متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 2 ٹیسٹوں کی سیریز پاکستان کی جیت پر ختم ہو گئی سیریز میں ریکارڈز کی بارش ہو گئی دنیا میں پانچ پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی ہوتی رہی ہیں اور ہوتی ہیں مگر اتنے ریکارڈز تو دنیا کی ٹیسٹ کرکٹ میں پہلے کبھی نہیں بنے اگر ان دو ٹیسٹوں کے ریکارڈ لکھنے بیٹھ جاﺅں تو شاہد 10 صفحے درکار ہوں وہ وہ ریکارڈ بنے ہیں اور وہ ریکارڈ ٹوٹے ہیں جب مخالف یتیم ہو تو تگڑی ٹیم نے ریکارڈ پر ریکارڈ بننا قدرتی امر ہے میں یہ فقرہ لکھ کر پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس پر پانی نہیں پھیرنا چاہتا۔ پاکستان اچھا کھیلا مگرآسٹریلیا کی موجودہ ٹیم نئی تھی صرف دو کھلاڑی کلارک اور وارنر انٹرنیشنل کرکٹ کھیل چکے ہیں بقیہ ٹیم سپروں کو نہیں کھیل سکتی تھی اسی لئے ذوالفقار بابر سے سیریز میں 14 وکٹ اور یاسر شاہ نے 12 کھلاڑیوں کو آٹ کیا اور سعید اجمل کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اور جتنے ریکارڈ اس سیریز میں بنے وہ سب اچھے ہیں مگر میرے نزدیک یونس خان کے دو میچوں کی سیریز میں 468 رنز اور مصباح کی 21 گیندوں پر نصف سنچری اور 56 گیندوں پر سنچری واقعی بہت بڑے ریکارڈ کہے جا سکتے ہیں اور پاکستان کی طرف سے دو میچوں کی سیریز میں پاکستانی بیٹسمیوں کی 9 سنچریاں بھی کمال ریکارڈ ہے۔ پاکستانی کی اتنی بڑی پرفارمنس کے بعد ٹیم کے سٹاف یعنی منیجر کوچوں اور بقیہ ظفر موج کی نوکریاں بچ گئی ہیں وگرنہ پھر t20 اور 3 ون ڈے میچ اس ٹیم سے ہارنا بہت شرمندگی کی بات تھی،نئے لڑکوں نے عمدہ پرفارمنس دی مگر یہ نہیں بھولنا چاہئے آگے ورلڈ کپ 50 اووروں کا میچوں کا ہے جس میں آسٹریلین کی اس کمزور ٹیم نے پاکستان کو ایک میچ بھی نہیں جیتنے دیا۔