پی سی بی میں چھایا جمود اب شائد ختم ہو جائے، چیئرمین معاف کیجیے گا سابق چیئرمین نجم سیٹھی 2 ماہ سے زائد عرصے تک وطن سے باہر رہنے کے بعد واپس آ چکے لہذا آئندہ چند روز میں کئی اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں،شہریارخان نے لفظی فائر تو خوب کیے مگر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، معین خان سمیت کئی آفیشلز کے ایک سے زائد عہدوں سمیت کئی معاملات پر انھوں نے کافی پہلے اقدامات کا اعلان کیا تھا مگر اب تو آسٹریلیا سے بُری طرح ہار چکے کچھ نہیں ہو سکا، گوکہ وہ کئی بار کہہ چکے کہ میں بااختیار چیئرمین ہوں نجم سیٹھی یا کسی اور کے کہنے پر نہیں چلتا مگر یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ملکی صدر ممنون حسین اپنے آپ کو وزیراعظم نواز شریف کے سامنے بااختیار کہیں، نجم سیٹھی کے دور میں ہی شہریارخان کی بورڈ میں دوسری انٹری ہو چکی تھی اس وجہ سے وہ ان کے زیراثر نظر آتے ہیں۔
ویسے بھی سابق سربراہ کے ساتھ شکیل شیخ و دیگر کئی اعلیٰ آفیشلز موجود ہیں،اگر شہریار خان نے قدم پھیلانے چاہے تو عمران خان سے بھی خطرناک اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا، ان دنوں نجم سیٹھی خود سیاسی معاملات کے سبب دباؤ کا شکار ہیں اور کرکٹ پچ پر کھل کر نہیں کھیل رہے، جیسے ہی حالات میں کوئی تبدیلی آئی شہریارخان کا کام مزید محدود اورصرف دستاویزات پر دستخط یا غیراہم دورے کرنا ہی رہ جائے گا، جیسے گذشتہ دنوں وہ بنگلہ دیشی حکام سے ٹور کی منتیں کرتے رہے حالانکہ کرکٹ میں ان کی کوئی اہمیت نہیں، ویسے تو مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں لگتالیکن اگر ٹیم آ بھی گئی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بی پی ایل میں شرکت سے پلیئرز فکسنگ کے سوا کیا سیکھیں گے، یا پھر معاوضے نہ ملنے کا رونا روتے رہیں گے، رہی بات بھارت کی تو وہ سرحدی حملوں اور منفی بیان بازی سے فارغ ہو تو ہمارے کرکٹرز کو آئی پی ایل میں کھلانے یا سیریز پر حامی بھرے گا۔ ہمارے اصل ایشوز ٹیم کے تھے جن سے چیئرمین نے نگاہیں پھیرے رکھیں، آسٹریلیا کی ٹیم کئی اسٹارز کے بغیر یو اے ای آئی مگر واحد ٹی ٹوئنٹی اور تینوں ون ڈے میچز جیت لیے، ہماری ٹیم 20اوورز میں9وکٹیں گنوا بیٹھی جبکہ تین میں سے ایک ون ڈے میں ہی50اوورز پورے کھیلے، اب ٹیسٹ کے 5دن میں کیا ہو گا یہ سوچ کر ہی پریشانی ہوتی ہے۔
مصباح الحق اپنی فارم کی فکر کریں یا ٹیم کی، یہ بھی اہم مسئلہ ہے، سعید اجمل موجود نہیں اب 20وکٹیں کیسے لیں گے یہ سوچ کر بھی کپتان کے ماتھے پر پسینے آ رہے ہوں گے، اے ٹیم کی فتح پر کینگروز کو آسان شکار سمجھنا سنگین غلطی ہو گی ٹیسٹ میں وہ بالکل مختلف روپ میں دکھائی دیں گے،لاکھوں روپے ماہانہ اور دیگر مراعات لینے والی کوچز کی فوج اب کیا کرے گی یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا، سابق چیئرمین نے 10افراد کی ٹور مینجمنٹ بنائی تو نئے سربراہ نے ڈرتے ڈرتے صرف ایک فرد کو کم کیا، حالانکہ وہ کئی بار کہہ چکے تھے کہ افراد زیادہ ہیں، اسپن کوچ مشتاق احمد کو لاہور میں سعید اجمل کے ساتھ ہونا چاہیے تھا مگر وہ یو اے ای میں مزے کر رہے ہیں۔ شہریار خان نے صرف ایک بار اپنی اتھارٹی دکھائی مگر بیچارے شاہد آفریدی زد میں آ گئے، گذشتہ دنوں کراچی میں یونس خان نے بورڈ اور آفیشلز کا تیا پانچاکر دیا خوب جگ ہنسائی ہوئی مگر ڈر کے مارے ان کی سخت الفاظ میں سرزنش بھی نہیں کی گئی، پی سی بی کو خوف تھا کہ اس سے نیا محاذ کھل جائے گا۔
سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی جائے بھاڑ میں چپ کر کے بیٹھے رہو،اس سے قبل احمد شہزاد کیخلاف بھی کارروائی کا اعلان ہوا مگر معاملہ خاموشی سے دبا دیا گیا، آفریدی چونکہ انفرادی کارکردگی کے سبب دباؤ کا شکار ہیں لہذا ریڈار میں آ گئے، شہریار خان نے انھیں خوب باتیں سنائیں، یہ تک کہہ دیا کہ ان کی کارکردگی اچھی نہیں ٹیم میں جگہ بنتی بھی ہے یا نہیں یہ دیکھیں گے ، میں ان سے یہ پوچھتا ہوں کہ مصباح سمیت اس وقت ٹیم میں کتنے ڈان بریڈمین موجود ہیں، کس پلیئر کی کارکردگی غیرمعمولی ہے؟ ایسے میں صرف ایک کو طعنہ دینے سے کچھ نہیں ملنے والا، نجم سیٹھی کے بعد شہریارخان بھی مصباح مصباح کی رٹ لگائے ہوئے ہیں، یہ بات لکھ لیں کہ اگر وہ کپتان رہے تو ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کا کچھ نہیں ہو سکتا، کوارٹر فائنل کھیل لیا تو سمجھیں ٹرافی جیت لی، آفریدی نے تیسرے ون ڈے میں قیادت کی تو واضح فرق نظر آیا، ٹیم تقریباً جیت ہی گئی تھی مگر آخر میں بعض غلطیوں کے سبب ایک رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، بجائے آل راؤنڈر کی ستائش ہوتی الٹا ایک بیان کو جواز بنا کر بے عزت کیا گیا، آفریدی نے کچھ غلط نہیں کہا تھا۔
یہ بورڈ کا کام تھا کہ وہ پریس ریلیز جاری کرتا کہ مصباح آرام اورتیسرے ون ڈے میں آفریدی قیادت کریں گے،ایسا صرف ایک میچ کیلیے ہوگا، بورڈ نے خود سستی کا مظاہرہ کر کے غیریقینی پیدا کی، دنیا کی ہر ٹیم کے ساتھ میڈیا منیجر ہوتا ہے،جیسے چیمپئنز لیگ میں لاہور لائنز کے ساتھ بھی تھا۔دورۂ یو اے ای کی اتنی بڑی ٹیم آفیشلز کی فوج میں سے کسی ایک کو ڈراپ کر کے بورڈ میڈیا منیجر ساتھ بھیج سکتا تھا مگر ایسا نہ کیا گیا، اسی وجہ سے آفریدی کے بیان جیسی صورتحال پیش آئی، اگر کوئی ساتھ ہوتا تو انھیں پہلے ہی اس حوالے سے رہنمائی فراہم کر دیتا، ویسے تیسرا ون ڈے نہ کھیل کر مصباح نے کوئی اچھی مثال قائم نہیں کی، سینٹرل کنٹریکٹ میں یہ بات موجود ہے کہ کوئی پلیئر کھیلنے سے انکار نہیں کر سکتا، مگر اس خلاف ورزی پر بھی دانستہ آنکھیں بن کر لی گئیں، اب اگر پہلے ٹیسٹ میں فلاپ ہونے پر وہ دوسرا میچ کھیلنے سے منع کر دیں تو بورڈ کسے ذمہ داری سونپے گا، مصباح کو بہادر بن کر مرد کی طرح مقابلہ کرنا چاہیے، ڈر کر میدان چھوڑ کر بھاگنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ملکی کرکٹ کے معاملات اس بُری طرح طرح بگڑ چکے کہ اب انھیں سنبھالنا آسان نہیں ہے، دھرنوں اور جلسوں نے حکومت کی ناک میں دم کیا ہوا ہے، ایسے میں کرکٹ پر توجہ دینے کا کس کے پاس وقت ہے، جلد بہتری کی کوئی امید نظرنہیں آتی لہذا شائقین صرف اچھے وقتوں کا انتظار ہی کر سکتے ہیں