منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پرائیویٹ ممبرز ڈے تھا حسب معمول قومی اسمبلی کا اجلاس 25 منٹ کی تاخیر سے سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جب اجلاس شروع ہوا تو ایوان کا کورم بھی پورا نہیں تھا۔ وزراء سمیت پارلیمانی قائدین کی فرنٹ لائن خالی پڑی تھی۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف دوسرے دن بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آئے۔پارلیمنٹ کی پریس گیلری میں یہ تبصرہ کیا جا رہا ہے دھرنوں میں شرکاء کی تعداد کم ہوتے ہی وزیر اعظم نواز شریف دبائو سے نکل آئے ہیں۔ وفاقی وزراء میں صرف وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی زاہد حامد سکندر حیات بوسن میاں بلیغ الرحمن عبدالقادر بلوچ امین الحسنات خواجہ سعد رفیق ایوان میں موجود تھے۔ ایم کیو ایم کی سمن سلطانہ نے داعش کی کراچی میں چاکنگ پر تشویشناک کا اظہار کیا ، پی پی پی کے عمران ظفر لغاری نے کہا کہ وزراء کی حاضری کم ہے۔ سینٹ میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈررضا ربانی نے کہا ہے کہ حکومت نے موجودہ بحران سے کوئی سبق نہیں سیکھا ، وزراء آج بھی پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے ، ان کیلئے سینیٹ کے اجلاس سے زیادہ اہمیت وزیراعظم ہائوس میں ہونے والے اجلاس کو ہے۔