کئی گھنٹے سامعین کو بٹھانے کیلئے کونسا لائح عمل اختیار کریں گے۔
تیسری اہم بات جلسوں میں بولی گئی زبان ہے۔ کیا اس میں تہذیب اور شائستگی بدرجہ اتم موجود ہے۔ آپ پاکستانی عوام کو کچھ بھی کہ لیں لیکن یہ پاکستان ان عوام کی وجہ سے قائم ہے جو کسی لیڈر کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیتے۔ اردو کے علاوہ کسی زبان میں تقریر سننا پسند نہیں کرتے۔ وہ سندھی ہوں بلوچی ہوں پختون ہوں بروہی ہوں گلگتی ہوں سرائیکی ہوں پنجابی ہوں یا پوٹھوہاری کیونکہ قائداعظم نے کہہ دیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی اور سارے پاکستانی اردو کو خوب سمجھتے ہیں۔ کئی لیڈر آئے جو بقول شخصے انگلش میڈیم تھے ان کی بات کسی نے نہیں سنی۔ خواہ وہ فوجی آمر تھے انگریزی لب و لہجہ اٹھایا مگر عوام نے نفی کر دی۔ انہیں اردو سیکھنی پڑی۔ محاورہ درست کرنا پڑا۔ اردو زبان پر جناب ذوالفقار علی بھو کو بہت دسترس تھی۔ وہ سارے پاکستان میں گھوم کر اپنی کمپین چلاتے تھے اور اردو زبان میں تقریر کرتے تھے محترمہ بی بی صاحبہ کو شروع میں اردو صحیح بولنے میں دقت ہوئی مگر وہ جلدہی سلیس اردو میں تقریر کرنے لگ گئی تھیں۔ باقی جو امپورٹڈ لوگ آئے تھے شوکت عزیز جیسے جن کو اپنی انگریزی دانی پر بڑا فخر تھا ان کو بھی ہائوس کے اندر اور باہر اردو میں اظہار خیال سیکھنا پڑا تھا۔
اس لئے یہ بہت اچھا ہوا کہ بلاول بھٹو نے پہلی بار اتنی لمبی تقریر اردو میں کی۔
ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب پیش کیا تھا اور اس کی تعبیر جناب قائداعظم محمد علی جناح نے حاصل کر دی۔ اس لئے پاکستانی قوم کا مزاج شاعرانہ ہے۔ وہ شاعری کی زبان سمجھتے ہیں اور جی کھول کر داد دیتے ہیں۔ اس لئے بلاول بھٹو کی تقریر میں جابجا زبردستی بھی اشعار گھسیڑے گئے۔
جلسوں کے اندر جو صوبائی تعصب پھیلایا جاتا ہے اسے پاکستان کے عوام پسند نہیں کرتے۔ پاکستان کے عوام کے خیال میں پاکستان کے اندر ایک ہی عظیم لیڈر گزرے ہیں اور وہ ہیں جناب قائداعظم محمد علی جناحؒ۔ جو کچھ وہ کر گئے ویسا نہ کسی تجربہ کار لیڈر نے کیا نہ کسی نومولود لیڈر نے کیا۔ پاکستان کے اندر اول وآخر انہی کا نام لیا جائے گا۔ جو بھی لیڈر ان کو بابائے قوم نہیں سمجھے گا وہ کبھی عنان حکومت سنبھال نہیں سکے گا۔
پاکستان کی بنیاد شہیدوں کے لہو پر رکھی گئی۔ وہ شہید جن کی لاشوں سے گاڑیاں بھر بھر کر آتی تھیں وہ شہید جنہوں نے کنوئوں میں گر کر جان دیدی وہ شہید جو کرپانوں پر چڑھائے گئے اور وہ شہداء جو 65ء کی جنگ کے ہیرو ہیں جو 71ء کی جنگ کے ہیرو ہیں جو آئے دن برف پوش پہاڑوں لالہ زاروں اور سرحدوں پر شہید ہو رہے ہیں
وہ یونیفارم میں شہید ہوں یا عام کپڑوں میں انہوں نے اپنی شہادت کی قیمت کبھی نہیں مانگی۔ ان کی اولادوں نے احسان کبھی نہیں جتایا۔ نہ چیخ چیخ کر داد مانگی۔
شہادت کی قیمت دنیا والوں سے طلب نہیںکرتے شہیدوں کیلئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
جو مجھے طلب کرتا ہے پالیتا ہے۔
جو پہچان لیتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔
جو میراعاشق ہو جاتا ہے میں اسے مار ڈالتا ہوں۔
جس کو میں مار ڈالتا ہوں اس کی دیت مجھ پر لازم آتی ہے۔
میں ہی اس کی دیت ہوں۔
(حدیث قدسی)